تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
دیش

عالمی یوم آبادی پر اے ایم یو میں لیکچر کا اہتمام، نوجوانوں کے تفویض اختیارات اور آبادیاتی چیلنجوں پر گفتگو

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مرکز برائے تعلیم بالغاں (سی سی اے ای ای) نے عالمی یوم آبادی 2025 کے موقع پر پروفیسر نسیم احمد خاں، سابق چیئرمین، شعبہ سوشل ورک کے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔پروفیسر نسیم احمد خاں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی یوم آبادی ہر سال 11 جولائی کو آبادی میں اضافے اور اس کے سماج و ماحولیات پر اثرات کی طرف توجہ دلانے کے لیے منایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دن پہلی بار 1989 میں منایا گیا تھا اور یہ اہم آبادیاتی مسائل و رجحانات کو اجاگر کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
پروفیسر خان نے کہا کہ اس وقت دنیا کی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، اور اگر اس میں بغیر کسی روک ٹوک کے اضافہ ہوتا رہا تو اس کے ماحولیاتی پائیداری، وسائل تک رسائی اور معیارِ زندگی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ آبادی میں اضافے سے ماحولیات اور قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن دنیا بھر کی حکومتوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کی ہیں۔ اس کے باوجود، آبادی میں مسلسل اضافہ صحت، رہائش، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں میں چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے اس سال کے عالمی یوم آبادی کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو باخبر تولیدی فیصلے کرنے کے لیے حقوق اور وسائل مہیا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آخر میں سنٹر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمیم اخترنے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔