تازہ ترین
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشستریس کورس کی قدیم مسجد کو تحفظ کے ساتھ بنیادی سہولیات کو کرایا جائےبحال،’ملا فری اِنڈیا‘ کہہ کر تشدد پھیلانے والے پر سخت کارروائی کا مفتی مکرم کا مطالبہاردو ادب میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میںڈاکٹر نریش چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کے اعزاز کے لیے منتخبمالیگاؤں میں ایک ہزار کروڑ کے قرض کے خلاف سیاہ پرچم کے ساتھ احتجاجبی ایس ایم ڈگری کالج کوملا یونیورسٹی کا درجہ،لوگوں میں خوشی کی لہربہار محکمۂ تعلیم میں 98 لاکھ روپے کی بدعنوانی ،معاملے کے انکشاف کے بعد ڈی ای او اور ڈی پی او معطلویشالی میں ترہت گریجویٹ اور ٹیچر انتخابات سے متعلق پولنگ ٹیموں کی مشترکہ بریفنگارریہ:ایم ایل سی انتخابات کےشفاف انعقاد کیلئےمیٹنگ کا انعقاد،  ڈی ایم نے مکمل اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لئے حکام دی ضروری ہدایات
دیش

مالیگاؤں میں ایک ہزار کروڑ کے قرض کے خلاف سیاہ پرچم کے ساتھ احتجاج

مالیگاؤں:مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں کو سود کے بوجھ سے محفوظ رکھنے اور میونسپل کارپوریشن کے ذریعے حاصل کیے جانے والے مبینہ ایک ہزار کروڑ روپے کے قرض کی مخالفت میں آج بعد نمازِ جمعہ شہر کے مختلف اہم چوک چوراہوں پر ایم ایل اے ورکنگ کمیٹی کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔
سیاہ پرچموں کے ساتھ منعقدہ اس احتجاج کے ذریعے کمیٹی کے ذمہ داران نے قرض کے معاملے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ترقی کے نام پر اتنی بڑی مالی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے اس کے سود، واپسی کی مدت، سالانہ اقساط اور عوام پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی مکمل تفصیلات کیوں سامنے نہیں لائی جاتیں؟
رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی سرپرستی میں منعقدہ اس احتجاجی دھرنے میں ایم ایل اے ورکنگ کمیٹی کے صدر شفیق رانا، نائب صدر ناظم اختر (خالو)، فرید قریشی، رکن بلدیہ جمال ناصر،سلیم پینٹر، عبدالاحد انصاری سمیت کمیٹی کے دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔
مظاہرین نے سیاہ پرچموں کے ذریعے مجوزہ قرض کے خلاف اپنی مخالفت درج کرائی اور مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں جیسے مسلم اکثریتی شہر کے مالیاتی فیصلوں میں سود سے اجتناب، عوامی مفاد اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ایک ہزار کروڑ کا قرض، مگر واپسی کا منصوبہ کیا ہے؟
احتجاج کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ اگر کارپوریشن واقعی ایک ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے، تو شہریوں کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ اس قرض کی شرائط کیا ہوں گی، اس پر کتنا سود عائد ہوگا، مجموعی طور پر کتنی رقم واپس کرنی پڑے گی اور ادائیگی کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ کیا ہوگا۔
کمیٹی کے ذمہ داران کے مؤقف کے مطابق، محض ترقیاتی کاموں کے نام پر بھاری قرض لینا کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ اس کے طویل مدتی مالی نتائج اور شہریوں پر پڑنے والے ممکنہ بوجھ کا بھی واضح حساب پیش کیا جائے۔ ترقی کے نام پر قرض یا مستقبل کے لیے مالی چیلنج؟ شہر کے مختلف اہم چوک چوراہوں پر کیے گئے اس احتجاج کے ذریعے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر مستقبل میں قرض کی اقساط اور سود کی ادائیگی کے لیے کارپوریشن کی آمدنی ناکافی ثابت ہوئی تو اس کمی کو کیسے پورا کیا جائے گا؟ کیا شہری ٹیکسوں میں اضافے کی نوبت آئے گی؟ کیا پانی کے بل، پراپرٹی ٹیکس یا دیگر شہری محصولات پر اضافی بوجھ پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوگا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے واضح جوابات سامنے آنا ضروری ہیں، تاکہ شہری کسی بھی بڑے مالیاتی فیصلے کے حقیقی نتائج سے باخبر رہ سکیں۔ایم ایل اے ورکنگ کمیٹی کے اس احتجاج کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مالیگاؤں کی ترقی ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس ترقی کا راستہ ایسا ہو جو شہر کی معاشی سلامتی، عوامی مفاد اور مذہبی حساسیت کو بھی ملحوظ رکھے۔ کمیٹی کے ذمہ داران کی جانب سے مجوزہ قرض کی مکمل تفصیلات عام کرنے، شرحِ سود اور ادائیگی کی شرائط واضح کرنے، قرض کے استعمال میں شفافیت برقرار رکھنے اور اس کے مالی اثرات کا مکمل حساب عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ آج کے احتجاجی دھرنے نے ایک اہم شہری اور مالیاتی مسئلے کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں