تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دلی این سی آر

دہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بری

نئی دہلی: دہلی فسادات 2020 سے متعلق ایک مقدمے میں کرکرڈوما عدالت نے چھ ملزمان کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس عملہ ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے ثبوتوں کو قانونی طور پر درست ثابت نہیں کرسکا۔ یہ فیصلہ 5نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج، شمال مشرقی ضلع، کرکرڈوما عدالت نے سنایا۔یہ مقدمہ تھانہ نیو عثمان پور میں درج ایف آئی آر نمبر 87/2020سے متعلق تھا۔
اس میں محمد مکرم، ناصر عرف ارباز، محمد نعیم، امان عباس، گلو عرف ارشد زیدی اور شعیب کو بری کیا گیا ہے۔ ایک دیگر ملزم عمران کی وفات کے بعد اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی پہلے ہی ختم کردی گئی تھی۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس مقدمے میں محمد مکرم کی قانونی پیروی صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند کے لیگل سیل کی جانب سے ایڈوکیٹ سلیم ملک نے کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس کا مقدمہ بنیادی طور پر ایک زخمی گواہ کی گواہی اور سی سی ٹی وی فوٹیج پر مبنی تھا۔ پولیس نے اسی فوٹیج کی مدد سے ملزموں کی شناخت کرائی تھی، لیکن عدالت نے پایا کہ فوٹیج کے ساتھ پیش کیا گیا قانونی سرٹیفکٹ درست نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پولیس یہ بھی ثابت نہیں کرسکی کہ فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے دوران قانونی طریقۂ کار پر پوری طرح عمل کیا گیا تھا۔عدالت نے اسی وجہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا۔
چونکہ گواہ نے بھی ملزموں کی شناخت اسی ویڈیو کی بنیاد پر کی تھی،اس لیے اس کی گواہی کو ملزمان کے خلاف کافی ثبوت نہیں مانا گیا۔ عدالت نے استغاثہ کی جانب سے الزامات ثابت نہ ہونے پر تمام چھ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اکثر تفتیشی افسران کو الیکٹرانک ثبوت پیش کرنے کے قانونی طریقے کی پوری معلومات نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اہم ثبوت بھی عدالت میں قبول نہیں ہوپاتے۔عدالت نے دہلی پولیس کمشنر کو فیصلے کی نقل بھیجنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ تفتیشی افسران کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر الیکٹرانک ثبوت جمع کرنے اور عدالت میں پیش کرنے کے قانونی طریقوں کی تربیت دی جاسکے۔
جمعیۃ علماء ہند صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں دہلی فسادات سے متعلق مقدمات میں متاثرہ افراد کو قانونی مدد فراہم کی جارہی ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند کی قانونی کوششوں کے نتیجے میں اب تک 585 افراد ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں، جب کہ 153 افراد عدالتوں سے باعزت بری ہوچکے ہیں۔قبل ازیں جمعیۃ علماء ہند نے بڑے پیمانے پر ریلیف و راحت رسانی کا عمل انجام دیا ہے ۔

 

متعلقہ خبریں