دیش
سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میںشامل کرنے کا معاملہ، فیصلہ محفوظ
نئی دہلی:رائوایونیو کورٹ نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے سے منسلک نظرثانی اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریت ملنے سے پہلے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے مجسٹریٹ نے خارج کردیا تھا۔ اسی حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی ۔کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسی عرضیاں داخل کی جاتی ہیں تاکہ شہرت مل سکے۔ یہ سب سیاست کا ایک حصہ ہے۔ سونیا گاندھی کے کردار پر کوئی انگلیاں نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح ان کی شہریت اور حب الوطنی بھی ایک مثال ہے۔
دیش
آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند
گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔
دیش
ہندوستان کے ماضی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی،ماضی کبھی مستقبل کا نہیں کرسکتا مقابلہ،راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنمائوں کا ردعمل
نئی دہلی: وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد اپوزیشن میں جشن کا ماحول ہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ یہ سچ کی جیت ہے، وزیر اعظم کی ضد ہار چکی ہے۔کانگریس نے کہا کہ نریندر مودی ہندوستان کے ماضی ہیں اور وہ مستقبل کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو طلبا مخالف بتاتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاح کی بات کہی تھی۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا وغیرہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کیا۔ اور کہا کہ طلبا کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اسے ہمارے تعلیمی نظام کی اصلاح کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا اور ملک بھر کے طلباء کو ان کے عزم کے لیے مبارکباد دی۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ لاکھوں نوجوانوں، سچائی اور متحد اپوزیشن کی جیت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد کی شکست ہے۔ کھرگے نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کے طلباء کی آواز آخر کار متکبر حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لاکھوں نوجوانوں کی جیت ہے جو ملک بھر میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ یہ سچائی کی جیت اور مودی کی ضد کی شکست ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیرا نے اس فیصلے کو ناکافی اور تاخیری قدم قرار دیا۔ کھیرا نے کہا یہ بہت دیر سے نامکمل قدم ہے لیکن ہم نے آخر کار اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر، سپریا سولے نے کہا، “وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پرامن مظاہرین، طلباء اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو نیٹ یو جی کے معاملے پر ڈٹے رہے۔
ششی تھرور نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں احتساب سے ہمیشہ کے لیے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پوری قوم کو مبارکباد۔ یہ جمہوریت کی بڑی جیت ہے۔
دیش
طلبا کے آگے جھکی سرکار،پردھان مستعفی
نئی دہلی:بالآخر طلبا کے آگے جھکنے پر مجبور ہوگئی مودی سرکار، سی جے پی کے طلبا کے مظاہرے کے دبائو میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ کے بعد جنتر منتر پر چلنے والے مظاہرہ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔سی جے پی کے ترجمان نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار نے بات چیت میں سی جے پی کے تمام مطالبات مان لیے ہیں ۔ اس لئے اب طلبا کو جنتر منتر سے گھر واپس لوٹ جانا چاہئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد مرکزی حکومت کے دو نمائندے وزیر جتیندر سنگھ اور جے پی نڈا کے درمیان کاکروچ پارٹی کے دو ارکان سوربھ داس اور ابھشیک راکا کےدرمیان تیسرے دور کی بات چیت ہوئی، جس میں حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کرلئے اس کے بعد کنسٹیوٹیوشن کلب دہلی میں سی جے پی کے ترجمان آشوتوش راکا نے کہا کہ ہماری تمام باتیں مان لی گئی ہیں ہم مظاہرین نے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔
مرکزی وزیر نڈا نے کہا کہ سرکار نیٹ سے متعلق خودکشی کرنے والوں کے متاثرین کو ورثا کو معاوضہ دے گی۔ آشوتوش راکا نے کہا کہ ہم نے نیٹ متاثرین خاندان کے لئے ایک کروڑ معاوضہ کی بات کی ہے سرکار اس پر راضی ہے۔ امید ہے کہ متعینہ مدت میں تمام مطالبات پورے کرلئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے سرکار کے سامنے پانچ مطالبات والا مکتوب رکھا ، جس میں تعلیم اور امتحانات میں بڑی تبدیلی کی بات بھی کہی گئی تھی۔ ہم اس معاملے میں چار ہفتے بعد پھر سرکار سے ملیں گے۔ تاکہ بڑے اصلاحات پر کام کیا جاسکے۔ اگر سرکار ان تمام مطالبات کومان لیتی ہے تو ہم اپنا اندولن بھی واپس لے لیں گے۔
غورطلب ہے کہ ” 20 جولائی کے “چلو پارلیمنٹ” مارچ کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ سی جے پی نے ان تمام مقدمات کی واپسی اور آئندہ کسی قانونی کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سورَو داس نے کہا، “حکومت نے یہ مطالبہ بھی مان لیا ہے۔ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام ایف آئی آر کی نقول تین سے چار دن کے اندر فراہم کی جائیں گی اور ان کی واپسی کا عمل بھی جلد مکمل ہوگا۔ حکومت اس سلسلے میں منگل تک تحریری ضمانت بھی فراہم کرے گی۔” اس سے قبل آج ہی دھرمیندر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طلبہ کے وسیع تر مفاد میں عہدہ چھوڑ رہے ہیں تاکہ ملک کے نوجوان “کنفیوژن کے جال” میں نہ پھنسیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی، جس کا آغاز چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک تبصرے کے بعد طنزیہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے طور پر ہوا تھا، نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے ساتھ مل کر جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کی تھی اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ تنازعہ مئی 2026 میں نیٹ۔یو جی پرچہ لیک سامنے آنے کے بعد شروع ہوا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد کیا گیا تھا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
