(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا ہے کہ صفائی ملازمین کو مناسب حفاظتی سامان فراہم کرایا جا رہا ہے اور ان کے تعاون کو وقار اور عزت کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے ۔
گپتا نے سوچھتا میں سہ بھاگ، سوچھ بھارت، وکسِت بھارتکے موضوع پر مبنی سوچھتا ہی سیوا (ایس ایچ ایس) 2026 مہم کے تحت وزارت برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی جانب سے یہاں قومی سطح کے صفائی متر سرکشا ایوم سمان شِوِر میں سماج کے مختلف طبقات کے لیے دہلی حکومت کے مختلف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کو مفت بس سفر کی سہولت فراہم کرنے والی پنک کارڈ سہولت، لکھپتی بٹیا یوجنا، مختلف طبی جانچ کے لیے 450 آروگیہ مندر اور کام کاجی خواتین کے بچوں کے لیے 611 پالنا مراکز چلا رہی ہے ۔ محترمہ گپتا نے زور دے کر کہا کہ صفائی برقرار رکھنا صرف صفائی متروں اور صفائی ملازمین کی ذمہ داری نہیں ہے ، بلکہ یہ ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے یہ یقینی بنانے کی اپیل کی کہ صفائی ملازمین کو ان کے تمام حقوق اور مراعات وقت پر حاصل ہوں اور اس بات پر بالخصوص زور دیا کہ خاتون صفائی ملازمین کی سلامتی اور عزت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے ۔
انہوں نے صفائی کے کاموں میں میکانائزیشن (مشینوں کے استعمال) کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا، جن میں حال ہی میں 1,000 کچرا اٹھانے والی مشینوں اور 100 صفائی مشینوں کی منظوری بھی شامل ہے ۔ اس اقدام کا مقصد ہاتھ سے کی جانے والی صفائی کی سرگرمیوں سے جڑے خطرات کو کم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پانچ لاکھ روپے کے آیوشمان بھارت کوریج کے اوپر پانچ لاکھ روپے کا اضافی (ٹاپ اپ) ہیلتھ کوریج ملنے سے مستفیدین کو ملنے والا کل ہیلتھ کوریج بڑھ کر 10 لاکھ روپے ہو جائے گا۔مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات ڈاکٹر وریندر کمار نے بدھ کو منعقدہ اس شِوِر میں نمستے یوجنا کے تحت سیور اور سیپٹک ٹینک ملازمین اور کچرا چننے والوں کو امداد اور فلاحی اقدامات فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں معلومات دیں اور کہا کہ صفائی ملازمین کی سلامتی اور عزت کو یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور انہیں سماج کے اہم دھارے میں شامل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جانا ضروری ہیں۔ڈاکٹر وریندر کمار نے کہا کہ نمستے یوجنا صرف فلاحی امداد تک محدود نہیں ہے ، بلکہ اس کا مقصد صفائی ملازمین کی سلامتی، عزت اور طویل مدتی سماجی و معاشی شمولیت پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہے ۔ انہوں نے سیور اور سیپٹک ٹینک ملازمین نیز کچرا چننے والوں تک اسکیم کے فوائد کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور اس بات پر زور دیا کہ اہل ملازمین کو طبی خدمات، سماجی تحفظ اور سلامتی سے متعلق اقدامات سے جوڑا جانا یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ملازمین کو باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنایا جانا چاہیے اور انہیں سماج کے اہم دھارے کا اٹوٹ حصہ بنایا جانا چاہیے ۔ سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر مملکت بی۔ ایل۔ ورما نے شِوِر میں اپنے خطاب میں 2014 سے صفائی اور صفائی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے ذریعے مسلسل کیے جانے والے کاموں کی معلومات دی اور انہوں نے بتایا کہ نمستے یوجنا کا دائرہ بڑھا کر فیکل سلج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایف ایس ٹی پی) اور سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) سے جڑے ملازمین کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے ۔
ساتھ ہی، ان ملازمین کو آیوشمان کارڈ اور ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) کٹ جیسی سہولیات کا فائدہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے ۔مسٹر ورما نے زور دے کر کہا کہ فلاحی فوائد تک رسائی کے ساتھ ساتھ مقررہ حفاظتی رہنما خطوط اور پروٹوکول کی پابندی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے ۔
انہوں نے صفائی ملازمین کے تئیں شہریوں کی شرکت اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت کے بارے میں بھی بتایا اور اس بات کو دہرایا کہ صفائی برقرار رکھنا اور صفائی کے کام میں لگے افراد کی عزت کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے میئر پرویش واہی نے صفائی ملازمین کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ایم سی ڈی میں 3,000 سے زائد صفائی متروں کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا ہے اور اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے کہ صفائی ملازمین کو اپنے فرائض کی محفوظ طریقے سے انجام دہی کے قابل بنانے کے لیے پی پی ای کٹ سمیت مناسب حفاظتی سامان فراہم کرائے جائیں۔اس شِوِر کا مقصد صفائی متروں اور صفائی ملازمین کے تعاون کو تسلیم کرنا اور انہیں قابل احترام بنانا نیز صحت کی دیکھ بھال، سلامتی، فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ سے متعلق اقدامات تک ان کی رسائی کو آسان بنانا تھا۔ اس شِوِر نے صفائی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مختلف سرکاری اسکیموں اور خدمات کے سلسلے میں معلومات اور امداد حاصل کرنے کے لیے سنگل ونڈو پلیٹ فارم فراہم کیا۔ شِوِر میں عوامی صحت، صفائی اور برادریوں کی فلاح و بہبود میں ان کے تعاون کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
