تازہ ترین
ایس آئی آر میں ہٹائے گئے ناموں کو پھر ملا موقع ،الیکشن کمیشن کا یوٹرن،دہلی سمیت7ریاستوں میں چلے گی خصوصی مہممعطل اے سی پی منسوی وششتا نےتوڑی خاموشیریکھا گپتا کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ مستردقومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں نئے ڈائرکٹر شری شریانش موہن کا استقبالقرول باغ کےغفار مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگیبہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ
دیش

ایس آئی آر میں ہٹائے گئے ناموں کو پھر ملا موقع ،الیکشن کمیشن کا یوٹرن،دہلی سمیت7ریاستوں میں چلے گی خصوصی مہم

نئی دہلی:الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر یوٹرن لیا ہے۔ ایس آئی آر میں ہٹائے گئے ناموں کو جوڑنے کے قواعد شروع ہونے والی ہے۔ دہلی سمیت 7ریاستوں میں خصوصی مہم کے تحت حذف شدہ نام جوڑے جائیں گے۔
غورطلب ہے کہ ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف زوردار مہم چلا رہی ہیں، دوسری طرف الیکشن کمیشن مستقل نئے فیصلے لے رہا ہے تاکہ اس پر لگ رہے الزامات بند ہوں۔ خاص طور سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے سخت بیانات نے کئی محاذ پر الیکشن کمیشن کو یو-ٹرن لینے پر مجبور کیا، اور کچھ میڈیا رپورٹس نے بھی چیف الیکشن کمشنر کو دباؤ میں ڈالا ہے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ جن ریاستوں میں ابھی ایس آئی آر چل رہا ہے، وہاں ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے حذف ووٹرز کو تلاش کرنے کے لیے از سر نو خصوصی مہم چلائی جائے گی۔
یہ ہدایت الیکشن کمیشن کے ذریعہ دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جن ریاستوں کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں، ان میں دہلی، ہریانہ، مہاراشٹر، ناگالینڈ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔ اس مہم کے تحت جن ووٹرز کا نام فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، بی ایل او ایک بار پھر ان کے گھر جا کر جانچ کریں گے کہ کیا وہ واقعی اسی پتے پر موجود ہیں، یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جن ووٹرز کے نام حذف ہوئے ہیں، ان کی فہرست متعلقہ پولنگ بوتھوں پر لگائی جائے تاکہ ووٹرز اپنا نام دیکھ کر اسے دوبارہ جڑوا سکیں۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک فارم بھی جاری کیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق یہ نرمی ان ووٹرز کو دی جائے گی، جنھیں نیومریشن فارم تو جاری کیے گئے تھے، لیکن جانچ کے دوران انھیں غیر حاضر، منتقل شدہ، مردہ یا ڈپلی کیٹ زمرہ میں رکھ کر ڈرافٹ رول سے باہر کر دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے افسران کو سخت نگرانی بنائے رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
اس کا اہم مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی فرضی یا ڈپلی کیٹ نام کو ووٹر لسٹ میں جڑنے سے روکا جا سکے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ایس آئی آر کا عمل پورا ہو چکا ہے۔ ووٹر لسٹ کے مستقل اپڈیٹ کرنے کا عمل جاری ہے اور اس کے تحت چھوٹے ہوئے ووٹرز کے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے سبھی چیف الیکٹورل افسران (سی ای او) کو اس عمل میں سہولت دستیاب کرانے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں