تازہ ترین
پیپر لیک روکنے کے لیےسمراٹ حکومت کا بڑا فیصلہ، بہار کے29اضلاع میں قائم کئے جائیں گے امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روماے آئی ایس اے کا جے پی یونیورسٹی میں بدنظمی کے خلاف احتجاج’’عظمتِ رفتہ کی جستجو‘‘علم و تاریخ کے بھولے ہوئے چراغوں کی بازیافت: فضل رحمٰن رحمانیسہارنپورمیں مسجد کا انہدامی معاملہ تشویشناک،آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘ چوتھے دن پہنچی بجنوردارالعلوم فاروقیہ میں موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مجلس، مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے درس کاکرایاباوقار آغازجانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبرشاعر : پروفیسر گلریز،اے ایم یو میں’’در ودیوار سے پہلے‘‘کی تقریب رسم اجرا کا انعقادکینڈا میں بیف بنانے سے روکنے پر ہندو عورت گرفتار،جبراً گھر میں گھسنے ، بیف پھینکنے کا کرایہ دار نے لگایا الزاماتراکھنڈ:بہہ گیا 170فٹ لمبا برج، عام زندگی مفلوج،چھتیس گڑھ کے کئی کالج طلبا ندی میں لاپتہ،بہار میں 47 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر
بہار

حافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی

(پی این این)
ھلواری شریف: گذشتہ 28 مئی کو حافظ محمد منصور عالم استاد پرائمری اسکول شہر دربھنگہ کو چند شر پسند عناصر نے جس بے رحمی سے شہید کیا اس نے ریاست بہار کے لاؤ اینڈ آڈر کو سوالات کے گھیرے میں کھڑا کر دیا ،اس المناک و دردناک سانحہ پرامارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حافظ صاحب ایک محنتی اور جفا کش استاذ تھے وہ عرصے سے اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیتے تھے اور اپنی صلاحیت و صالحت کے باعث اساتذہ و طلباء بلکہ علاقہ میں بھی قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے، وہ اسکول جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے موٹر سائیکل پر سوارغنڈوں نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے حافظ صاحب کی جائے وقوع پر ہی موت ہو گئی اور مجرم راہ فرار اختیار کر گئے ،اس واقعہ نے سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ دن کے اجالے میں اتنا بڑا واقعہ پیش آیا اور پولیس تماشائی بنی رہی جو کہ نہایت ہی افسوس ناک ہے ۔
تنظیم امارت شرعیہ ضلع مدھوبنی کے ذمہ داروں نے مرحوم کے اہل خانہ سے مل کر تعزیت مسنونہ پیش کی اور ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ،امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم صاحب نے وزیر اعلیٰ بہار سے مجرموں کو گرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے اور اہل خانہ کو معقول معاوضہ اور ایک شخص کو سرکاری نوکری دینے کا مطالبہ کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ جس طرح کی بھی قانونی مدد ہو سکتی ہے ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے مزید انہوںنے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہےکہ وہ ریاست میں امن و امان کو بحال کر کے قانون کی بالادستی قائم رکھےاور خوف و دہشت کے ماحول کو ختم کرے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔