میرٹھ:گاندھی جی اگر مہاتما بدھ سے متاثر ہیں تو مذہب اسلام سے بھی کا فی متاثر نظر آ تے ہیں۔مولانا جوہر ہوں یا مولانا حسرت موہانی سب نے گاندھی جی کو مجاہد کہا ہے۔ مہاتما گاندھی ان جڑوں کو کاٹنا چاہتے تھے جو انسانیت کو ختم کرنا چاہتی تھیں۔ آج ہر ہندو ستانی کو عدم تشدد کی ضرورت ہے،جہاں ہر ماں اپنے بچے کی تربیت کرتی ہے عدم تشدد کی تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ دوسرے بچوں کو بھی ڈانٹ دیتی ہے کیونکہ ہمارے لیے عدم تشدد ہی ضروری چیزہے۔یہ الفاظ تھے معروف محقق و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ”فلسفہئ عدم تشدداورگاندھی جی“ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریم چند نے دو کہانیاں لکھیں ماں اور قاتل کی ماں، ایک کہانی تشدد پر ہے اور دوسری کہانی عدم تشدد پر۔ ہم امن و انسانیت اور بھائی چارے سے دور ہوتے جارہے ہیں تو پھر ہم اپنے بچوں کو، اپنے ریسرچ اسکالرز کیسے تربیت دے سکتے ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازبی۔اے کی طالبہ فقیہانے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔ صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطورپروفیسر ارادھنا گپتا]سابق صدر شعبہئ تاریخ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ[ نے شر کت فرمائی۔مہمانان ِ اعزازی کے بطور ڈاکٹر محمد اخلاق ]ہیڈ فیکلٹی آف آرٹس،اسلامیہ ڈگری کالج، دیوبند[،ڈاکٹر جے ویر رانا]اسسٹنٹ پروفیسر شعبہئ پالیٹیکل سائنس،سی سی ایس یونیورسٹی، میرٹھ[اور ڈاکٹر مہیپال سنگھ ]شعبہئ قانون،سی سی ایس یونیورسٹی،میرٹھ[ نے شرکت فرمائی اور مقالہ نگار کے بطور،ڈاکٹر یگیش کمار]شعبہئ ہندی،سی سی ایس یونیورسٹی، میرٹھ[،ڈاکٹر دیپک کمار ]اسسٹنٹ پروفیسرشعبہئ تارئخ،ایس ایس وی ڈگری کالج، ہاپوڑ[،ڈاکٹر محمد طلحہ کمال ]اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہئ اردو،اسلامیہ ڈگری کالج، دیوبند[ اور انو رادھا]ریسرچ اسکالر،شعبہئ پالیٹیکل سائنس،سی سی ایس یونیورسٹی، میرٹھ[شریک ہوئے۔اس دوران پروگرام میں ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی اورنظامت کے فرائض شعبے کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔
پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ گا ندھی جی نے اپنی تمام عمر ہندوستان کے لوگوں کی خد مت کرنے اور مشترکہ تہذیب کو قائم کرنے میں لگا دی۔ آج پوری دنیا میں گاندھی جی کو امن کے پیغامبر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عام طور پر گاندھی جی نے تمام عمر ملک کی خد مت کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم مشترکہ تہذیب اور ملک کو آزاد کرانے میں لگا دی۔ گاندھی جی نے جو عدم تشدد کا فلسفہ دیا اسے بہت سے لوگوں نے اپنایا۔ اس فلسفے کے ذریعے دنیا میں امن و امان پیدا ہوتا ہے۔ان کی زندگی کا ایک ایک دن لوگوں کی خد مت کرنے میں گزرا۔ گاندھی جی کے تعلق سے بہت سے مضامین اور کتابیں ہمارے نصاب میں شامل ہیں۔
پروفیسر ارادھنا گپتا نے کہا کہ گاندھی جی کا کہنا تھا کہ ہم جیسا بیج لگائیں گے ویسا ہی پھل ملے گا۔ عدم تشدد ایک ایسی تلوار ہے جو ہر جانب چلتی ہے۔عدم تشدد کے لیے طاقت ور ہونا لازمی ہے کیونکہ جب ایک کمزور انسان عدم تشدد کا درس دیتا ہے تو لوگ مذاق بناتے ہیں۔ گاندھی جی تیز چلتے تھے یہاں تک کہ نوجوان بھی ان سے پیچھے چھوٹ جاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جسمانی اعتبار سے طاقتور تھے۔گاندھی جی کا کہنا تھا کہ میں اس شخص کو بھی نہیں مارنا چاہتا جو مجھے مارنا چاہتا ہے۔انہوں نے1921ء میں کہا تھا کہ ہمیں اپنے لیے سخت اور دوسروں کے لیے ہمدرد انسان ہونا چاہئے گاندھی جی کہتے تھے کہ کسی کو درد دینا یا پریشان کرنا بھی تشدد ہے۔
انورادھانے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مہاتما گاندھی کے زاویہئ نگاہ سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے عدم تشدد کو مختلف حصوں میں منقسم کیا ہوا تھا۔موجودہ دور میں خواتین کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے گاندھی جی کی باتوں پر عمل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر یگیش کمار نے کہا کہ ہمیں گاندھی جی کے فلسفہئ عدم تشدد کو اپنی زندگی میں لانا ہوگا۔ بہت سے ادبا و شعرا نے گاندھی جی کی باتوں کو اپنایا اور ان پر عمل کیا۔ سورداس نے گاندھی جی کے فلسفے کو اپنی شاعری میں پیش کیا۔ گاندھی جی کہتے تھے کہ ہمیں سودیشی کو اپنانا ہوگا اور انگریزوں کو عدم تشدد کے ذریعے ملک سے باہر نکالنا ہوگا۔ اگر ہمیں انسانیت کو صحیح راستہ دکھانا ہے تو گاندھی جی کے فلسفے کو زندگی میں اتارنا ہوگا۔
ڈاکٹر محمد طلحہ نے کہا کہ عدم تشدد آزادی کی تحریک اور سماجی مسائل کو دور کرنے میں بہت ضروری ہے۔ آزادی کی تحریک میں گاندھی جی نے یہ فلسفہ بڑی فن کا ری سے پیش کیا۔ انہوں نے عدم تشدد کو محض مذہب تک نہیں رکھا بلکہ سماج و معاشرہ کی بھلائی کے لیے بھی ضروری قرار دیا۔ گاندھی جی نے ہندوستانی باشندوں کی آزادی کے لیے عدم تشدد کو ضروری قرار دیا۔ ہندوستان چھوڑو تحریک میں گاندھی جی نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان اخلاقی قوت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ڈاکٹر دیپک کمار نے کہا کہ مذہب کے اعتبار سے کوئی تشدد نہ ہو، اس بات کو گاندھی جی نے خاص طور پر پیش کیا۔ گاندھی جی اس لیے بھی مشہور ہیں کہ انہوں نے عالمی سطح پر انسانیت پر زور دیا۔ مہاتما گاندھی مانتے تھے کہ تشدد کے ذریعے ہم ملک سے انگریزوں کو نہیں نکال سکتے۔ گرام پنچایت میں پچھڑوں اور عورتوں کے تحفظ کے لیے گاندھی جی نے خاصا زور دیا۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ کون ہو گا جو گاندھی جی کے اس فلسفے کو نہ جانتا ہو۔ آج کی نسل یعنی سوشل میڈیا کے دور میں عدم تشدد کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایوسا کا یہ پروگرام اس لیے بھی اہم ہے کہ انتقام کے اس ما حول کو عدم تشدد کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے۔اگر محبت ہے تو ہمیں ہر طرح کے فساد سے بچنا ہے۔ سبھی مہمانان اور مقالہ نگاروں نے گاندھی کے فلسفے پر تہہ داری سے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر مہپال سنگھ نے کہا کہ گاندھی جی کی شخصیت پر جتنا پڑھا اور سنا جائے کم ہے۔جب گاندھی جی نے کستوربا سے کہا کہ سبھی عورتیں ایک ساتھ تحریک میں کیوں نہیں آتیں تو معلوم ہوا کہ ایک گھر میں ایک ہی ساڑی ہو تی تھی جسے پہن کر وہ تحریک میں آتی تھیں اسی لیے گاندھی جی نے بھی طے کر لیا کہ میں خود اپنے بدن پر زیادہ کپڑے نہیں پہنوں گا۔اس طرح گاندھی جی نے پورے ہندوستان میں تحریکات چلائیں۔
ڈاکٹر جے ویر رانا نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے ہمیشہ غریبوں، مزدوروں اور عام انسانوں کی فلاح کے لیے اور ملک کی آزادی کے لیے جو کام انجام دیے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور مہاتما گاندھی ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ آج بھی ہندوستان میں بیرونِ ممالک سے کوئی وزیر، صدر یا بادشاہ آتا ہے تووہ ان کی تصویر پر پھول چڑھانے جاتے ہیں۔ڈاکٹر محمد اخلاق نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ بھائی چارہ،انسانیت اور محبت کا پیغام دیا ہے اور گاندھی جی نے اپنی کوششوں سے بھی انسانیت اور محبت کا پیغام دیا ہے۔میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے تمام اساتذہ اور ایوسا کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اس موقع پر نور جمشید پوری نے بھی گاندھی جی پر ایک نظم پیش کی۔پروگرام سے،ڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ، فر حت اختر،محمد شمشاد اور سعید احمد سہارنپوری و دیگر جڑے رہے۔
