تازہ ترین
بی جے پی ایم ایل اے ونے بہاری نے کھولا محاذ، وزیر اعلیٰ کے آنے تک جاری رکھیں گے احتجاججامعہ میں آسام چائے کے ہنر کے سلسلے میں مشاورتی اجلاسمساجد کونشانہ بنائے جانے کے خلاف جنتر منتر پراحتجاجپی یو سی کے بغیردستیاب نہیں ہوگا پٹرول اور ڈیزلپرویش ورما کے خلاف کیا گیا این سی آر درجشاہ اور ریکھا نے بارہ پلا فیز 3 ایلیویٹڈ کوریڈور کاکیا افتتاحپیپر لیک روکنے کے لیےسمراٹ حکومت کا بڑا فیصلہ، بہار کے29اضلاع میں قائم کئے جائیں گے امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روماے آئی ایس اے کا جے پی یونیورسٹی میں بدنظمی کے خلاف احتجاج
دلی این سی آر

جامعہ میں آسام چائے کے ہنر کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس

(پی این این)
نئی دہلی :آسام چائے کے باغات میں ’فیلڈ تک رسائی’‘اور ’مہارت سازی کے اقدامات‘ کو سمجھنے اور ابتدائی نتائج و طریقہ کار پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے سہ روزہ قومی مشاورتی اجلاس کا افتتاح مورخہ اٹھائیس ستمبر دوہزار چھبیس کو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے میر انیس ہال میں کیا گیا۔
 آئی سی ایس ایس آرکے طویل مدتی تحقیقی منصوبے ’’ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل مہارت سازی کے پروگراموں کے ذریعے آسام چائے کے باغات میں کام کرنے والے قبائل کی بااختیاری‘‘ کے تحت منعقدہ اس اقدام کا مرکز آسام کے ڈبروگڑھ اور لکھیم پور اضلاع میں چائے کے باغات کی کمیونٹیز ہیں۔
اس میں کھیت تک رسائی، چائے باغات کی نقشہ سازی، مہارت سازی کے موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے اور مناسب تربیتی طریقہ کار وضع کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ۔افتتاحی اجلاس کا آغاز محمد انضمام الحق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ پروفیسر کوشل کشور نے معزز مہمانوں اور شرکا کا خیرمقدم کیا اور پذیرائی و مہمان نوازی کے اظہار کے طور پر روایتی آسامی قبائلی ’گاموچا‘ پیش کیا۔ تقریب میں ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں پروفیسر ونوج ابراہام (چیئر برائے وزارتِ تجارت، سینٹر فار ڈیولپمنٹ اسٹڈیز، ترواننت پورم، کیرالہ) شامل تھے ؛ انھوں نے کلیدی خطبہ پیش کیااور مہارت سازی، روزگار اور سماجی و اقتصادی پہلوؤں پر بیش قیمت خیالات کا اظہار کیا۔ حکومتِ آسام کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈاکٹر ایم عارف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور چائے باغات کی کمیونٹیز اور ان کے روزگار کی ضروریات کے حوالے سے تحقیقی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ نے صدارتی گفتگو کرتے ہوئے اس اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تعلیمات کی ڈین پروفیسر انیتا رستوگی نے بھی اس موقع پر سامعین سے  خطاب کیا اور تعلیمی نقطہ نظر، فیلڈ کے تجربات اور تحقیق پر مبنی تفہیم کو یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر قاضی فردوسی اسلام نے تحقیقی منصوبے کا جائزہ پیش کیا اور اس اجلاس کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور مہارت سکھانے کے متعلقہ مواقع کی نشان دہی کرنے میں باہمی مشورے اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔
 پروجیکٹ ٹیم میں ڈاکٹر قاضی فردوسی اسلام بطور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر اور پروفیسر کوشل کشور، پروفیسر احرار حسین، پروفیسر نیودیتا گوسوامی، ڈاکٹر سمیر بابو اور ڈاکٹر زیبا تبسم بطور پروجیکٹ ڈائریکٹرز شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت کام کے مقامات آسام چائے کے باغات، خاص طور پر ڈبرو گڑھ اور لکھیم پور اضلاع میں واقع ہیں۔ ان مشاورتی اجلاسوں کا مقصد چائے باغات کے مقامات کی نشان دہی اور انتخاب میں معاونت کرنا ہے ، اور ساتھ ہی مرکزی مطالعے کے لیے فیلڈ تک رسائی کی حکمت عملیوں اور تربیتی طریقہ کار کو مستحکم کرنا بھی ہے۔
پورے ملک سے ماہرینِ تعلیم، پیشہ ور افراد، صنعت کے رہنماؤں، فیلڈ کے ماہرین اور عملی کام کرنے والوں کی شرکت سے اس پروگرام کو مزید تقویت ملی۔ ان میں ڈبرو گڑھ یونیورسٹی (آسام)، گوہاٹی یونیورسٹی (آسام)، او کے ڈی انسٹی ٹیوٹ آف سوشل چینج اینڈ ڈیولپمنٹ ( او کے ڈی آئی ایس سی ڈی)، چائے کے باغات اور زمینی سطح پر کام کرنے والی معروف غیر سرکاری تنظیمیں ، سکم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہرین شامل تھے۔
افتتاحی پروگرام کا اختتام پروفیسر احرار حسین کے اظہار تشکر پر ہوا جنھوں نے معزز شخصیات، مہمانوں، پروجیکٹ ٹیم کے اراکین اور شرکا کا ان کی شرکت اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا، جس نے کاروائی کو ایک باوقار انجام تک پہنچایا۔ افتتاحی پروگرام نے آسام میں چائے باغات کی برادریوں سے متعلق فیلڈ تک رسائی، مہارت سکھانے کے اقدامات اور تحقیقی طریقہ کار پر علمی مشاورت اور باہمی تبادلہ خیال کی بنیاد رکھی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔