Connect with us

محاسبہ

پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب

Published

on

محاسبہ:سید فیصل علی

اس دور منافق میں جب ممتا بنرجی کے اقبال کا جادو اترتے ہی ان کے چہیتے لیڈران بی جے پی کا دامن پکڑنے لگے ہوں اور جو ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہیں ان پر انڈے پھینکے جارہے ہوں،وہ کرب ناک منظرنامہ ہے۔ بنگال جو کبھی سونار بنگلہ کہلاتا تھا جہاں ٹیگور نے ہندوستانی تکثیر کی اپنی نظموں میں گلفشانی کی تھی جہاں ہندو مسلم دوستی اور تہذیبی ثقافت کی دنیا میں دھوم تھی ،آج وہی بنگال نفرت کے کھیل میں شامل ہے۔ بنگال میں جنگل راج کا تصور نہیں تھا اب جنگل راج حقیقت بن چکا ہے۔ اس دور میں جب جمہوری اقدار عدل وقانون سب بے معنیٰ ہوچکے ہیں ،اور ایک ہی پارٹی کا ڈنکا بج رہا ہے۔اس دور میں انصاف کی آواز بلند کرنا اک بہلاوا کچھ نہیں۔
المیہ تو یہ ہے کہ جس سیاسی پارٹی کے زناکار اب سنسکاری قرار دیئے جارہے ہیں۔ ان کا پھول مالائوں سے استقبال ہورہا ہے۔ جس دور میں محض ووٹوں کے لئے قتل اور عصمت دری کے ایک سزا یافتہ بابا کو بار بار پیرول پر رہائی مل رہی ہے۔ بلقیس اور نربھیا کے واقعات کو روند کر زناکاروں کو ضمانتیں دی جارہی ہیں۔ جس دور میں احتجاج اور مظاہروں کی پاداش میں چھ سال سے تہاڑ جیل میں عمر خالد ، شرجیل امام کی ضمانتیں سیاسی انتقام کا شکار ہورہی ہیں۔جس ملک میں ایک پولیس اہلکار مسلمانوں کو سڑک پر نماز نہیں پڑھنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، پاسپورٹ منسوخ کرنے کی بات کررہا ہے۔انھیں نماز پڑھنے کی پاداش میں جیل بھیجنے کی باتیں کررہا ہے۔ایسے لاقانونیت بھرے ماحول میں جب عدل وقانون بھی ابروئے حکومت کے تابعدار ہوجائے تو ملک کا دیرینہ سنسکار شرمسار ہوتا ہے۔ایسے ملک میں جہاں احتجاج، مظاہرہ ملک سے غداری سے تعبیر کی جارہی ہو، حکومت سے سوال پوچھنا جرم سمجھا جاتا ہو، عدالتیں بھی اس دلسوز روایت پر مہر پر مہر لگاتی جارہی ہوں،ایسے میں کسی جج کا حکومت وقت کو آئینہ دکھانا اور ایک مسلمان کو انصاف دینا واقعی ہمت وحوصلے کی عظیم مثال ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں جب معمولی سی بات پر مسلمانوں کے گھر بلڈوز کئے جارہے ہوں ، مسجدیں ، درگاہوں ، قبرستانوں کو ناجائز قرار دے کر انھیں منہدم کیا جارہا ہوں اسی ہندوستان میں ناجائز قبضہ والے منادر کی عرضی پر سماعت سے عدالت انکار کررہی ہو، جس ملک میں سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کو بھرے کورٹ میں گالیاں دی جارہی ہوں۔ جج صاحبان بھی ابروئے حکومت کے اشارے پر فیصلے صادر کرنے لگے ہوں ،ایسے دور کشاکش میں جب کوئی جج ایک مسلمان کو انصاف دینے کی بات کرتا ہے تو اس کی جرأت پر حیرت ہوتی ہے۔
غورطلب ہے کہ گزشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں حکومت وقت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ سرکار پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہے۔ اسے جرم نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔جمہوری نظام میں ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے ، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ(شہربدری) کا حکم منسوخ کردیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ سابق لوک سبھا امیدوار سمیع احمد کی درخواست پر سنایا۔ سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر بھی کئی سوالات کھڑے کئے۔ عدالت نے سوال کیا کہ محض بی جے پی حکومت مردہ باد یامودی، امت شاہ مردہ باد جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف جرم کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں تو ان پر مقدمات کیوں درج کئے جارہے ہیں یہ آئین جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ پولیس عوام کی خدمت کے لئے ہے وہ کسی حکومت کی ملازم نہیں ہے۔ جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اس دور میں عوام کو حکومت کا غلام بنایا جارہا ہے۔
غورطلب ہے کہ سعید احمد ، عبدالواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) اور این آر سی ، بابری مسجد تنازعہ ، گیان واپی مسجد معاملہ ، وقف بورڈ کے معاملات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کولیکر احتجاج مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ 2019سے 2024کے درمیان ان پر کئی مقدمات قائم کئے گئے ۔ 2025میں انھیں مہاراشٹر پولیس کے حکم سے ایک سال کے لئے ممبئی سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ پولیس کا موقف تھا کہ سعید کی سرگرمیوں سے عوام میں خوف وہراس پیدا ہوتاہے، اور امن وامان کو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو ڈویزنل کمشنر نے بھی برقرار رکھا۔ نتیجتاً چودھری نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے بھی پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال کو تسلیم کیا اور اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا۔ اپنے تحریری فیصلے میں بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقوں سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا ، عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہار رائے کی آزادی اور اپنے ملک میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شہر بدری کی اصل وجہ احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی، صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
سپریم کورٹ کے کئی وکیلوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدلیہ میں بھی ایسے جج موجود ہیں جو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت سے سوال کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ بلاشبہ بامبے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آئین اور جمہوری اقدار کی ایک بڑی فتح کہی جارہی ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ جس دور میں حکومت مخالف فیصلہ دینے پر راتوں رات جج کا تبادلہ ہوجاتا ہے ، حکومت کی سرزنش کرنے کی پاداش میں روسٹر تبدیل کئے جاتے ہوں ایسے دور میں بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ بلاشبہ امید کی ایک کرن توضرور ہے۔ لیکن کیا یہ فیصلہ ملک کے اقدار وسنسکار کو تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوگا یا ایوان عدل وانصاف واقداروسیاست میں محض طوطی کی آوازبن کر رہ جائیگا۔ بقول شاعر
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب

 

محاسبہ

موقع جسے جدھر سے ملا وار کردیا

Published

on

محسابہ:سید فیصل علی

کیاہندوستان میں جمہوریت کو ایک مخصوص فکرونظر رکھنے والوں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ کیا ملک کا دیرینہ سنسکار واقدار فسطائی قوتوں کے نرغے میں ہے۔ کیا آر ایس ایس بی جے پی کے پارلیمنٹ میں مشن 360کے تحت ملک کو نیا پیرہن دینے کی تیاری ہے۔ کیا ان سب کے لئے ووٹوں کی کانٹ چھانٹ اور ایس آئی آر کو رول ہندوستانی جمہوریت کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ ایسے کئی سوال ہر سیکولر ذہن میں تشویش کی لہریں پیدا کررہی ہیں۔ خاص کر ایس آئی آرکا منظرنامہ ایک خوف پیدا کررہا ہے۔ ووٹ دینا ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر ایک ہندوستانی شہری محض کاغذی خانہ پری کی کمی کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم ہوجائے تو پھر اسے ایک سانحہ عظیم ہی کہا جائے گا۔ ووٹر لسٹ سے محروم شخص کا ووٹنگ پاور کے بغیر ملک میں سکونت بھی ایک داغ سے کم نہیں ہے۔ جو اس کی حب الوطنی پر مسلسل ضرب پہنچا رہا ہے۔ سوال تو یہ ہے کیا حق رائے دہی سے محروم شخص ملک کی دوسری سہولیات سے محروم تو ہوسکتا ہے لیکن کیا وہ ایس آئی آر میں نام نہیں ہونے سے دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا گوارہ کرے گا۔ ووٹ کی طاقت سے ملک کی ترقی کو سمت ملتی ہے۔ ووٹ کی طاقت حکومت کو زیر زبر کرتی ہے مگر وہی شہری جب ووٹ کی قوت سے محروم ہوتا ہے تو پھر اس کی حب الوطنی بے بسی کے شکنجے میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ المناک منظرنامہ ہے جو آج ووٹ سے محروم لاکھوں افراد جھیل رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص جس کا نام ووٹر لسٹ سے غائب ہے کیا اسے ملک بدر ہونا چاہئے ، سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر ایسے افراد جائیں گے کہاں جنھیں ایس آئی آر کا عمل نگل چکا ہے۔ حق رائے دہی یعنی ووٹ کا اختیار ایک مہذب شہری کو باوقار ہی نہیں بناتا بلکہ اسے ملک کی خدمت کا حصہ دار بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں وقتا فوقتا ووٹر لسٹ کی جانچ کی جانی چاہئے اس میں کانٹ چھانٹ ہونی چاہئے لیکن اس کانٹ چھانٹ کے تحت کسی کا ووٹ کا حق چھین لینا اور اسے دنیا کے سامنے بے وقعت قرار دینا ایک ایسا ظلم ہے جس کا کفارہ بھی ادا نہیں کیا جاسکتا۔
ایس آئی آر پر سوال ایک سال سے کھڑا ہوتا رہا ہے مگر اس کے جواب کے بجائے الیکشن کمیشن اپنی دھن میں لگا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ 19ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعہ اب تک چھ کروڑ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے جاچکے ہیں۔ ایسے میں یہ اذیت ناک مرحلہ ہے کہ کیا واقعی اتنی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں ہی نہیں۔ یعنی وہ ملک کے شہری ہی نہیں۔اتنی بڑی تعداد میں لوگ دستاویز نہیں حاصل کرنے کی وجہ سے اپنی ووٹ دینے کی اہلیت کو ثابت نہیں کرپائے۔ سب سے بڑا تشویش کا موضوع تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے نام فہرست سے باہر کئے گئے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا، کیا وہ ہندوستان میں رہنے کے حقدار ہیں۔ کیا ووٹنگ کے وہ حقدار ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو ان کے دوسرے بنیادی حقوق کا کیا ہوگا۔ یہ سوال اس لئے بھی اذیت ناک ہے کہ مغربی بنگال اور بہار میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد جو منظرنامہ ابھرا ہے لاکھوں افراد ووٹ سے محروم کئے گئے ہیں اور اسی محرومیت کی وجہ سے نئی سرکار وجود میں آئی ہے ،خاص کر بنگال میں 27لاکھ ووٹرس کو ٹریبیونل میں بھی نہیں سنی گئی،کیا یہ نئی جمہوریت کا چہرہ ہے۔ مغربی بنگال اور بہار میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد یہ اجاگر ہوا کہ دونوں ریاستوں میں ترمیم شدہ ووٹر لسٹ کے اعدادوشمار کو اب سماجی سیکورٹی سے منسلک منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے بھی یہ شک گہرا ہوجاتا ہے کہ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے افراد اب سرکاری منصوبوں کی سہولت سے بھی محروم رہیں گے۔
غورطلب ہے کہ سب سے پہلے بہار میں گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا تھا۔ اس پر بڑا شور شرابہ ہوا تھا، کہ اتنی جلد بازی میں ایسا کیوں کیا جارہا ہے۔ الیکشن سے ٹھیک قبل اس عمل کو شروع کرنا شک وشبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد شہریت کے اسناد کولیکر بھی معاملہ ہنگامہ خیز رہا۔ ہنگاموں کا یہ سلسلہ صرف بہار تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اترپردیش ہوتے ہوئے مغربی بنگال تک پہنچ گیا۔ بہار کے ایس آئی آر میں تقریبا 65لاکھ افراد ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے، دوسرے مرحلے میں اترپردیش ، مغربی بنگال، راجستھان، چھتیس گڑھ، تمل ناڈو، کیرلہ ، پڈوچیری ، انڈمان اور نکوبار کے علاوہ گجرات ، مدھیہ پردیش اور گوا میں بھی دس فیصد سے زائد افراد ووٹر لسٹ سے نکال باہر کئے گئے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ووٹردینے سے محروم ان افراد کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے آگے کیا موقع ملے گا۔ یا پھر وہ ہمیشہ کے لئے ووٹ دینے سے محروم ہوجائیں گے۔ ان کی شہریت بے وقعت ہوجائے گی۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ووٹر لسٹ کی وقتا فوقتا ترمیم ضروری ہے۔ جو مرچکے ہیں ان کا نام ہٹانا ضروری ہے۔ لیکن افسوسناک امر تو یہ ہے کہ آج بھی کچھ ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل پورا ہوا ہے اور تقریبا چھ کروڑ لوگ ووٹ دینے کی طاقت سے محروم ہوچکے ہیں۔ تو پھر ملک بھر میں ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہوگی ،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان کی شہریت برقرار رہے گی کہ نہیں رہے گی، کیونکہ کسی ملک کا شہری حق رائے دہی کا اختیار رکھتا ہے۔ کروڑوں افراد جو آج ووٹر لسٹ سے نکالے گیے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک اذیت ناک سوال ہے۔ حالانکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا جو مخالف ہے ان کے نام ہی بڑے منصوبہ بند طریقے سے کاٹے گئے ہیں۔ ان کے ووٹ کو بے وقعت بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہرحال ایک محتاط اندازے کے مطابق ایس آئی آر سے ملک میں تقریبا دس کروڑ افراد کے ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا خدشہ جتایا جارہا ہے۔بہرحال ووٹر لسٹ سے باہر کئے گئے لوگوں کی شہریت پر ایسی تلوار لٹکی ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ ایسے مظلوم افراد کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ ایسے میں یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ کہ انھیں پھر موقع ملنا چاہئے تاکہ کوئی معمولی دستاویز کی کمی کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جمہوریت صحیح معنیٰ میں تبھی زندہ رہتی ہے جب وہاں کے شہریوں کے ووٹنگ کے حقوق محفوظ ہوں اور یہ شہری غیر جانبداری اور شفافیت سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ سیاست کے نئے کھیل سے کروڑوں افراد متاثر ہورہے ہیں۔ اس میں باشعور افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مظلوم افراد کی مدد کریں جو دستاویز مہیا نہیں کرنے کی وجہ سے یا کسی مجبوری کی وجہ سے ایس آئی آر سے ان کا نام غائب ہے،جو سیکڑوں سال سے ہندوستان کی دھرتی پر مقیم ہیں مگر بھگوا سیاست کا ایسا بول بالا ہے کہ حق بات کہنا بھی جرم بن گیا ہے اور باطل پر خموشی مجبوری بن گئی ہے۔ بقول نعمان شوق

جمہوریت کے بیچ پھنسا اقلیت کا دل
موقع جسے جدھر سے ملا وار کردیا

 

Continue Reading

محاسبہ

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

Published

on

محسابہ:سید فیصل علی 

تقریبا100دنوں تک جنگی تباہ کاری مچانے کے بعد بالآخر امریکہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔ 18جون کو ایران کی شرطوں پر ٹرمپ نے جنگ بندی معاہدہ کرلیا۔ حالانکہ اس معاہدہ کو سبوتاز کرنے کے لئے اسرائیل ہنوز لبنان پر بمباری کررہا ہے۔ جس کی دنیا مذمت کررہی ہے۔ ایران کی 14نکاتی شرطوں میں ایک اہم شرط یہ تھی کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملہ بند نہیں کرے گا یہ معاہدہ بے اثر رہے گا۔ چنانچہ ٹرمپ اسرائیل کی شہ زوری کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ مگر اسرائیل کی فتنہ گری جاری ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے بھی کھل کر اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ ایران کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کو حملہ روکنے کے لئے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کا وجود امریکہ کے دم سے ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ نہیں رہے گا تو وہ دو گھنٹے بھی جنگ میں ٹک نہیں پائے گا۔ ٹرمپ کے اس اعتراف نے جہاں اسرائیل کی طاقت کی قلعی کھول دی ہے وہیں سو دنوں تک امریکہ سے برسرپیکار رہنے والے ایران کی طاقت بھی دنیا پر آشکار ہوچکی ہے۔اور ایک صفر پاور ایران نے ایک سپر پاور امریکہ پر سبقت لے کر دنیا کو حیران کردیا ہے۔ گرچہ ایران نے اس جنگ میں بہت کچھ گنوابھی دیا ہے۔اس کے بڑے بڑے لیڈر، کمانڈر، سیکڑوں بچوں سمیت ہزاروں لوگ وطن پر نچھاور ہوچکے ہیں، اور یہی قربانی ایران کی طاقت بن چکی ہے۔ عوام جب خود حکومت کے پشت پر کھڑے ہوں تو وہ ملک ہارنے کے باوجود دنیا میں سرخرو ہوتا ہے۔
ایران کی قوت کا ہی نتیجہ ہے کہ ٹرمپ نے جی 7کے پریس کانفرنس میں کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے تو دنیا مزید اقتصادی مصیبت کا شکار ہوجاتی ۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے لاکھوں ڈالر یومیہ کا خسارہ ہورہا تھا، اس خسارے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ جو لگاتار لبنان پر حملہ کرکے ایران کو مشتعل کررہا ہے۔ تاریخ کا عجیب وغریب منظرنامہ ہے کہ چند ماہ قبل تک ایران دنیا میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، اب وہی ایران مظلوم کے طور پر یاد کیا جارہا ہے۔ اور اسرائیل دنیا کے لئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسا ملک بن گیا ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک پسند نہیں کررہا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اسرائیل کے جنگی جنون سے دنیا کے ممالک اس سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اور یہ بھی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ پہلی بار امریکہ نے اسرائیل کو اس کی طاقت کو آئینہ دکھا کر خود کو جنگ سے الگ کرلیا ہے۔ کیونکہ اسے احساس ہوچکا ہے کہ اس کی بمباری ایران کی میزائیلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران کو دبایا نہیں جاسکتا۔ اس کی میزائیلیں اسرائیل کو تباہ وبرباد کردیں گی۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کی بقا کے لئے کی ہے۔
ایران امریکہ ڈیل کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی صبح کا آغاز ہوچکا ہے دنیا سکون کی سانس لے رہی ہے۔ مگر اس جنگ نے دنیا کے آگے دنیا کے سپر پاور کی قلعی کھول دی ہے۔ ایران اور اسرائیل بمباری سے چور ایران کی جرأت کو سلام۔ کہ جس طرح اس نے ٹرمپ اور نتن یاہو کو میزائلوں سے جواب دیا ، کہ ٹرمپ کو اعتراف کرنا کہ اسرائیل امریکہ مل کر بھی ایران کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے یوروپین ممالک سے بھی مدد کی گہار لگائی۔ ناٹو ملکوں سے بھی ساتھ دینے کو کہا مگر ایران کی قوت اور ہمت کو دیکھتے ہوئے کسی نے ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا۔ اس جنگ میں صرف امریکہ کا نقصان ہورہا تھا جس سے امریکی عوام بھی برہم تھے۔ خاص بات تو یہ ہے کہ اس جنگ نے یہ بھی واضح کردیا کہ ایران جسے دنیا ملاؤں کا ملک کہتی تھی ، جہالت ، معاشی بدحالی کا مسکن کہا جارہا تھا، خواتین کی بے بسی کا ملک قرار دیا جارہا تھا، اور کہا جارہا تھا کہ وہ ملک ہے جہاں عورت قیدی کی طرح رہتی ہے ، لیکن اس جنگ نے ثابت کردیا کہ ایران تعلیمی ،ثقافتی اور فوجی اعتبار سے بہت آگے ہے۔ ایران دنیا میں خواتین کی تعلیم میں ساتویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ سائنس کے میدان میں تو کمال کا منظرنامہ ہے۔ میزائل کا جو دھواں دھار استعمال ایران نے اس جنگ میں کیا ہے اس میں خواتین کا رول سب سے زیادہ اہم ہے۔ ایران کی سائنسدانوں خواتین کا شمار آج دنیا کی بہترین سائنسداں میں ہورہا ہے۔
علاوہ ایران کی قیادت اور فوجی طاقت کا اندازہ بھی دنیا نے لگا لیا کہ کس طرح اس نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اورٹرمپ کو کہنا پڑا کہ اگر ہم جنگ بندی نہیں کرتے تو دنیا سنگین معاشی بدحالی کا شکارہوجاتی ۔ تیل کے ذخائر میں صرف 4ہفتے کا تیل رہ گیا تھا۔ لیکن اس جنگ کا محرک تو اسرائل تھا جو آج بھی اپنے جنون میں مبتلا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ اس سے کہہ چکے ہیں کہ تم پاگل ہوچکے ہو، اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ تمہاری وجہ سے دنیا اسرائل سے نفرت کررہی ہے۔ اس جنگ میں کس کا زیادہ نقصان ہوا ، کس نے کیا کھویا ، کیا پایا ، ہم اس کے تجزئے میں نہیں جائیں گے۔ ہم صرف یہ کہیں گے کہ ایک صفر پاور کے آگے ، سپرپاور جس طرح سر نگوں ہوا وہ قدرت کا درس آمیز منظرنامہ ہے۔ ایران سب کچھ کھو کر بھی بہت کچھ حاصل کرچکا ہے۔ اس نے اپنی شرطوں پر جنگ بندی قبول کی ہے۔ امریکہ اب ایران کو 28لاکھ کروڑ کا ہرجانا دے گا۔آبنائے ہرمز 60دنوں تک فری رہے گا۔ اس کے بعد ایران گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا، گویا ایران کی معیشت کو رفتار دینے والی نئی راہ کھل چکی ہے۔ جس طرح یہ معاہدہ ہوا ہے اس میں ایران کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ فوجی ترقی کی بھی سربلندی ہوئی ہے۔
بہرحال 100دنوں کی اس جنگ میں ایران بہت کچھ گنوانے کے باوجود سرخرو ہے۔ جبکہ ٹرمپ اورنتن یاہو نے ہزاروں کروڑ گنوانے کے بعد کیا حاصل کیا ہے یہ فکر کا موضوع ہے۔ ایران نے وقار کی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو بے وقار کردیا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ ایران جو ہندوستان کا قدیم ترین دوست رہا ہے،کشمیر کے سوال پر ہندوستان کا ہمنوا رہا ہے۔ اس تناظر میں پی ایم کی خاموشی سے کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت اور سیکڑوں بچوں کی اموات کے باوجود پی ایم مودی کی خاموشی سے بہرحال سوال تو اٹھتاہی ہے کہ جس ٹرمپ سے دوستی کا دم مودی بھرتے ہیں وہ مسلسل ہندوستان کی تذلیل کررہا ہے اور خود ہمارے وزیر اعظم کا مضحکہ اڑا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہندپاک جنگ کے دوران سیز فائر کا اعلان کیا۔ مودی خاموش رہے۔
ٹرمپ نے ہندوستان کو جہنم کا دروازہ قرار دیا پھر بھی خاموش رہے۔ ٹرمپ نے روس ہند تعلقات پر انگلی اٹھائی پھر بھی خاموشی ۔ ٹیرف لگا کر تجارت کو کمزور کرنا چاہا پھر بھی خاموشی، جانے کتنی بار ٹرمپ نے ہندستان کی تذلیل کی یہاں تک کہہ دیا کہ ہم چاہیں تو مودی کا کیریئر برباد کردیں پھر بھی خاموشی،۔ اور حد تو تب ہوگئی جب امریکہ نے تین ہندوستانی جہاز رانوں کو ہلاک کردیا ، اس پر شرمندگی کے بجائے دھمکیاں دیتا رہا ، پھر بھی خاموشی ۔کاش ہمارے وزیر اعظم ایران سے درس لیتے جو زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود امریکہ اسرائیل سے لوہالیتا رہا اور انھیں واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ بقول شاعر
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

Continue Reading

محاسبہ

بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی

Published

on

ملک کی جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا نے جس طرح اپنے فرائض اور حق گوئی سے منہ موڑا ہے اس سے ہندوستان کے اقدار اور سنسکار اور وکاس کا ایسا خسارہ ہوا ہے جس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی، میڈیا جو کبھی ظالم کے خلاف اک صدائے احتجاج بن کر کھڑا ہوتا تھا جس کے دم سے سرکار بھی ہل جاتی تھی وہی میڈیا ظلم پر نہ صرف خموش ہے بلکہ ظالم قوتوں کا ہمنوا بن چکا ہے، سرکار سے سوال پوچھنے کے بجائے اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ صرف میڈیا کی اس زہریلی روش سے ملک میں نفرت کی ایسی لہر چل پڑی ہے جو کب تھمے گی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اور وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایوان عدل جو کبھی انصاف کے مندر کہے جاتے تھے اب وہ بھی انصاف دینے میں تساہلی یا تاخیر سے کام لے رہے ہیں جس سے ظالم کا حوصلہ بڑ ھ رہا ہے۔ ملک میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت کی لہر بڑھتی ہی جارہی ہے عمر خالد ، شرجیل امام کو پانچ برسوں سے ضمانت عرضی التوا میں پڑی ہوئی ہے جس سے اقلیتی طبقہ میں ایک بددلی کا عالم ہے تو دہلی فساد میں زہریلی تقریر کرنے والے کپل شرما کو کلین چٹ دے دی گئی۔ یہ آج عدل وقانون کا عبرتناک منظرنامہ ہے حد تو یہ ہے کہ بے روزگاری سے پریشان نوجوانوں کو دلجوعی کے بجائے انھیں کاکروچ یا پیرا سائٹ سے تعبیر کرنے والی عدالت پر سے اب عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہورہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ راتوں رات ملک کے نئے ماحول کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا وجود عمل میں آچکا ہے اور جس طرح دہلی میں جنتر منتر پر بے روزگار نوجوانوں اور طلبا نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے وہ آنے والے دور میں حکومت وقت کے سامنے ایک چیلنج سے کم نہیں جس کے آگے میڈیا سے لیکر ملک کے آئینی ادارے بھی سرنگوں ہوچکے ہیں۔آج ملک کا دلسوز منظرنامہ یہ ہے کہ جس طرح گودی میڈیا ملک کی خبروں میں نفرت بھررہا ہے وکاس وترقی کے بجائے مذہبی جنون کا نقارہ بجارہا ہے تو دوسری طرف عدلیہ بھی حکومت کی جوابدہی طے کرنے اور فرقہ پرست قوتوں پر قدغن لگانے سے گریزاں ہے نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا دنیا میں 150ویں نمبر میں 145ویں نمبر پر ہے تو دوسری جانب ہندوستان کی عدلیہ پر بداعتمادی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں لندن گئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاشبہ سی جے آئی کی توہین ملک کی توہین کے مترادف ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی۔ سوال تو یہ ہے کہہ کیا عدل وقانون کے مندر بھی ایک مخصوص فکرونظر سے متاثر ہوچکا ہے ابھی گزشتہ دنوں پانچ نئے جج سپریم کورٹ میں لائے گئے ہیں مگر ان کی تقرری پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اگر ان کے ماضی کو دیکھا جائے تو سبھی کسی نہ کسی طور پر حکومت وقت کے ہم نوا رہے ہیں کیا وہ سپریم کورٹ جاکر عدل وقانون کے سرپرست رہیں گے ، یہ بڑا سوال ہے۔
مگر ان تمام تر کشاکش کے باوجود امید کی کرنیں معدوم نہیں ہوئی ہیں عدلیہ کے بعض فیصلے آج بھی ہندوستانی اقدار وسنسکار کے تحفظ اور عدل وقانون کی برتری کی مثال بنے ہوئے ہیں اور آج کے عدالتی نظام پر بھی سوال کھڑا کررہے ہیں ، اسی سپریم کورٹ میں ایک جج نے UAPAقانون کو ملک کے وکاس کی راہ کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ دنوں مدراس ہائی کورٹ نے عدالتی نظام پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے جو فیصلہ دیا ہے وہ ایک نظیر ہے جس میں دس برسوں سے التوا میں پڑے ایک اہم مقدمے میں ڈی ایم کے کے ایک ہارے ہوئے امیدوار کے حق میں فیصلہ دیا ہے، ڈی ایم کے امیدوار جو صرف 151ووٹوں سے اے ڈی آئی ایم کے امیدوار سے ہار گیا تھا تب سے یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں تھا جو بعد مدراس ہائی کورٹ منتقل ہوگیا تھا جس میں یہ ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہارا ہوا امیدوار فاتح قرار دیا گیا ۔ حالانکہ جیتا ہوا امیدوار مدراس اسمبلی میں اپنی کارکردگی کی مدت بھی پوری کرچکا ہے اور اب پنشن بھی لے رہا ہے۔ عدالت نے تساہلی کے لئے نظام عدل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اب حکم دیا ہے کہ ایم ایل اے فہرست میں ڈی ایم کے امیدوار کا نام درج کیا جائے اور ایک سابق ایم ایل اے کی جو سہولیات ہیں وہ دی جائیں اور آئی ڈی ایم کے سابق ممبر اسمبلی کا پنشن روک کر ڈی ایم کے امیدوار کو جاری کیا جائے۔
ادھر یوپی میں بلڈوزر کارروائی پر بھی سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا اور اسے عدل وقانون کے منافی قرار دیا۔ مگر ان تمام برہمی کے باوجود یوپی میں ایک خاص طبقہ کے خلاف فتنہ سازی اور بلڈوزر کارروائی کا دور دورہ ہے، مدرسے ، درگاہیں، قبرستان ، مساجد سب بلڈوزر کے نشانے پر ہیں۔ چنانچہ الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ یہاں کی پولیس آئین اور جمہوریت کے تئیں وفادار نہیں ہے بلکہ سرکار کی وفادارہے۔ امن وشانتی کے نام پر بے گناہوں کو حراست میں لے رہی ہے۔
ابھی حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک ایسا تاریخی فیصلہ آیا ہے جس سے نہ صرف ہندوستانی جمہوریت اور مظلومین کی آنکھوں میں امید کی کرن پیدا کردی ہے بلکہ ایوان اقتدار وعدل وقانون کے آگے بھی سوال کھڑا کردیا ہے۔غورطلب ہے کہ پریاگ راج کے منصور احمد کو پولیس نے آٹھ دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا تھا اور پھر جب رہائی نہ ملی تو معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچا تو عدالت نے امن وشانتی کے نام پر پولیس کے اس فرعونی حرکت پر زبردست پھٹکار لگائی ، اس نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت ملک میں ایک شہری کی ذاتی آزادی سب سے اوپر ہوتی ہے ، منصور احمد کو 8دنوں تک غیر قانونی حراست میں رکھنا ایک سنگین جرم ہے عدالت نے اترپردیش سرکار کو 6ہفتے کے اندر دو لاکھ روپے مظلوم کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ۔ عدالت نے معاوضہ کی یہ رقم ذمہ دار افسر کی تنخواہ سے کاٹے جانے کا حکم دیا ساتھ ہی ساتھ محکماتی کارروائی کا بھی حکم دیا ۔ عدالت کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ قانون، نظم ونسق اور ایک شہری کے اختیار اور ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے ہندوستان کا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی عمل کے بغیر اس کی آزادی کو ضرب نہیں پہنچایا جاسکتا ایک شہری کے بنیادی حقوق میں اس کی آزادی بھی شامل ہے ۔ ظاہر ہے کہ منصور احمد کو آٹھ دنوں تک جس طرح حراست میں رکھا گیا ، بے وجہ تکلیف پہنچائی گئی اسے عدالت نے قانون کے نام پر ایک ضرب قرار دیا۔ اور یہ بڑی بات ہے کہ عدالت نے اتنا سخت رویہ اختیار کیا اور پولیس محکمہ پر ہی کارروائی کا حکم دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے نے بلاشبہ انصاف کا پرچم بلند کردیا ہے ، مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ جس طبقہ کے ایک فرد کے خلاف یہ فیصلہ آیا ہے وہ طبقہ تو ایک دہائی سے معتوب زمانہ ہے، کیا منصور احمد کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا ، کیونکہ ابھی گزشتہ ہفتے سنبھل میں نماز کو لیکر پولیس محکمہ نے اپنا فرعونی رویہ اختیار کرتے ہوئے سڑک پر نماز پڑھنے پر کارروائی کا اعلان کیا تھا جس پر ایک جج نے انتظامیہ اور پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ جو نظم ونسق سنبھال نہیں سکتے انھیں مستعفی ہوجانا چاہئے۔ جج نے کہا تھا کہ سڑک پر نماز کی ادائیگی سے نظم ونسق کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ اسے سنبھالے مگر افسوس حق گوئی کی پاداش میں جج صاحب کا روسٹر ہی تبدیل کردیا گیا ، اب وہ دیوانی مقدمات دیکھ رہے ہیں ، بہرحال الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کی جرأت کو سلام ، جنھوں نے عدل و انصاف کا پرچم سربلند رکھا اور اترپردیش کی پولیس محکمہ ودیگر ایجنسیوں کو بھی واضح پیغام دیا کہ شہریوں کے حقوق واختیارات کسی بھی طاقت ، کسی بھی حکومت سے بالا تر ہیں۔ بقول غالب
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network