تازہ ترین
ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاداولیوودیا گرلز اکیڈمی نیوز لیٹر کا رسم اجرا ء اور پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ کا شاندار انعقاداے ایم یو کی جانب سے کل ہند مضمون نویسی مقابلہ 2026 کے نتائج کا اعلاناے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرامآیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافراز
دلی این سی آر

جامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام

(پی این این)
نئی دہلی :سینٹرفار ویسٹ ایشین اسٹڈیز ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’ایران اور ہندوستان کے درمیان تہذیبی تعلقات صلاحیتیں اور امکانات‘ کے موضوع پر ایک انتہائی معلوماتی اور فکر انگیز ٹاک کی میزبانی کی۔ واضح رہے کہ یہ مذاکرہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عمارت ابن خلدون میں واقع انڈیا عرب کلچر سینٹر کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر فریدالدین فریدسر ،کلچرل کاو ¿نسلر، ایرانی سفارت ،دہلی نے یہ ٹاک پیش کیا۔تہذیبی و ثقافتی مطالعات میں دلچسپی رکھنے والے اسکالر، معلمین اور طلبہ وغیرہ اس پروگرام میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر فریدسر نے ہندوستان اور ایران کے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ان روابط کو آج کس طرح بہتر کیا جاسکتاہے اس سلسلے میں انھوں نے کئی اہم امور کی طرف اشارے کیے۔
ان کی گفتگو جغرافیائی سیاست،مشترکہ تہذیب،ادب اور آرٹ سمیت وسیع کنیوس کو محیط تھی۔انھوں نے وہ طریقے بتائے جن سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو بہتر کرنے میں تہذیبی و ثقافتی تعلقات معاونت کرسکتے ہیں۔سمینار کنوینر پروفیسر انیس الرحمان کی تعارفی تقریر کے ساتھ پروگرام کا آغاز ہوا۔پروفیسر رحمان نے مہمانان کا خیر مقدم کیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ دونوں ملکوں کے تہذیبی روابط کیوں اہمیت کے حامل ہیں۔انھوں نے ہند ۔ایرانی تعلقات کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان افہام وتفہیم کو بہتر کرنے میں تہذیبی لین دین کس طرح معاون ثابت ہوسکتی ہے۔پروفیسر ہمایوں اختر نظامی،ڈائریکٹر ،سینٹر فار ویسٹ ایشین اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تفصیلی تجزیے کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔پروفیسر نظامی نے گراں قدر خیالات کے لیے مقرر کا شکریہ ادا کیا اور جاری تعلیمی و تہذیبی بحث و مباحثے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔مغرب ایشیائی خطوں کے تہذیبی مطالعات پر گہری نظر رکھنے والے ماہر کے طور پر انھوں نے اظہار خیا ل کرتے ہوئے ایرانی تہذیب اور سماج کے مطالعہ میں دلچسپی رکھنے والے محققین کو تعاون فراہم کرنے کے سلسلے میں ڈاکٹر فریدالدین فریدسر کا عہد کا ذکر کیا۔
اخیر میں انھو ںنے تمام شرکا اور حاضرین کا ان کی دلچسپی اور انہماک کی ستائش کی اور باقاعدگی سے اسی نوعیت کے مزید پروگرام منعقد کرانے کی اہمیت واضح کی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔