تازہ ترین
جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہگیا جی:کلال اور عراقی کو ایک ہی ذات قرار دینے کا مطالبہبروقت مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے پرہوں گے مجبور:سنگھرش سمیتی،ایس ڈی ایم ارریہ کی یقین دہانی پر شہر کے بنیادی مسائل کو لے کر 6 روزہ احتجاجی مظاہرہ ملتوینئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,این سی آر میں نمو بھارت ٹرین پروجیکٹ کو منظوری ملنے کا امکاناحتجاج کے درمیان پولیس کی سخت کارروائی،20پر ایف آئی درجنریندر مودی نے ہٹلر کو بھی چھوڑ دیاہے پیچھے:کجریوال
دیش

نذیر احمد وانی31 سال بعددہشت گردی کے الزام سے بری

(پی این این)
دیوبند:ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اے سی جے ایم پرویندر سنگھ کی عدالت نے 1993 میں دیوبند میں پیش آئے بم دھماکے کے مقدمے میں مبینہ حزب المجاہدین سے وابستہ نذیر احمد وانی کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی، جس کا فائدہ ملزم کو دیتے ہوئے اسے تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد 1993 میں دیوبند کے یونین چوراہے پر ایک بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تقریباً چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام کے رہائشی نذیر احمد وانی کو ملزم نامزد کیا تھا۔ اور اسے مختلف سنگین دفعات کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد وانی کو عدالت سے ضمانت مل گئی، تاہم وہ طویل عرصے تک عدالت میں پیش نہیں ہوا، جس پر نومبر202 میں اس کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔
پولیس اور انسدادِ دہشت گردی فورس اے ٹی ایس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے دوبارہ کشمیر سے گرفتار کیا اور حزب المجاہدین کا دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری کو بڑی کامیابی کے طور پر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ جنوری2025 میں ایک بار پھر اسے عدالت سے ضمانت مل گئی۔ گزشتہ 31 برسوں سے یہ مقدمہ دیوبند کی اے سی جے ایم عدالت میں زیرِ سماعت رہا، تاہم اس دوران پولیس ملزم کے خلاف ایسے شواہد پیش نہ کر سکی جن سے اس کی مجرمانہ سرگرمی ثابت ہو سکے۔ منگل کے روز دیوبند عدالت نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد وانی کو ثبوتوں کے فقدان کی بنیاد پر بری کر دیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔