(پی این این)
نئی دہلی : مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کے خلاف حکومت کی جانب سے بار بار کی جانے والی انہدامی کارروائیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پرایک بڑا عوامی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ’ مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس ‘ کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں مسلم تنظیموں، سول سوسائٹی کے کارکنوں، وکلا،عام شہریوں کے علاوہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے مساجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی مقامات کے خلاف حکومت کی کارروائیوں پرسخت تشویش کا اظہار کیا اور ملک میں آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور سماجی انصاف کے تعلق سے سوال اٹھائے ۔
جنتر منتر پر مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کئی اہم رہنماؤں اور مظاہرین کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اقرا حسن، محب اللہ ندوی، ضیاء الرحمٰن برق، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان، ایس آئی او کے قومی صدر عبدالحفیظ سمیت کئی دیگررہنماؤں، طلبہ، کارکنوں اور شہریوں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہمارے سامنے مسئلہ کسی ایک مسجد یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہے۔ جب بھی کسی عبادت گاہ کو منہدم کیا جاتا ہے یا اس کے خلاف غیر قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو اس سے قانون کی حکمرانی پرسنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ مساجد اور گرجا گھروں کو جان بوجھ کر پر نشانہ بنانا فرقہ وارانہ ذہنیت پر مبنی ہے اور ہماری تہذیب و ثقافت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ پولیس کی تادیبی کارروائی پر انہوں نے کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی انتہائی افسوس ناک ہے۔ ہم مساجد اورمذہبی مقامات سے متعلق انہدامی کارروائیوں کے خلاف اپنے قانونی خدشات اوراعتراضات کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہریوں کو پرامن طور پراحتجاج کی اجازت دینے کے بجائے مسلم رہنماؤں اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
اس طرح کی من مانی کارروائی جمہوری حقوق اور آئینی آزادیوں کے احترام کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔سابق رکن پارلیمنٹ اور آئی ایم سی آر کے صدرمحمد ادیب نے کہا کہ ہم نے حکام کو اس پروگرام کے بارے میں پہلے ہی مطلع کر دیا تھا اور ہمارا مقصد ایک پرامن احتجاج کرنا تھا۔ شہریوں کو اپنے خدشات اور مسائل اٹھانے سے روکنا اور ان کے رہنماؤں کو حراست میں لینا انتہائی تشویش ناک ہے۔ پرامن جمہوری احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے اور حکام کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔
لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا کہ پرامن عوامی احتجاج کو کسی خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ شہریوں کو اکٹھا ہونے اور اپنے خدشات کا اظہار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
حکام کو لوگوں کی آواز روکنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے۔احتجاج میں شامل منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج صرف مسلمانوں سے متعلق مسائل تک محدود نہیں تھا۔ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد مذہبی مقامات پر حملوں اور ان کے انہدام کے خلاف تشویش کا اظہارکرنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ احتجاج کے دوران ملک کے وسیع تر قومی مسائل بھی زیر بحث لائے گئے۔
احتجاج کے ذریعے اسپیشل انٹینسیو ریویژن( ایس آئی آر)، الیکشن کمیشن کے مجموعی طرزِ عمل، نوجوانوں کو درپیش مسائل اور سماج سے متعلق دیگر امور پر بھی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی۔منتظمین نے کہا کہ پولیس کی کارروائی اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ حکام کو اس پروگرام کے بارے میں پہلے ہی مطلع کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشترکہ پلیٹ فارم آئینی حقوق، مذہبی آزادی، جمہوری جواب دہی اور سماجی انصاف سے متعلق مسائل کو پرامن اور قانونی طریقوں سے اٹھاتا رہے گا۔
مساجد کونشانہ بنائے جانے کے خلاف جنتر منتر پراحتجاج
