ارریہ: کئی برسوں کی غیر فعالیت کے بعد ایک بار پھر پرگتی شیل لیکھک سنگھ کی ارریہ ضلعی اکائی کو فعال اور منظم کرنے کی کوشش شروع کی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں اتوار کو منعقدہ ضلعی کنونشن میں تنظیم کی ضلعی اکائی کی تشکیل نو کی گئی۔ مقامی پنشنر سماج بھون میں سینئر ادیب رضی احمد تنہا کی صدارت میں منعقدہ پروگرام کے دوران اتفاقِ رائے سے ضلعی کمیٹی کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا۔
ایس۔ ایچ۔ معصوم کو ضلعی صدر اور نوجوان شاعر عنایت وصی کو ضلع سکریٹری منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر پریلیس کی ریاستی اکائی کے ستیندر کمار سنگھ، پورنیہ پریلیس کے دیوانند، نوتن آنند اور معروف ادیب احسان قاسمی خصوصی طور پر موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت مسٹر معصوم اور ادیب رفیع حیدر انجم نے کی، جبکہ مہمانوں کا استقبال ادیب ٹھاکر شنکر کمار نے کیا۔
پریلیس کی تاریخ اور اس کے قیام پر روشنی ڈالتے ہوئے ستیندر کمار سنگھ نے کہا کہ 91 برس قبل جب پوری دنیا، بالخصوص یورپی معاشرہ، فاشزم اور نازی ازم کے بحران سے دوچار تھا، اس وقت پیرس میں اس جبر کے خلاف دنیا بھر کے دانشور جمع ہوئے تھے۔ ہندوستان کی جانب سے ملک راج آنند اور سجاد ظہیر نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد پہلے لندن اور پھر ہندوستان میں پرگتی شیل لیکھک سنگھ کی بنیاد رکھی گئی۔ تنظیم کا پہلا اجلاس منشی پریم چند کی صدارت میں لکھنؤ میں منعقد ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پریلیس کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں فراق گورکھپوری، فیض احمد فیض، مجاز، راشد جہاں، احمد علی، محمود الظفر سمیت متعدد اہم ادیبوں اور شاعروں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندی اور اردو کا شاید ہی کوئی بڑا ادیب رہا ہو جو کسی نہ کسی مرحلے میں پرگتی شیل لیکھک سنگھ سے وابستہ نہ رہا ہو۔
ستیندر کمار سنگھ نے ملک سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں مبینہ طور پر دائیں بازو کی طاقتوں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادیب سیاسی حالات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ ادیبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اور سماجی حالات سے عوام کو آگاہ کریں۔ سماجی اور سیاسی تبدیلی کے عمل میں ادیبوں کو بھی اپنا کردار طے کرنا ہوگا۔
سماج کی تعمیرِ نو میں ادب کے کردار کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کشن گنج سے تشریف لائے ادیب طیب فُرقانی کے علاوہ دین رضا اختر، احسن عالم، احسان قاسمی، وسیم احمد علیمی اور دیگر مقررین نے کہا کہ ادیبوں کا فرض ہے کہ وہ کمزوروں اور محروم طبقات کے ساتھ کھڑے رہیں۔ تاریخ اکثر صاحبِ ثروت اور طاقتور طبقے کی بات کرتی اور اس کا ذکر کرتی ہے، جبکہ ادب کمزور، محروم اور استحصال زدہ طبقات کے حق میں آواز بلند کرتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ ادب انسان کو غور و فکر اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے اور معاشرے میں فکری انقلاب کی راہ ہموار کرتا ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں سینئر ادیب رضی احمد تنہا نے کہا کہ ادیب فطری طور پر ترقی پسند ہوتا ہے، البتہ اس میں کچھ استثنائی صورتیں بھی ہوسکتی ہیں۔
اس موقع پر منتظمین کی جانب سے نئی ضلعی کمیٹی کا اعلان بھی کیا گیا۔ رفیع حیدر انجم اور حشمت صدیقی سمیت پانچ ادیبوں کو نائب صدر منتخب کیا گیا، جبکہ ٹھاکر شنکر کمار سمیت پانچ افراد کو نائب سکریٹری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اے عالم کو خازن مقرر کیا گیا۔
دین رضا اختر، فرمان علی فرمان سمیت دیگر ادیبوں کو ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔ پروگرام میں جہاںگیر نایاب، ارشد انور الف، مامون رشید سمیت متعدد ادیب، شاعر اور دانشور موجود تھے۔
پرگتی شیل لیکھک سنگھ کے اجلاس میں نئی ضلعی کمیٹی تشکیل، سیمینار کا انعقاد
