ممبئی:نجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے ممبئی کے قدیم اور باوقار بین المدارس کرکٹ ٹورنامنٹ 130ویں ہیرس شیلڈ میں مسلسل تیسری مرتبہ چیمپئن بن کر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔
4 سے 6 نومبر تک ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن (ایم سی اے) کے باندرہ کرلا کمپلیکس میں کھیلے گئے تین روزہ فائنل میں انجمن اسلام کی ٹیم نے جنرل ایجوکیشن اکیڈمی کو یکطرفہ مقابلے میں شکست دے کر فاتح ٹرافی اپنے نام کی۔ اس کامیابی کے ساتھ اسکول نے ہیرس شیلڈ میں اپنی مسلسل تیسری فتح کا اعزاز حاصل کیا، جو ادارے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان صلاحیتوں کی بہترین تربیت کا مظہر ہے۔فائنل میں انجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے پہلے فیلڈنگ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو 47.3 اوورز میں 154 رنوں پر آؤٹ کردیا۔ انوج سنگھ نے 31 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ راج ویر سنگھ سروے اور آراو یادو نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں انجمن اسلام کی ٹیم نے 80 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 374 رن بنائے۔ عمر کھوٹے نے 190 گیندوں پر 156 رنوں کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 19 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ آراو یادو نے 67 اور دیواشیـش گھوڑکے نے 39 رن بنائے۔
عمر کھوٹے اور آراو یادو کے درمیان 124 رنوں کی اہم شراکت بھی ہوئی۔ جنرل ایجوکیشن اکیڈمی نے دوسری اننگز میں 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 70 رن بنائے، جس کے بعد انجمن اسلام کی ٹیم نے اپنی کامیابی یقینی بنالی۔اس شاندار کامیابی پر انجمن اسلام کے صدر اور پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی پر سب سے زیادہ مبارکباد کے مستحق ہمارے ننھے کھلاڑی ہیں، جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیت، محنت، عزم اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی صرف امتحانات کے نتائج یا تعلیمی اعزازات سے نہیں ناپی جاسکتی بلکہ کھیل، ثقافت اور دیگر غیر نصابی سرگرمیاں بھی طلبہ کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کھیل بچوں میں خود اعتمادی، نظم و ضبط، ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیت اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بچوں کو مناسب رہنمائی، تربیت اور حوصلہ افزائی ملتی ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں سے بڑے سے بڑے مقابلے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ انجمن اسلام میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو نئی اہمیت اور تحریک حاصل ہورہی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل تیسری مرتبہ ہیرس شیلڈ جیتنا محض ایک ٹرافی حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے میں نوجوان صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کے پیچھے کھلاڑیوں کی میدان میں محنت کے ساتھ ان لوگوں کی خاموش محنت بھی شامل ہے جو ان کی تربیت، حوصلہ افزائی اور بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے کام کرتے ہیں۔ٹیم کی کامیابی میں اسکول کی پرنسپل محترمہ رضوانہ ستارے کا کردار بھی قابل ذکر رہا، جنہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے تعاون فراہم کیا۔ کوچز وحید شیخ اور عابد خان نے کھلاڑیوں کی تربیت، تکنیک اور کھیل کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسکول کے تدریسی و غیر تدریسی عملے، انتظامیہ اور معاون اسٹاف کی کوششیں بھی اس کامیابی کا حصہ رہیں۔اس پورے ٹو رنامںٹ کے دوران انجمن اسلام کے سی ای اونے عقابی نظررکھی اور ہر موقعہ پر کھلاڑیوں اور ترتیب کے شعبے سے وابستہ عہدیداران کی حوصلہ افزائی کی ۔
ٹورنامنٹ میں انجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول کے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو انفرادی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ٹیم نے بہترین باؤلر، سب سے زیادہ انفرادی اسکور اور بہترین کوچ کے اعزازات حاصل کرنے کے ساتھ فاتح ٹرافی بھی اپنے نام کی۔ عمر کھوٹے کی 156 رنوں کی یادگار اننگز اور انوج سنگھ کی چار وکٹوں کی کارکردگی نے ٹیم کی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ ہیرس شیلڈ ممبئی کے بین المدارس کرکٹ مقابلوں کی ایک قدیم اور تاریخی روایت ہے، جس کا 130واں ایڈیشن اس ٹورنامنٹ کی طویل اور شاندار تاریخ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ ایسے تاریخی مقابلے میں مسلسل تین مرتبہ کامیابی حاصل کرنا کسی بھی اسکول کے لیے غیر معمولی اعزاز ہے۔انجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول کی یہ کامیابی نئی نسل کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ تعلیمی ادارے اگر طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانیں، انہیں مناسب مواقع فراہم کریں اور اساتذہ، کوچز اور انتظامیہ مل کر کام کریں تو بچے نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ کھیلوں میں بھی نئی تاریخ رقم کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر ظہیر قاضی کے بقول اس کامیابی کا اصل حسن یہی ہے کہ اس کے مرکز میں ادارے کے وہ ننھے کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور کھیل کے جذبے سے انجمن اسلام کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
