حق وباطل کی جنگ کی علامت کے طور پر دسہرہ پورے ملک میں منایا جاتا ہے۔ دسہرہ باطل پر سچائی کی فتح کا تہوار سمجھا جاتا ہے۔ ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کا مہینہ ہے،پورے ملک میں اس ماہ میں رام لیلا یا درگا پوجا کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہر سمت جوش اور خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔اسی مہینے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی میں دوسرے جنتر منتر کا آغاز کردیا ہے۔ اب جنتر منتر پر قدغن کے بعد دہلی کا کناٹ پلیس جنتر منتر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ سی جے پی حکومت وقت کو یہیں سے للکار رہی ہے۔ دہلی ایک بار پھر قلعہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ 25000 سے زائد جوان پھر نئی نسل سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکار بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ وقت کا یہ بھی عجیب وغریب منظرنامہ ہے ، 16اکتوبر سے حکومت کے وقت خلاف اب چہار سو یلغار ہے۔ نامی گرامی وکلا الگ سے اندولن چلا رہے ہیں۔ تاجروں کی الگ ہنگامہ آرائی ہے۔کسان الگ دہلی کو گھیرنے کو تیار ہیں۔ اور کالجوں اور اسکولوں کے طلبا پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ ایس آئی آر کے خلاف ملک کا ہر گوشہ احتجاج کی شکل لے چکا ہے۔مگر کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت وقت کے خلاف یہ جو دوسرے اندولن کا بگل بجا یا ہے وہ زیادہ موثر ہے۔ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کے استعفیٰ کا مطالبہ ہے ، الیکشن کمیشن کے ذریعہ جس طرح تیرہ کروڑ سے زائد ووٹ کاٹ کر دیگر ریاستوں میں بی جے پی کا پرچم بلند کیا جارہا ہے۔ اس کے خلاف صدائے احتجاج نے ایوان حکومت میں ہلچل مچادی ہے۔ سی جے پی کی یلغار ،اور اس کے بانی دیپکے کی للکار نے جہاں حکومت کو لرزہ براندام کردیا ہے تو دوسری طرف راہل گاندھی چھاتروں کی گونج پروگرام میں نوجوانوں کا جم غفیر اس بات کا منظرنامہ ہے کہ راہل گاندھی اب ایک امیدکی کرن اور انقلاب کا پیکر بن چکے ہیں۔
تیسری طرف اپوزیشن جماعتیں اکھلیش یادو، تیجسوی یادو ، ممتابنرجی وغیرہ کی قیادت میں سڑکوں پر اتر کر جس طرح حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں اس سے جمہوریت کی رگوں میں ایک نئی توانائی آرہی ہے۔ اور آج کا منظرنامہ یہ ہے کہ اس چوطرفہ یلغار کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے بھی تیور ڈھیلے پڑنے لگے ہیں۔وہ بھی کئی مطالبات کو ماننے پر تیار ہوچکا ہے،حالات کے پیش نظر عدالتیں بھی اب دبائو کے شکنجے سے نکل رہی ہیں۔اپوزیشن جماعتیں سپریم کورٹ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔اس سے جمہوریت بچانے کی اپیل کررہی ہیں۔انڈیا اتحاد صدر جمہوریہ سے ملک کر ایس آئی آر کے تحت ووٹ کے بنیادی حقوق چھیننے کے خلاف کارروائی کی اپیل کررہا ہے۔ پورا ملک دسہرے کے موقع پر انصاف کا طلبگار ہے۔عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے، دہلی پولیس کو اپنی کارکردگی پر معافی مانگنی پڑ رہی ہے۔ لیکن تمام تر نئی صورتحال کے پیش نظر حکومت گیانیش کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔ اور جس قدر وہ ان کا دفاع کررہی ہے،تحریک میں مزید جان پڑ رہی ہے۔ مگر ہم یہاں عدالت اور الیکشن کمیشن کے رویہ پر ہی گفتگو کریں گے جو کل تک اس بات کے منکر تھے کہ ایس آئی آرمیں کچھ غلط نہیں ہے اب وہی اس معاملے میں صفائی پیش کررہے ہیں۔ مہاراشٹر میں ایس آئی آرمیں نئی ترمیم ہورہی ہے۔
لیکن عجیب وغریب بات یہ بھی ہے کہ عدالت عظمیٰ اس معاملے میں کوئی واضح اور فیصلہ رخ اختیار کرنے کے بجائے صرف نوٹس جاری کرکے یہ مان لینا چاہتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ عدالت میں ایس آئی آر سے متعلق معاملے التوا میں ہیں اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ فیصلہ آنے تک لوگوں کو انتظار کرنا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قومی سطح پر جو چوطرفہ احتجاج چل رہا ہے کیا وہ اس بات کو تسلیم کرے گا کیا سپریم کورٹ کو اس معاملے میں کوئی واضح حکمانہ جاری کرنا نہیں چاہئے؟ حالانکہ ایس آئی آر منسوخ کرنے اور الیکشن کمیشن کے استعفیٰ کے ایشو پر مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف پولیس کی سختی پر گوکہ عدالت نے ناراضگی جتائی ہے لیکن کیا پولیس یا حکومت مظاہرے کو دبانے کی ہر ممکن کوشش نہیں کررہی ہے؟اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ مغربی بنگال میں جب ایس آئی آر سے باہر کئے گئے لاکھوں ووٹرجو ووٹ سے محروم رہے اب دوبارہ انھیں فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ کیا عدالت اس معاملے میں بھی کوئی سخت رویہ اختیار نہیں کرے گی؟ کیونکہ ملک میں تمام تر مظاہروں کے باوجود سرکار کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات میں کچھ ایسا نظر نہیں آتا ہے جسے ٹھوس کارروائی کہا جائے۔ جمہوریت کی زندگی تبھی تک قائم ہے جب تک شہریوں کو ووٹ دینے کا اختیار محفوظ ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت وقت نے مان لیا ہے کہ ایس آئی آر میں بدعنوانی کے خلاف اندولن چلانے والی اپوزیشن یا پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر رکاوٹ اور مطالبات کو نظر انداز کرنے سے سبھی ماہرین تھک جائیں گے اور اندولن ختم ہوجائے گا۔ لیکن اب جوپورے ملک میں منظرنامہ ہے ہرسو جو ہنگامہ ہے وہ کچھ اور ہی کہانیاں بیان کررہا ہے۔ لوگوں درمیان بے اطمنانی پیدا ہوچکی ہے۔ ان کے اندر سے خوف نکل چکا ہے۔ گیانیش کے استعفیٰ کے مطالبات کے ساتھ ساتھ بات آگے بھی بڑھ سکتی ہے اگر سرکار نے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی اور مظاہرے کو کچلنا چاہا تو یہ مظاہرہ کنٹرول میں ہونے سے رہا۔ کیونکہ لوگوں کے دلوں سے خوف نکل چکا ہے اور جب خوف نکل جاتا ہے تو بڑی بڑی سلطنتیں بھی سرنگوں ہوجاتی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر گیانیش کمار کا استعفیٰ لے ،یا پھر کم ازکم سپریم کورٹ کو بھی حالات کے پیش نظر فوری کارروائی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ تاکہ ملک میں امن وآشتی کے ساتھ ساتھ جمہوری اقدار اور پرانے سنسکار کی حرارت ملک کی رگوں میں دوڑ سکے۔ خاص کر ووٹ دینے سے محروم کروڑوں افراد اپنے حق رائے دہی کے تحت خود کو ہندوستانی شہری محسوس کرسکیں۔ مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر ایس آئی آر منسوخ ہوجاتا ہے ، ای وی ایم کے بجائے بیلٹ بکس سے ووٹ کا پرانہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے پھر تو بی جے پی اقتدار کی بساط ہی الٹ جائے گی۔ کیونکہ اب سوال گیانیش کے استعفیٰ تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ آگے کے مطالبات بھی کم خوفناک نہیں ہیں۔بہار، بنگال ، مہاراشٹر میں دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ اٹھنے لگے ہیں۔ جو حکومت کے گلے کی ہڈی بن سکتے ہیں۔ بی جے پی اچھی طرح جانتی ہے کہ گیانیش کے طوطے میں اس کے اقتدار کی جان ہے۔ لہذا وہ چیف الیکشن کمشنر کو بچانے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ اب معاملہ صرف اپوزیشن تک محدودنہیں ہے سڑکوں پر نئی نسل کھڑی ہے۔ ملک کا ہر گوشہ جنتر منتر بن رہا ہے۔ جین زی کے اندولن کو کچلنا اب آسان نہیں رہا۔ بقول شاعر
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
