تازہ ترین
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشستریس کورس کی قدیم مسجد کو تحفظ کے ساتھ بنیادی سہولیات کو کرایا جائےبحال،’ملا فری اِنڈیا‘ کہہ کر تشدد پھیلانے والے پر سخت کارروائی کا مفتی مکرم کا مطالبہاردو ادب میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میںڈاکٹر نریش چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کے اعزاز کے لیے منتخبمالیگاؤں میں ایک ہزار کروڑ کے قرض کے خلاف سیاہ پرچم کے ساتھ احتجاجبی ایس ایم ڈگری کالج کوملا یونیورسٹی کا درجہ،لوگوں میں خوشی کی لہربہار محکمۂ تعلیم میں 98 لاکھ روپے کی بدعنوانی ،معاملے کے انکشاف کے بعد ڈی ای او اور ڈی پی او معطلویشالی میں ترہت گریجویٹ اور ٹیچر انتخابات سے متعلق پولنگ ٹیموں کی مشترکہ بریفنگارریہ:ایم ایل سی انتخابات کےشفاف انعقاد کیلئےمیٹنگ کا انعقاد،  ڈی ایم نے مکمل اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لئے حکام دی ضروری ہدایات
دیش

بی ایس ایم ڈگری کالج کوملا یونیورسٹی کا درجہ،لوگوں میں خوشی کی لہر

روڑکی: اتراکھنڈ سرکار کے ذریعہ اتراکھنڈ پرائیویٹ یونیورسٹی (دوسرا ترمیمی) بل کے تحت کابینہ نے صوبے کے جن چار کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا ہے ان میں روڑکی کے سب سے پرانے تعلیمی ادارہ بی ایس ایم ڈگری کالج کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔
سرکار کے اس اعلان سے شہر ہی نہیں بلکہ پورے صوبے میں خوشی پائی جا رہی ہے۔ اتراکھنڈ اردو اکیڈمی کے سابق نائب صدر، اتراکھنڈ بھاشا سنستھان کے ممبر اور موجودہ میں کالج کے اعزازی استاد، بین الاقوامی شاعر پروفیسر افضل منگلوری نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی، وزیر تعلیم دھن سنگھ راوت اور سیکرٹری تعلیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ برسوں سے علاقے کی عوام کو جس کا انتظار تھا وہ سپنا سرکار کے ذریعہ ساکار کیا گیا ہے۔ پروفیسر منگلوری نے کہا کہ مرحوم منوہر لال شرما نے اپنا جیون بی ایس ایم تعلیمی ادارہ کے لیے وقف کیا تھا آج اسی کا پھل یونیورسٹی کی شکل میں ہم سب کو حاصل ہوا ہے۔
بی ایس ایم ڈگری کالج کو یونیورسٹی بنائے جانے کی خبر سنتے ہی کالج کے اساتذہ و عملہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا کر مبارکباد دی۔ تمام اساتذہ نے کالج انتظامی کمیٹی کے صدر ایڈوکیٹ پنڈت ممتش شرما و ڈائریکٹر ایڈوکیٹ رجنیِش شرما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں تعلیمی ادارہ کو جو درجہ ملا ہے وہ ان کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اس موقع پر پروفیسر دیپک ڈوبھال، پروفیسر سنجے دھیمان، پروفیسر پروین شرما، ڈاکٹر سشمیتا پنت، پروفیسر سندیپ پوسوال، پروفیسر اجے راجونشی، پروفیسر بھرت اروڑہ، پروفیسر شائنا ملک، پروفیسر سویتا سینی، پروفیسر مہناز، پروفیسر رچنا سینی، پروفیسر پارول شرما، پروفیسر شالینی ورما، پروفیسر ونئے کمار، پروفیسر افضل منگلوری، پروفیسر آکانشا اور رام کمار گپتا وغیرہ موجود رہے۔

متعلقہ خبریں