Connect with us

دیش

بین الاقوامی کانفرنس میں اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے لائبریریوں میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو اجاگر کیا

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کے پروفیسر ایم معصوم رضا نے مانو رچنا انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹڈیز، فرید آباد میں ”اکیڈمک لائبریوں میں انوویشن اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن“ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس میں ایک لیکچر دیا۔
’اے آئی کا حال اور مستقبل‘ موضوع پر اپنے خطاب میں پروفیسر رضا نے اکیڈمک لائبریریوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اے آئی، صارفین کو ایک بہتر تجربہ فراہم کررہا ہے، لائبریری خدمات کو خودکار بنا رہا ہے، اور علم تک رسائی اور اس کے مینجمنٹ کے مستقبل کو نئی سمت عطا کررہا ہے۔

کانفرنس کی افتتاحی نشست کے دوران ایک کتاب”آرٹیفیشیئل انٹلی جنس اینڈ ایمرجنگ ٹکنالوجیز اِن لائبریریز“ کا اجراء عمل میں آیا، جس کے چیف ایڈیٹر پروفیسر ایم معصوم رضا اور مدیر جناب امتیاز الحق ہیں۔ اس کتاب میں لائبریری خدمات میں اے آئی، ڈیجیٹل ٹولز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر مضامین شامل ہیں۔ پروفیسر معصوم رضا، کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے تین مقالات کے مشترکہ مصنف بھی تھے۔

دلی این سی آر

تھالی پیٹ کر کاکروچ جنتا پارٹی کے ارکان کاجنتر منتر پر مظاہرہ

Published

on

نئی دہلی:سی جے پی دہلی کے جنتر منتر پر پیپرلیک کولیکر دوسری بار دھرنا ،مظاہرہ کررہی ہے، اس کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا ہے کہ لاٹھی گولی کھانی پڑے ،چاہے گرفتاری ہو، ہم وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بغیر جنتر منتر سے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے جیل بھرو اندولن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ دہلی پولیس نے شام پانچ بجے تک جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دی تھی ، لیکن مظاہرہ جاری ہے جس کو ہٹانے کے لئے پولیس منچ پر پہنچی۔ اور مظاہرہ ختم کرنے کو کہا۔ اس موقع پر دیپکے نے کہا کہ اگر تھالی پیٹنے سے کورونا وائرس ختم ہوسکتا ہے ،تو ایک بار پھر تھالی پیٹ کر وزیر تعلیم کوہٹایا جائے گا۔ اس دوران مظاہرین نے تھالی پیٹ کر دھرمیندر پردھان کے خلاف گوپردھان گو پردھان کا نعرہ لگایا۔ اسٹیج پر خود کشی کرنے والے طلبا کے فوٹو بھی لگائے گئے ہیں۔

Continue Reading

دیش

مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر کا مالیگاؤں کی قدیم اردو لائبریری کا دورہ

Published

on

مالیگاؤں: اردو زبان و ادب کی خدمت، علمی سرگرمیوں کے فروغ اور نئی نسل میں مطالعے کے شوق کو پروان چڑھانے کے جذبے کے تحت مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے مالیگاؤں کی سب سے قدیم اردو لائبریری کا خصوصی دورہ کیا۔ ان کی آمد سے لائبریری کا ماحول علم، ادب اور خوشگوار جذبات سے معمور ہوگیا۔ اس موقع پر انہوں نے لائبریری کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور یہاں موجود علمی و ادبی خدمات کو قریب سے دیکھا۔
سید حسین اختر نے لائبریری میں قائم انفارمیشن سینٹر، کتابوں کے وسیع ذخیرے، نادر و نایاب کتب کے مجموعے، کتابوں کی بہترین ترتیب، ان کے محفوظ رکھنے کے انداز اور قارئین کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی زبان اور تہذیب کی بقا کے لیے لائبریریاں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں ماضی کی علمی وراثت محفوظ رہتی ہے اور مستقبل کی نسلیں اپنے فکری سفر کا آغاز کرتی ہیں۔
دورے کے دوران چیئرمین موصوف نے خاص طور پر بچوں کے سیکشن کا مشاہدہ کیا اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے مطالعے کا الگ ماحول فراہم کرنا ایک نہایت اہم اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کم عمری میں بچوں کے دلوں میں کتابوں سے محبت پیدا کردی جائے تو یہی بچے مستقبل میں علم و ادب کے چراغ روشن کرنے والے ثابت ہوں گے۔ انہوں نے بچوں کے شعبے کو نئی نسل کی ذہنی و فکری تربیت کے لیے ایک مثبت اور مؤثر کوشش قرار دیا۔
لائبریری میں موجود قیمتی، تاریخی اور نایاب کتب کے ذخیرے کو دیکھ کر سید حسین اختر نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو تہذیب، تاریخ، فکر اور ادبی روایت کا ایک قیمتی سرمایہ ہے، جس کی حفاظت اور ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لائبریری انتظامیہ کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود جس جذبے اور لگن کے ساتھ یہ علمی مرکز اپنی خدمات انجام دے رہا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ چیئرمین مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکادمی نے لائبریری کی مزید ترقی، توسیع اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں کمپیوٹر کلاسز کے آغاز کی تجویز بھی پیش کی تاکہ طلبہ، نوجوانوں اور اردو سے وابستہ افراد کو جدید ٹیکنالوجی اور عصری علوم سے بھی فائدہ پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کا فروغ صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ہی اس زبان کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
سید حسین اختر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ممبئی اور دیگر علاقوں کے ریسرچ اسکالرز، محققین اور اردو زبان و ادب سے وابستہ افراد کو اس لائبریری کا دورہ کرنے کی ترغیب دیں گے تاکہ وہ یہاں موجود علمی ذخیرے سے استفادہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی لائبریریاں تحقیق، مطالعہ اور علمی تبادلے کے لیے نہایت اہم مراکز ثابت ہوسکتی ہیں اور ان کے ذریعے اردو ادب کے نئے گوشے سامنے آسکتے ہیں۔
اس موقع پر لائبریری کے ٹرسٹیان مظہر معاذ شوقی، ڈاکٹر احتشام دانش، عبید الرحمن حکیم، نہال عبداللہ اور جاوید انصاری نے سید حسین اختر کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب میں ممتاز صحافیوں اور ادبی شخصیات وسیم رضا، سلیم شہزاد، خیال اثر، عزیز اعجاز، خالد قریشی اور سہیل قریشی نے بھی شرکت کی اور اس علمی موقع کو یادگار بنایا۔ لائبریرین آصف احمد اور سمید احمد نے ڈاکٹر حسین اختر اور تمام معزز شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دورے اداروں کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور علمی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔یہ دورہ نہ صرف ایک رسمی ملاقات تھی بلکہ اردو زبان، ادب اور تہذیبی ورثے سے محبت کا ایک خوبصورت اظہار بھی تھا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے علمی و ادبی روابط مستقبل میں بھی جاری رہیں گے اور اردو لائبریریاں نئی نسل کی فکری آبیاری، تحقیق کے فروغ اور زبان و ادب کی خدمت میں اپنا روشن کردار ادا کرتی رہیں گی۔

Continue Reading

دیش

ادبی نشست اپنے منفرد انداز کے سبب بن گئی توجہ کا مرکز

Published

on

(پی این این)
مالیگاؤں: اردو شہر مالیگاؤں ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ’’کافی ہاؤس و شعور سرائے‘‘ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ’’ادبی بیٹھک‘‘ نے اس روایت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اپنی انفرادیت، فکری گہرائی اور تخلیقی فضا کے باعث یہ نشستیں نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پورے ہندوستان کے ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔
ادبی بیٹھک نمبر 03 گرما کی ایک خاموش مگر ستاروں سے سجی رات میں رفیع احمد قدوائی روڈ، اسکول نمبر 1 کے احاطے میں منعقد ہوئی۔ رات دس بجے سے شروع ہونے والی یہ محفل ڈیڑھ بجے تک جاری رہی، مگر حاضرین کو وقت کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گھڑی کی سوئیاں بھی ادب کے سحر میں گم ہو گئی ہیں۔ نشست کی صدارت ادب، فلسفہ، آرٹ اور انسانی نفسیات کے گہرے شناسا عمران سر چوپڑا نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض احمد نعیم (موت ڈاٹ کام، مالیگاؤں بھارت) نے اپنے مخصوص دلکش اور بے ساختہ انداز میں انجام دیے۔ محفل میں جدید اردو شاعری کے عظیم شاعر بشیر بدر کو بھی بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اس نشست کا آغاز ہی اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ کافی ہاؤس و شعور سرائے کی روایت کے مطابق احمد نعیم نے تمام شرکاء میں ماچس تقسیم کی۔ یہ محض ایک ماچس نہیں تھی بلکہ تاریکی سے روشنی، جمود سے شعور اور بے حسی سے آگہی کی جانب سفر کی علامت تھی۔ جب تمام حاضرین نے اپنی اپنی تیلی روشن کی اور گوتم بدھ کے معروف قول ’’اپّو دیپو بھو‘‘ (اپنا چراغ خود بنو) کی صدا فضا میں گونجی تو یوں محسوس ہوا جیسے لفظوں، خیالوں اور خوابوں کا ایک عظیم کارواں روشنی کی سمت روانہ ہو چکا ہو۔ ڈاکٹر مختار انصاری نے اپنا افسانہ ’’پسِ دیوار‘‘ پیش کیا۔ افسانے پر ہونے والی سنجیدہ تنقیدی گفتگو نے محفل کے فکری معیار کو مزید بلند کر دیا۔ نعیم صدیقی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افسانے میں دیوار کے اُس پار کے اندھیرے کی شدت پوری طرح سامنے نہیں آسکی اور عنوان کے بعض تقاضے تشنہ رہ گئے۔ معروف شاعر متین شہزاد نے اپنی دو دلنشیں غزلیں سنائیں۔ رومان اختر نے ان کی شاعری کو تازگی اور انفرادیت کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت کم کہتے ہیں۔ حاضرین کی متفقہ رائے تھی کہ متین شہزاد کے اشعار محض سنے نہیں جاتے بلکہ آنکھوں کے سامنے تصویروں کی طرح ابھر آتے ہیں۔اسکیچ آرٹسٹ علی عمران نے مختصر کہانی ’’بچہ چور‘‘ پیش کی۔ کہانی پر ہونے والی گفتگو نے معاشرتی نفسیات، خوف اور اجتماعی بداعتمادی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
مختلف ناقدین نے کہانی کے فنی اور فکری پہلوؤں پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔ابھرتے ہوئے شاعر صدیق اکبر نے نئی لفظیات اور تازہ استعاروں سے مزین دو غزلیں پیش کیں۔ نوجوان شاعر کی تخلیقی جستجو اور فکری تازگی نے سامعین کو متاثر کیا۔ حاضرین نے ان کے روشن ادبی مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور بھرپور داد سے نوازا۔افسانوی مجموعہ ’’ادھوری تخلیق‘‘ کے مصنف عظمت اقبال نے اپنا افسانہ ’’کمینے کہیں کے‘‘ پیش کیا۔ افسانے میں انسانی نفسیات کے حیران کن اور بعض اوقات تاریک گوشوں کو بے نقاب کیا گیا۔ شرکاء نے اسے جدید معاشرتی رویوں کی ایک مؤثر عکاسی قرار دیا۔ممبئی سے تشریف لائے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجتبیٰ زید نے اپنا وجودی افسانہ ’’سستی موت‘‘ سنایا۔ افسانے کی فنی ساخت اور بیانیہ اس قدر مضبوط تھا کہ سامعین مکمل انہماک کے ساتھ اس کے سحر میں ڈوبے رہے۔ احمد نعیم نے بجا طور پر کہا کہ مجتبیٰ زید اپنے فکشن کے اجزاء کو اس مہارت سے ترتیب دیتے ہیں کہ پوری تخلیق ایک مکمل فن پارے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے اپنی طویل غزل اور نظم پیش کی۔ ان کے کلام میں کلاسیکی روایت کی گونج، قومی شعور کی حرارت اور شعری وقار نمایاں تھا۔ اسی طرح شہروز خاور اور اسرار انصاری نے بھی اپنی غزلوں کے ذریعے محفل کو شعری رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ممبئی سے آئے محقق اور افسانہ نگار ڈاکٹر عمران امین نے اپنا علامتی افسانہ ’’فطرت‘‘ پیش کیا۔ ایک بھکارن کے کردار کے ذریعے انسانی حرص اور لالچ کی نفسیات کو جس فنی مہارت سے پیش کیا گیا، اس نے حاضرین کو دیر تک سوچنے پر مجبور رکھا۔رات جب اپنے تیسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی، ہوا میں خنکی گھلنے لگی تھی اور الاؤ کی لپٹیں خاموشی سے رقص کر رہی تھیں، تب رومان اختر نے اپنی مسحور کن غزل سنائی۔ ان کے اشعار میں فکر، جمال اور تخلیقی جرات کا ایسا امتزاج تھا کہ محفل دیر تک ان کے سحر میں گرفتار رہی۔ حاضرین کا کہنا تھا کہ ان کا اسلوب اپنی نوعیت میں منفرد ہے اور موجودہ ہندوستانی شعری منظرنامے میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔اس ادبی الاؤ کے گرد منتظم عاصی (اردو ولا)، عباس عرش، علیم طاہر، خالد قریشی، عاکف نبیل، مدثر نذر، ابرار احمد اور رضوان ربانی سمیت متعدد اہلِ ذوق پوری دلجمعی اور محبت کے ساتھ شریک رہے۔ ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ مالیگاؤں میں ادب ابھی زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور نئی نسل کے دلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔اختتامی خطاب میں صدرِ نشست عمران سر چوپڑا نے ادب، فلسفہ، آرٹ اور وجودیت پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس محفل نے انہیں اپنے عہد کی ان یادگار ادبی نشستوں کی یاد دلا دی جہاں ادب محض تفریح نہیں بلکہ شعور، فکر اور انسان دوستی کا وسیلہ ہوتا تھا۔ بعض تخلیقات میں انہیں اپنے زمانے کے ممتاز ادیبوں کی جھلک دکھائی دی اور یوں سلطان سبحانی اور بلراج مینرا جیسے ناموں کی یاد تازہ ہوگئی۔بالآخر رات ڈیڑھ بجے یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اس کے چراغ بجھے نہیں۔ الاؤ کی راکھ میں ابھی بھی حرارت باقی تھی اور حاضرین کے دلوں میں لفظوں کی روشنی دیر تک جلتی رہی۔ اختتام پر کتھا کے یہ معنی خیز الفاظ فضا میں گونجے “بیتال گیا بن میں، کہانی گئی من میں۔‘‘سامعین نے کافی ہاؤس و شعور سرائے اور تمام منتظمین خصوصاً خالد قریشی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس ادبی روایت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ محفل محض ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ اندھیروں کے عہد میں روشنی کا اعلان تھی؛ ایک ایسا چراغ جو یہ پیغام دے رہا تھا کہ جب تک لفظ زندہ ہیں، خواب زندہ ہیں، اور جب تک خواب زندہ ہیں، معاشرہ بھی زندہ ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network