Connect with us

Bihar

مفتی محمد جاوید اقبال کی علمی کاوش ’’تکبیر الرحمن شرح تیسیر القرآن‘‘ منظرِ عام پر

Published

on

مونگیر:حضرت مولانا عبد الصمد رحمانیؒ کی معروف نصابی تصنیف ’’تیسیر القرآن‘‘ کی جامع اردو شرح ’’تکبیر الرحمن شرح تیسیر القرآن‘‘ شائع ہوکر اہلِ علم، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ 556 صفحات پر مشتمل اس شرح کے مؤلف جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذِ حدیث مفتی محمد جاوید اقبال قاسمی ہیں، جنہوں نے برسوں کی تدریسی تجربات اور محنت کے بعد اسے مرتب کیا ہے۔ اس علمی کاوش کی تکمیل پر امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی،دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے گہری مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
’’تیسیر القرآن‘‘ کا بنیادی مقصد طلبہ کو فہمِ معانی قرآن کریم سے قریب کرنا اور انہیں مفردات قرآنی ، معانی، مادّوں، صرفی صیغوں اور نحوی تراکیب سے روشناس کرانا ہے۔ اس میں غیر مکرر قرآنی الفاظ کو بنیاد بناکر قرآن کی لغوی ساخت سے واقفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ کتاب عربی و علومِ دینیہ کے طلبہ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
’’تکبیر الرحمن‘‘ میں قرآنی اقتباسات کا سلیس ترجمہ، لغوی و صرفی تحقیق، مادّوں اور مشتقات کی وضاحت، واحد و جمع، نحوی ترکیب اور دقیق قرآنی تعبیرات کی تشریح پیش کی گئی ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات بھی شامل ہیں، جبکہ آخر میں بعض مشکل قرآنی مقامات کا حل پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ شرح ’’تیسیر القرآن‘‘ کو سمجھنے اور اس سے بھرپور استفادہ کرنے میں طلبہ و اساتذہ کے لیے ایک مؤثر معاون بن گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے ایک پریس بیانیہ میں کیا۔
اس علمی کاوش کو امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے قرآنی زبان سے مناسبت پیدا کرنے والا ایک اہم تدریسی و تربیتی سرمایہ قرار دیا۔ فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بھی اسے ’’تیسیر القرآن‘‘ کے مباحث کو آسان بنانے والی اہم شرح قرار دیا، جبکہ مولانا عبد الباسط محمد شرف الدین ندوی نے اپنی تحریر میں ’’تیسیر القرآن‘‘ کی علمی و تاریخی اہمیت اور ’’تکبیر الرحمن‘‘ کی ضرورت و افادیت کو اجاگر کیا ہے۔

مؤلف مفتی محمد جاوید اقبال قاسمی کے مطابق اس شرح کی تیاری کا مقصد طلبہ کو ’’تیسیر القرآن‘‘ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کا موقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے خصوصاً مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی کی حوصلہ افزائی اور روزانہ سبق کی تصحیح کا ذکر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ساتھ ہی مصنف نے اپنے اساتذہ و مشائخ، بالخصوص مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانیؒ، نیز جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث حضرت مولانا عبد السبحان صاحب رحمانیؒ اور مولانا مفتی محمد انظر حسین قاسمی کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ ادا کیا، جن کی حوصلہ افزائی سے یہ کام تکمیل تک پہنچا۔واضح رہے کہ مولانا نے اس کتاب پر کام کرنے کا سلسلہ ان بزرگوں کی حیات میں ہی شروع کر دیا تھا۔

اہلِ علم کے مطابق ’’تکبیر الرحمن شرح تیسیر القرآن‘‘ قرآن کریم کی لغوی، صرفی اور نحوی تعلیم کے میدان میں ایک مفید اضافہ ہے اور مدارس کے طلبہ، اساتذہ اور قرآن کریم کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کے خواہش مند اردو داں حضرات کے لیے نہایت سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔کتاب کی قیمت 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے دارالاشاعت خانقاہ مونگیر رابطہ کریں یا 7352174847 پر واٹس ایپ کریں۔

Bihar

چوتھی جماعت کی طالبہ سےچھیڑچھاڑ،ٹیچر گرفتار

Published

on

دربھنگہ: سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کی بھرہلی پنچایت واقع سرکاری مڈل اسکول، کورا میں چوتھی جماعت کی نابالغ طالبہ سے مبینہ چھیڑخانی کے معاملے پر بدھ کو زبردست ہنگامہ ہوگیا۔ واقعے سے مشتعل مقامی لوگوں نے اسکول کا گھیراؤ کرتے ہوئے ملزم سرکاری ٹیچر راجیش پاسوان کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔اہل خانہ کے مطابق طالبہ نے گھر پہنچ کر واقعے کی اطلاع دی۔ بعد میں 2 دیگر نابالغ طالبات کی جانب سے بھی ملزم سرکاری ٹیچر کے خلاف شکایت کی بات سامنے آئی۔ ملزم کے اسکول سے فرار ہونے پر لوگوں نے ہیڈ ماسٹر بٹکُریا موچی اور سرکاری ٹیچر وجے پاسوان پر اسے فرار کرانے میں مدد کرنے کا الزام عائد کیا۔
ہنگامے کی اطلاع پر سنگھواڑہ تھانہ صدر بسنت کمار پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر صدر ایس ڈی پی او-2 ایس کے سمن، سی او انکور رائے، سمری تھانہ صدر اروند کمار سمیت اضافی پولیس فورس کو بھی طلب کیا گیا۔ پولیس نے بھیڑ کو قابو میں کرکے صورتحال معمول پر لائی۔پولیس کے مطابق ملزم راجیش پاسوان کے خلاف پوکسو ایکٹ اور بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے سمری تھانہ پولیس کی مدد سے بھراٹھی سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بی ای او ونود کمار نے بتایا کہ ملزم سرکاری ٹیچر کی معطلی کی سفارش اعلیٰ افسران سے کی جارہی ہے۔
، جبکہ ہیڈ ماسٹر اور ایک دیگر سرکاری ٹیچر پر عائد الزامات کے سلسلے میں وضاحت طلب کی جارہی ہے۔

Continue Reading

Bihar

مرحوم ٹیچر کے اہل خانہ کو ڈسٹرکٹ ٹیچر ویلفیئر ٹرسٹ نے دی 75 ہزار کی امداد

Published

on

گیا۔ کونچ بلاک کے مڈل اسکول بالی کے ہیڈ ماسٹر مرحوم دیودت تیواری کے اچانک انتقال کے بعد ڈسٹرکٹ ٹیچر ویلفیئر ٹرسٹ نے ان کے اہل خانہ کو 75 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی۔
مرحوم دیودت تیواری کا گزشتہ منگل کو حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا تھا۔ وہ اپنے پیچھے اہلیہ آرادھنا تیواری، بارہویں جماعت میں زیرِ تعلیم بیٹا اور دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔ مرحوم خاندان کے واحد کمانے والے فرد تھے۔
انتقال کی اطلاع ملنے پر ٹرسٹ کی ہنگامی میٹنگ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے مرحوم کی روح کے اطمینان کے لیے دعا کی گئی اور ضابطے کے تحت 75 ہزار روپے کی امداد کا فیصلہ کیا گیا۔
ٹرسٹ کے صدر منوج کمار سنہا، سکریٹری اروند کمار، بانی رکن و ضلع نائب کوآرڈینیٹر اشوک کمار، خزانچی سرپرست اروند پرساد اور ضلع کوآرڈینیٹر محمد حیدر علی خان کی قیادت میں وفد پٹنہ کی شیوپوری کالونی میں مرحوم کے آبائی مکان پہنچا، جہاں اہلیہ آرادھنا تیواری کی موجودگی میں ان کی بیٹی اپراجیتا کماری کو 75 ہزار روپے کا چیک سونپا گیا۔
اس موقع پر ٹرسٹی ویرندر کمار، جتیندر کمار، ڈاکٹر نریندر دیو، منوج کمار نرالا، نیہا کماری، سریندر کمار چودھری اور میڈیا انچارج ابو فیصل سمیت متعدد اساتذہ موجود تھے۔ ٹرسٹ کے عہدیداران نے کہا کہ مشکل وقت میں کسی ساتھی استاد کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہی حقیقی ہمدردی ہے۔ انہوں نے ضلع کے تمام اساتذہ سے ٹرسٹ سے جڑنے کی اپیل بھی کی۔

Continue Reading

Bihar

ملک بھر میں موجود سیکڑوں غیر قانونی عمارتیں منہدم کیوں نہیں کی جاتیں؟،محض مسلمانوں کو نشانہ بناکر ان کے مذہبی مقامات پر کیوں چلائے جارہے ہیں بلڈوزر،سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع قدیم تاریخی مسجد کی شہادت پر حضرت امیرِ شریعت کا سخت ردِعمل

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطے میںواقع ایک قدیم تاریخی مسجد کو رات کے اندھیرے میں شہید کیے جانے پر امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ پولیس کی یہ آمرانہ کارروائی آئین و دستور کے قطعاً خلاف ہے،عبادت گاہ تحفظ ایکٹ 1991ء میں اس کی صراحت موجود ہے کہ 1947ء کے بعد کسی بھی عبادت گاہ کو منہدم کرنا قانونی طور پر جرم ہے،اس مسجد کو شہید کرکے انتظامیہ نے آئین اور قانون کی بالادستی کا مذاق اڑایا۔
حضرت امیرِ شریعت نے مزید فرمایا کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنا ہی مسئلہ کا حل ہے تو پھر ہندوستان بھر میں سیکڑوں غیر قانونی عمارتیں، مذہبی تعمیرات بنی ہوئی ہیں، انہیں کیوں نہیں منہدم کیا جارہاہے ؟ صرف اقلیتی طبقوں کی عبادت گاہوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کیا یہ اصولِ انصاف و مساوات کے خلاف نہیں ہے؟حکومت کسی کی بھی ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی بھی مذہبی یا عوامی عمارت کے خلاف کارروائی شفاف، غیر جانب دار اور مقررہ قانون کے طریقۂ کار کے مطابق ہی ہونی چاہیے،جبکہ سہارنپور کی یہ مسجد وقف بورڈ کے اندراج رجسٹر میں وقف کے طور پر درج ہے، اس کے پختہ کاغذات اور دستاویزات بھی شہادت دیتے ہیں کہ یہ زمین جناب یعقوب خان اور جناب وحید خان کے نام سے ہے، اس کے باوجودسیٹی مجسٹریٹ نے 16 جولائی کو مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر تیس دن کے اندر ہٹانے کا حکم دے دیا، مسجد کمیٹی نے عدالت کے سامنے کاغذات، بلدیاتی ریکارڈ اور پرانے ریونیو اندراجات پیش کیے، مگر انہیں نظرانداز کر دیا گیا، انتظامیہ کمیٹی اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہی تھی کہ اسی دوران سرکاری عملے نے بھاری فوج کے ذریعے بڑی عجلت میں علی الصبح مسجد کو منہدم کر دیا، جو کہ نہایت ہی افسوس ناک ہے،یہ کارروائی قانونی اور آئینی طور پر غلط تو ہے ہی حقوقِ انسانی کے بھی خلاف ہے۔
حضرت امیرِ شریعت نے مزید کہا کہ بی جے پی کے اختیار والی ریاستوں میں مساجد و مدارس کے خلاف کارروائیوں میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے،گزشتہ چند ماہ کے دوران اتر پردیش، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، آسام، گجرات اور مہاراشٹر وغیرہ میں ایسی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، یہ صورتِ حال ملک کے مذہبی و تہذیبی اقدار کے خلاف ہے،جبکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے واضح رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص یا عمارت کے خلاف کارروائی قانون کے مقررہ اختیار کے مطابق ہی ہونی چاہیے، کیونکہ قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی اور اہم ذمہ داری ہے،اگر مذہبی تعصب کی بنیاد پر کسی ایک طبقے کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے ملک میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوگی،اور ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network