امریکہ کے وسط مدتی الیکشن میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کراری ہار نے ثابت کردیا ہے کہ نفرت وتفریق کی سیاست کبھی مستحکم نہیں ہوسکتی ،ٹرمپ کی ہار اس بات کا بھی پیغام ہے کہ دنیا کی سوچ بہر حال انسانی بقا اور انسانی ہمدردی میں ہی مضمر ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں بھی غزہ کے قاتل نتن یاہو کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ وہاں بھی نئی تاریخ کا منظرنامہ طلوع ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بننے کا امکان ہے۔ جبکہ نتن یاہو یا اپوزیشن لیڈر دونوں ہی عرب جماعتوں کی حمایت سے گریز کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسرائیل کو سب سے بڑا جھٹکا ٹرمپ کی ہار سے لگا ہے۔ وہاں نفرت کی سیاست کو ایسی عبرتناک سزا ملی ہے۔ کہ امریکی سینٹ میں پہلی بار ایک مسلم عبدالرحمن السید کی فتح ہوئی ہے،یہ امریکہ کی ڈھائی سو سال کی تاریخ میںنئے باب کا اضافہ ہے۔ حیرت ہے کہ ٹرمپ اور اس کی پارٹی نے الیکشن جیتنے کے لئے نفرت کی انتہا کردی تھی۔ کوئی ہتھکنڈہ نہیں چھوڑا تھا،ٹرمپ کا سیدھا کہنا تھا کہ اگر کوئی مسلمان جیت کر سینٹ میں جائے گا تو امریکہ کے لئے خطرہ بن جائے گا۔ انھوں نے انتخابی جلسوں میں عبدالرحمن السیدکو جہادی قرار دیا تھا۔ ان کا تعلق دہشت گردوں سے قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کا صاف کہنا تھا کہ 9/11کے جہادیوں سے عبدالرحمن السیدکا تعلق ہے۔ مگر امریکہ کے عوام اور وہاں کی جمہوریت کو سلام کہ انھوں نے ٹرمپ کی نفرت کی سیاست کو سبوتاز کردیا ، بلاشبہ عبدالرحمن کی جیت امریکہ میں نئی فکرکی جیت ہے۔ جن کا چناوی ایشو تھا کہ اگر ہم جیت گئے تو فلسطین کے قاتلوں کو نہیں بخشیں گے۔ ان کی مراعات ختم کی جائیں گی۔ امریکی کانگریس میں غزہ کا مسئلہ اٹھایا جائے گا۔ امریکہ اسرائیل کے ہرکاز کی حمایت نہیں کرسکے گا۔ خاص بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی ہار کے بعد ریپبلکن پارٹی دو حصوں میں منقسم ہوگئی ہے۔ ایک بڑا خیمہ امریکی وزیر دفاع پر شدید تنقید کررہا ہے۔ ایران سے الجھنے کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا جارہا ہے۔ ایران امریکہ جنگ میں امریکی معیشت کی بدحالی کو آنے والے دور میں بڑا خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر ٹرمپ کی سبھی پالیسیاں اب امریکہ مخالف سمجھی جارہی ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں عبرتناک شکست ملی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ اور اب نیا منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی تیاری چل رہی ہے اور اسرائیل میں بھی نتن یاہو کے اقتدار کا آفتاب غروب ہوتا نظر آرہا ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کی ہار اور سیاسی زوال کا منظرنامہ ابھرنے کا اثر ہندوستان پر بھی پڑے گا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے لئے وہی کچھ کیا جو یہاں کی حکمراں جماعت کرتی آئی ہے،نفرت بھری دھمکیوں کی بھرمار کے علاوہ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر ہم جیت گئے تو ہر بالغ امریکی پانچ ہزار ڈالر ماہانہ دیں گے، لیکن امریکی عوام نے ٹرمپ کے اس لالچ کو بھی نظر انداز کردیا ۔ ٹرمپ کے اعلان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں کیا صورتحال ہے۔ وہاں بھی مہنگائی عروج پر ہے۔بے روزگاری کا سلسلہ ہے، ڈیموکریٹ جماعت کا مہنگائی ایشو تھا، اس کے علاوہ نفرت کی سیاست بھی ختم کرنے کی مہم تھی۔ ایک طرح سے درپردہ ٹرمپ کے خلاف ایک لہر چل رہی تھی۔ بڑے بڑے صنعت کار ٹرمپ کے پشت پناہ تھے۔ کئی اخبارات ٹرمپ کی پالیسیوں کے مداح تھے۔ لیکن خاص بات تو یہ ہے کہ اس وسط مدتی انتخاب میں امریکہ ایران جنگ سب سے بڑا یشو تھا جس کو خود نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے، عالمی سطح پر امریکہ کی خارجہ پالیسی کی ساکھ پر زبردست جھٹکا پہنچا ہے کہ ایران امریکہ جنگ سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔امریکی عوام اس جنگ سے سخت ناراض ہیں۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ٹرمپ ان علاقوں سے ہار گئے ہیں جو50 برسوں سے ریپبلکن پارٹی کے گڑھ کہے جاتے تھے۔ ٹرمپ کے سنکی پن اور نفرت کی سیاست کے خلاف جو لہر چلی تھی، اس کا نتیجہ ہوا کہ 12 مسلم امیدوار جیت گئے۔ جن میں 7 تو ہند نژاد ہیں۔ غازی آباد کی صبا حیدرجو20 سال پہلے امریکہ گئی تھیں آج وہ امریکی سیاست کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ان کاخاندان آج بھی سماج وادی خیمے کا حامی ہے۔مزے کی بات تو یہ بھی ہے کہ اس الیکشن میں ایک حجاب پہننے والی خاتون بھی الیکشن جیت چکی ہے۔ جس کو ریپبلکن پارٹی نے دہشت گرد قرار دیا تھا، مگر امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کو سب سے بڑا جھٹکا عبدالرحمن السید نے دیا ہے۔ جن کے خلا ف ٹرمپ نے خصوصی مہم چلائی تھی، مگر السید کو ان علاقوں میں بھی سبقت ملی جو ٹرمپ کے علاقے تھے۔ السید نے ٹرمپ کے رفیق خاص ریپبلکن کے امیدوار مائک روزرس کو ایسی کراری شکست دی ہے جس پر دنیا حیران ہے۔ پہلی بار امریکی سینٹ میں ایک مسلم کے قدم پہنچنے سے اسرائیل میں بے چینی تو ہے ہی ہندوستان کے زعفرانی خیموں میں بھی ہلچل ہے۔ خاص بات تو یہ بھی ہے کہ السید کی حمایت میں جہاں اوبامہ نے اہم رول ادا کیا وہاں ممدانی کی حکمت عملی سے بھی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی جیت ہوئی جو اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ میں نفرت کی سیاست بہرحال نہیں چل سکتی۔ اوبامہ نے السید کی حمایت میں کہا تھا کہ ٹرمپ جتنا جھوٹ بولیں گے عوام میں اس کا برعکس اثر پڑے گا۔ وہ ڈرائیں گے ، دھمکائیں گے،آپ کی حب الوطنی پر شک کریں گے، نفرت اور تعصب کا پانسہ پھینکیں گے ، مگر امریکہ دنیا کا عظیم جمہوری ملک ہے جو انسانیت ، ہمدردی اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے جانا جاتا ہے۔ وہاں سچائی پر باطل کو فتح نہیں ہوسکتی۔ اوبامہ کی بات سچ ثابت ہوئی، ٹرمپ کا جھوٹ، مسلمانوں سے نفرت ،ایران سے جنگ،تفریق دھمکی کی سیاست کو امریکی عوام نے بساط الٹ دی۔
بہرحال امریکہ میں وسط مدتی انتخاب کے بعد یقینا اس کے دنیا پر اثرات پڑیں گے، ٹرمپ کے پر کترنے کے لئے امریکہ میں تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ امریکہ کانگریس میں ان کے خلاف مواخذہ کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ٹرمپ کے پاس ویٹو پاور ہے۔ لیکن وہ اب اپنے اختیار کا استعمال بغیر امریکی کانگریس کی منظوری کے نہیں کرسکتے۔ اور نہ کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں،کیونکہ دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹ کی اکثریت ہے۔ امریکہ کے وسط مدتی الیکشن کوکے نتائج کو دیکھتے ہوئے ہمیں ہندوستان کا سیاسی افق بھی بدلتا نظر آرہا ہے۔ وقت کا یہ بھی عجیب وغریب منظرنامہ ہے کہ راہل گاندھی نے آج خود حکمراں جماعت کو سڑکوں پر اتار دیا ہے جو خود جمہوریت بچائو کا نعرہ لگا کر انصاف کی دہائی دے رہی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی شکست سے کیا اہل سیاست سبق لیں گے،دنیا کا عظیم جمہوری ملک کہلانے والا ہندوستان کیایہاں بھی نئے انقلاب کی پیش رفت ہونے والی ہے۔ بقول بیکل اتساہی
یہ دبدبہ یہ حکومت یہ نشّۂ دولت
کرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
