Bihar
’’عظمتِ رفتہ کی جستجو‘‘علم و تاریخ کے بھولے ہوئے چراغوں کی بازیافت: فضل رحمٰن رحمانی
(پی این این)
مونگیر:معروف قلم کار، متعدد کتابوں کے مصنف اور صاحبِ اسلوب کالم نگار مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی نے اپنی تازہ تصنیف “عظمتِ رفتہ کی جستجو” جامعہ رحمانی، مونگیر کے شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی اور فکر و نظر ٹی وی کے چیف ایڈیٹر جناب فضل رحمٰن رحمانی کو پیش کی۔جس پر انہوں نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک ایسی علمی و ادبی دستاویزی کتاب ہے جو قاری کو تاریخ، عقیدت اور خودشناسی کے ایک نئے سفر پر لے جاتی ہے۔
کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے جو بات ذہن نشین ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مفتی عین الحق امینی قاسمی نے سفرنامے کے روایتی حدود کو پھلانگ کر اسے تاریخ، سیرت، علمی ورثے، تہذیبی یادداشت اور ادبی اسلوب کا حسین سنگم بنا دیا ہے۔ میرے نزدیک اس تصنیف کی اصل قوت اس کے مشاہدات کی گہرائی اور اس جذبے میں پنہاں ہے جو مصنف کو محض راستوں اور عمارتوں سے آگے بڑھ کر ان لوگوں کی تلاش پر آمادہ کرتا ہے جنہوں نے ان مقامات کو اپنے علم اور اخلاص سے زندہ کیا۔
یہ سفرنامہ اپنی نوعیت میں ایک منفرد کاوش ہے کیونکہ اس میں سیاحتی تفصیلات کی بجائے تحقیق، مشاہدہ اور تاریخی شعور غالب ہے۔ مصنف نے گیلانی، دیسنہ، استھانواں اور بہار شریف جیسے علاقوں کا سفر کیا، مگر ان کی نگاہ عمارتوں کی اینٹ و پتھر پر نہیں ٹھہری بلکہ ان بستیوں سے وابستہ علمی، دینی اور روحانی روایات کی بازیافت پر مرکوز رہی۔ یہی زاویۂ نظر اس تحریر کو عام سفرناموں سے ممتاز کرتا ہے اور اسے تاریخ نویسی کے قریب لے آتا ہے۔
ان چاروں مقامات کی تاریخی اہمیت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ صدیوں سے علم و معرفت کا سرچشمہ رہا ہے۔ کتاب اس حقیقت کو بجا طور پر اجاگر کرتی ہے کہ بہار شریف اور اس کی مضافاتی بستیاں، خصوصاً گیلانی، دیسنہ اور استھانواں، اپنے مشاہیر کی وجہ سے شہرت رکھتی رہی ہیں، مگر افسوس کہ اب تک انہیں وہ توجہ نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھیں۔ اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش اس تصنیف کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
ان بستیوں سے وابستہ علمی و روحانی شخصیات کا ذکر کتاب کو مزید وقیع بنا دیتا ہے۔ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی، جنہیں دارالعلوم دیوبند نے “سلطان القلم” اور “رئیس القلم” کے القاب سے نوازا، علامہ سید سلیمان ندوی، ان کے جدِ امجد مولانا محمد احسن گیلانی، بانی ندوۃ العلماء سے متعلق روایات کے حوالے سے مولانا سید تجمل حسین بہاری، قاضی محب اللہ بہاری جن کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ان کی کتاب پر حاشیہ لکھنے والے کو “علامہ” کا خطاب ملتا تھا، نیز سید عبدالغنی استھانوی، علامہ شوق نیموی اور ڈاکٹر کلیم عاجز جیسی شخصیات کا تذکرہ اس بات کی گواہی ہے کہ یہ سرزمین کس قدر علمی برکتوں سے مالا مال رہی ہے۔ مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کی خانقاہی روایت اور موجودہ سجادہ نشیں سید شاہ سیف الدین فردوسی کا ذکر بھی اس تسلسل کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
مصنف کے اسلوب پر غور کریں تو ان کی مشاہداتی صلاحیت، تحقیقی نظر اور بیان کی روانی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ وہ کسی عمارت کو دیکھتے تو اس کے معماروں کو یاد کرتے، کسی مدرسے میں داخل ہوتے تو اس کے بانیوں کے اخلاص کو خراجِ عقیدت پیش کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ عنوان “عظمتِ رفتہ کی جستجو” محض ایک ادبی ترکیب نہیں بلکہ اس پوری تحریر کے مزاج کی صحیح ترجمانی کرتا ہے، کیونکہ یہ کتاب واقعی ماضی کی گم شدہ عظمتوں کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
اس رائے کی تصدیق صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے مولانا مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی کے تاثرات سے بھی ہوتی ہے، جنہوں نے اس سفرنامے کو ابتدا سے آخر تک بغور پڑھنے کے بعد لکھا کہ “یہ سفرنامہ کیا در حقیقت عجالہ نافعہ ہے، جس میں بلاغت بھی ہے، فصاحت بھی ہے اور تاریخی وعلمی امور کو پیش کرنے کا ہنر بھی ہے۔” ان کے بقول “یہ تحریر تاریخ نویسی اور سفری روداد کا نمونہ ہے۔” ان کی یہ رائے اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ کتاب علم اور ادب کے امتزاج میں کس قدر کامیاب ہے۔
خدا بخش لائبریری، پٹنہ سے وابستہ مولانا طلحہ نعمت ندوی نے اس علاقے کی تاریخی محرومی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا کہ استھانواں، دیسنہ اور گیلانی کو اپنے مشاہیر کی بنا پر خاص شہرت تو ملی، مگر اب تک کوئی قابلِ ذکر سفرنامہ نگار میسر نہ آسکا جس کی وجہ سے آنے والی نسلوں کے لیے یہ آثار تاریخ کا مستقل حصہ بن سکیں۔ ان کی یہ بات میرے نزدیک اس کتاب کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔اسی طرح جی ڈی کالج بیگوسرائے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی کا یہ اختصار بھی نہایت جامع معلوم ہوتا ہے کہ اس سفرنامے میں “علم بھی، معلومات بھی اور مشاہدات و تجربات بھی” موجود ہیں۔ یہ ایک مختصر مگر بھرپور تبصرہ ہے جو اس کتاب کی ہمہ جہتی خوبی کو چند الفاظ میں بیان کر دیتا ہے۔
ان اصحابِ علم کے تاثرات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک نکتہ مشترک طور پر ابھرتا ہے، اور وہ یہ کہ “عظمتِ رفتہ کی جستجو” محض ایک فرد کی سیاحتی روداد نہیں بلکہ ایک پورے علاقے کی علمی، دینی اور روحانی شناخت کی بازیافت ہے۔ میرے خیال میں آج کے دور میں، جب سفر کا مفہوم اکثر تفریح اور منظر بینی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، ایسی تصنیف کا سامنے آنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی سفر وہی ہے جو انسان کو اس کی تاریخ اور شناخت سے جوڑے۔یہ کتاب خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ دور میں جب بہت سے نوجوان اپنے علمی، دینی اور تہذیبی ورثے سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں یہ سفرنامہ انہیں ان اسلاف سے متعارف کراتا ہے جنہوں نے علم اور اخلاص سے اپنی بستیوں کو زندہ جاوید بنایا۔ اس کتاب کا مطالعہ نوجوانوں میں یہ احساس بیدار کر سکتا ہے کہ ان کی عظمت محض ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے جسے سنبھالنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔
مجموعی طور پر میری نگاہ میں مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب مدظلہ نے محنت، لگن اور تحقیقی دیانت کے ساتھ علم، تاریخ اور ادب کا حسین سنگم پیش کیا ہے۔ اس گراں قدر کاوش پر انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ہے کہ ’’عظمتِ رفتہ کی جستجو‘‘ علمی و ادبی حلقوں میں قدر و پذیرائی حاصل کرے گی۔آج جب معمولی تحریروں کے لیے بھی لوگ اے آئی ٹولز کے محتاج ہو رہے ہیں، ایسے صاحبِ قلم مصنفین کی محنت سے وجود میں آنے والی تصانیف کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہی تحریریں آنے والی نسلوں، بلکہ اے آئی کے لیے بھی معتبر علمی سرمایہ اور سورس میٹریل کا کام کرتی ہیں اور آگے بھی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ مولانا سے خوب خوب علمی و تصنیفی خدمات لے اور ان کے قلم کو مزید قوت و برکت عطا فرمائے۔
Bihar
پیپر لیک روکنے کے لیےسمراٹ حکومت کا بڑا فیصلہ، بہار کے29اضلاع میں قائم کئے جائیں گے امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روم
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں پیپر لیک اور امتحانات میں بدعنوانی روکنے کے لیے 29 اضلاع میں امتحانی مراکزاور اسٹرونگ روم بنائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس سلسلے میں بہار بورڈ یعنی بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ (بی ایس ای بی) کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکومت نے اس کے لیے 33 کروڑ روپے کے بجٹ کا انتظام کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں امتحانی عمارتوں کی تعمیر کو انتظامی منظوری مل گئی ہے۔ ان میں سیتامڑھی، لکھی سرائے، مشرقی چمپارن، کیمور، نالندہ اور مدھے پورہ سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔
زیادہ تر امتحانی عمارتیں اور اسٹرونگ روم موجودہ اسکولوں کے احاطے میں ہی تعمیر کیے جائیں گے۔ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ایکڑ زمین پر امتحانی عمارت کے ساتھ اسٹرونگ روم بھی بنایا جائے گا۔ امتحانی عمارت میں طلبہ و طالبات کے لیے نقل سے پاک امتحان کے انعقاد کی تمام جدید سہولیات موجود ہوں گی۔ وہیں اسٹرونگ روم میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان امتحانی پرچوں، جوابی کاپیوں اور دیگر ضروری مواد کو محفوظ رکھنے کا انتظام ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مختلف امتحانات کے پرچوں اور دیگر ضروری مواد کو محفوظ طریقے سے رکھنے کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی امتحانات کے انعقاد کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔ یہ نقل سے پاک امتحانات کے انعقاد کی سمت میں ایک اہم پہل ہے۔
بی ایس ای بی کی جانب سے پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روم کی تعمیر کے لیے انتظامی منظوری دے دی گئی ہے۔ روہتاس ضلع میں ساسارام کے تکیا شری شنکر ہائر سیکنڈری اسکول، لکھی سرائے میں شرما، رام گڑھ چوک واقع شری ڈھیڑناتھ مہادیو ہائر سیکنڈری اسکول، بیگوسرائے کے وشنوپور میں سرکاری بنیادی اسکول، سیتامڑھی ضلع میں ڈمرا کے بریارپور مڈل اسکول، موتیہاری میں پی ایم شری ڈسٹرکٹ اسکول، ویشالی ضلع کے بھگوان پور واقع سرائے آدرش ہائر اسکول، بھبھوا کے رتوار ہائر سیکنڈری اسکول، نالندہ میں راج گیر کے آر ڈی ایس پلس ٹو اسکول، جموئی میں جموئی بازار پلس ٹو ہائر اسکول، کٹیہار میں درشن ساہ کالج، نوادہ میں کنہائی انٹر اسکول اور مدھے پورہ میں بھوپندر نارائن منڈل یونیورسٹی کے احاطے میں امتحانی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔
Bihar
اے آئی ایس اے کا جے پی یونیورسٹی میں بدنظمی کے خلاف احتجاج
(پی این این)
چھپرا:آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے ہفتہ کو جے پرکاش یونیورسٹی میں تعلیمی بدنظمی،عملے کی ہڑتال اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طلبہ کے مسائل کو حل کرنے میں مبینہ بے حسی کے خلاف احتجاج کیا۔کارکنوں نے وائس چانسلر کا پتلا جلایا و نعرے لگائے۔
انہوں نے احتجاج کو تیز کرنے کی دھمکی دی۔AISA کے ضلع صدر کنال کوشک نے کہا کہ تنظیم نے 10 ستمبر کو یونیورسٹی میں احتجاج کی قیادت کی۔اہم مطالبات میں 2023-27 کے سیشن کے لیے سمسٹر ایک سے چار تک کے طلبہ کو فوری طور پر اصلی مارک شیٹس کی فراہمی،68 کریڈٹ سسٹم کا خاتمہ،تمام کالجوں میں ہیلپ ڈیسک کا قیام اور درخواستیں جمع کرانے کی رسیدیں شامل تھے۔
AISA رہنماؤں کے مطابق تنظیم کی ٹیم نے 11 ستمبر کو جے پی ایم ویمن کالج کا معائنہ کیا۔وہاں کا عملہ اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال پر تھا۔نتیجتاً طلبہ کی درخواستیں نہیں لی جا رہی تھیں اور رسیدیں نہیں مل رہی تھیں۔
کالج کی سطح پر تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن فارم منسوخ ہونے کا بھی خدشہ تھا۔کنال نے کہا کہ وائس چانسلر نے احتجاج کے دوران کالجوں کا معائنہ کرنے کا دعویٰ کیا۔تاہم جے پی ایم ویمنس کالج کی صورتحال نے انتظامیہ کے دعووں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ضلع سکریٹری وکاس نے مطالبہ کیا کہ کالج ہیلپ ڈیسک،سیکورٹی اور پینے کا پانی،بیت الخلا،کامن روم اور بیٹھنے کے انتظامات فراہم کریں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو AISA یونیورسٹی کو تالا لگا کر پرتشدد احتجاج شروع کرے گی۔
Bihar
گیا جی میں بینک فراڈ کابڑا معاملہ،ای ڈی جانچ میں مصروف
(پی این این)
گیاجی: 85 کروڑ روپے کا بینک لون، تقریباً 58 کروڑ روپے کی مبینہ ڈائیورژن اور پہلے سے رہن رکھی پانچ جائیدادوں کی فروخت، گیا میں جمعہ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، پٹنہ کی کارروائی کے بعد بینک فراڈ کا یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا۔ ای ڈی کی پٹنہ ٹیم نے پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت رام نندی ہوٹلس اینڈ ریزورٹس لمیٹڈ (آر ایچ آر ایل) سے وابستہ کئی ٹھکانوں پر بیک وقت سرچ آپریشن شروع کیا۔ دیر شام تک تلاشی کی کارروائی جاری رہی۔
ای ڈی کی تحقیقات کے مطابق کمپنی نے بینکوں کے کنسورشیم سے تقریباً 85 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس رقم میں سے تقریباً 58 کروڑ روپے مبینہ طور پر دوسری جگہ منتقل کیے گئے۔ تفتیشی ایجنسی کو شبہ ہے کہ بینک قرض حاصل کرنے کے لیے فرضی یا جعلی پروجیکٹ کمپلیشن رپورٹ کا استعمال کیا گیا۔ اب ای ڈی یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ بینک سے حاصل کروڑوں روپے آخر کن کھاتوں میں گئے اور کن کاروباری سرگرمیوں میں استعمال ہوئے۔
اس معاملے میں پانچ جائیدادیں بھی ای ڈی کی جانچ کے مرکز میں ہیں۔ ای ڈی کے مطابق ان جائیدادوں کو ٹاٹا موٹرس سے متعلق بقایا جات کے عوض رہن یا مارگیج کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ بعد میں ان جائیدادوں کو مبینہ طور پر کم قیمت پر فروخت کر دیا گیا۔ اب ای ڈی یہ جانچ کر رہی ہے کہ پہلے سے ذمہ داری والی ان جائیدادوں کی فروخت کس طرح، کن حالات میں اور کن لوگوں کے درمیان ہوئی۔
ای ڈی کو بعض خریداروں کے مبینہ طور پر بے نامی یا پراکسی ہونے کا بھی شبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقات اب صرف کمپنی اور اس کے ذمہ داران تک محدود نہیں ہے، بلکہ جائیدادوں کی خرید و فروخت سے وابستہ افراد، رقم کی منتقلی اور پورے لین دین کی کڑی کو بھی کھنگالا جا رہا ہے۔
ای ڈی کی تحقیقات میں کمپنی کا کنٹرول اکھوری گوپال اور ان کے بیٹوں نشانت اور نتیش کے پاس ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ بینک قرض کے عوض اکھوری گوپال اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ذاتی گارنٹی بھی دی گئی تھی۔ ایسے میں تفتیشی ایجنسی قرض سے متعلق دستاویزات، گارنٹی اور کمپنی کے مالی معاملات میں ان کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
ای ڈی کی ٹیم متعلقہ احاطوں میں دستاویزات، بینک ریکارڈ اور جائیدادوں سے متعلق کاغذات کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے دستاویز ات سے مبینہ 58 کروڑ روپے کی ڈائیورژن اور جائیدادوں کی فروخت سے متعلق کئی اہم راز کھل سکتے ہیں۔ فی الحال سرچ آپریشن جاری ہے اور تلاشی مکمل ہونے کے بعد ای ڈی کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی امید ہے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
