(پی این این)
سہارنپور:مغربی اترپردیش میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام، ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ نافذ کرنے اور ایڈووکیٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی مخالفت میں سہارنپور کے وکلا نے عدالتی کام سے بائیکاٹ کیا۔ ضلع بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلا نے عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور حکومت سے اپنے دیرینہ مطالبات پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔
سہارنپور ایڈووکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر راہل تیاگی ایڈووکیٹ اور جنرل سکریٹری پالم رانا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کانپور میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور دی لائرز ایسوسی ایشن کے مشترکہ زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ کانفرنس میں ریاست میں ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ نافذ کرنے اور بار کونسل آف انڈیا کی جانب سے ایڈووکیٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی مخالفت کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران مغربی اترپردیش میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے برسوں پرانے مطالبے کو بھی نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ وکلا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر مثبت کارروائی ہونے تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔
اس موقع پر اشوک کمار پنیئر، چودھری رندھیر سنگھ، راکیش تیاگی، ستیش چودھری، ارون چودھری، جمال صابری، قادر رانا، فیصل چوہان، زبیر علی، سنجے کمبوج، سمن لامبا، ذوالفقار علی، وکاس، ابھیشیک، زینب، سوربھ جین، بٹو سہگل، انیتا سونی، راؤ عمران، مکیش شرما، روشنی، پارول، سندیپ پوار، سونی، اجیتارانی اور سچن جین سمیت دیگر وکلا موجود رہے۔
سہارنپور میں ریاستی حکومت کیخلاف وکلاء کا احتجاج،ہائی کورٹ بینچ اور ایڈووکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کے مطالبے پر وکلا نے عدالتی کام کاکیا بائیکا ٹ
