دیوبند:نانوتہ تھانہ علاقہ کے محلہ چاہ منزلی میں چار روز قبل ہوئے خاتون غزالہ کے قتل معاملہ کے نامزد اہم ملزم شوہر عرفان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا۔ واقعہ میں نامزد ملزمہ اور مقتولہ کی ساس انوری تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق شاملی ضلع کے کیرانہ کے محلہ غلام نگر کا رہنے والا عرفان کی تقریباً 12 سال قبل نانوتہ کے رہنے والے اسلام شاہ کی بیٹی غزالہ (32) سے شادی ہوئی تھی۔
غزالہ کی کوئی اولاد نہیں تھی، جس کو لے کر میاں بیوی کے درمیان اکثر تنازع اور مارپیٹ ہوتی رہتی تھی۔ گزشتہ21ستمبر کو غزالہ کی چھوٹی بہن نیلوفر کی شادی تھی۔ شادی میں شرکت کے لیے غزالہ اپنے شوہر عرفان کے ساتھ میکے آئی ہوئی تھی۔ شادی کی تقریب مکمل ہونے کے بعد ۴۲ ستمبر کی شام مبینہ طور پر خاندانی تنازع کے دوران عرفان نے میکے میں ہی تیز دھار ہتھیار سے غزالہ کا گلا کاٹ کر قتل کردیا۔ بیوی کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے خود بھی اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔
واقعہ کے بعد مقتولہ کے والد اسلام شاہ نے اپنے داماد عرفان اور اس کی والدہ انوری کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ تھانہ انچارج وکاس چرن نے بتایا کہ پولیس ٹیم نے غزالہ قتل معاملہ کے نامزد ملزم شوہر عرفان کو شیخ الہند مولانا محمود حسن میڈیکل کالج، پِلکھنی کے قریب سے گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاملہ میں شریک ملزمہ انوری کی گرفتاری کے لیے بھی پولیس مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
گھریلو تنازع میں بیوی کا گلا ریت کر قتل ،شوہر گرفتار
