تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
انٹر نیشنل

امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت

لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔