تازہ ترین
بہار محکمۂ تعلیم میں 98 لاکھ روپے کی بدعنوانی ،معاملے کے انکشاف کے بعد ڈی ای او اور ڈی پی او معطلویشالی میں ترہت گریجویٹ اور ٹیچر انتخابات سے متعلق پولنگ ٹیموں کی مشترکہ بریفنگارریہ:ایم ایل سی انتخابات کےشفاف انعقاد کیلئےمیٹنگ کا انعقاد،  ڈی ایم نے مکمل اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لئے حکام دی ضروری ہدایاتدارالعلوم وقف دیوبند میں سالانہ انعامی جلسہ کے انعقاد ،حالات حاضرہ کے پیش نظر مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے طلبہ سے کیا خصوصی خطاباے ایم یو گرلز اسکول میں عالمی یومِ دماغی صحت کے موقع پرنشست کاانعقادصحافی نسیم احمد کے قتل کیخلاف نانوتہ میں صحافیوں کا احتجاجنیو نوئیڈا کو350 کسان دیں گے اپنی زمینرجیم چینج کی بات کرنے میں کچھ غلط نہیں،نیہا بورا کی دہلی ہائی کورٹ میں دلیل
بہار

بہار محکمۂ تعلیم میں 98 لاکھ روپے کی بدعنوانی ،معاملے کے انکشاف کے بعد ڈی ای او اور ڈی پی او معطل

(پی این این)
پٹنہ/بھاگلپور:بہار میں فرضی اساتذہ کے نام پر بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس انکشاف کے بعد محکمۂ تعلیم نے تیزی سے کارروائی شروع کردی ہے۔ دراصل، فرضی اساتذہ کے نام پر 98.12 لاکھ روپے کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے میں محکمۂ تعلیم نے بڑی کارروائی کی ہے۔ محکمہ نے بھاگلپور ضلع کے ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) چندن کمار کو فوری اثر سے معطل کردیا ہے۔ اس معاملے میں گرفتار ڈی پی او اسٹیبلشمنٹ ششی چندن چودھری کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔
محکمہ کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن وجے کمار پانڈے نے بدھ کے روز اس سلسلے میں الگ الگ محکمانہ احکامات جاری کیے ہیں۔محکمہ نے دونوں افسران کے خلاف چارج شیٹ جاری کرکے مزید تادیبی کارروائی کرنے کی بھی بات کہی ہے۔ محکمانہ حکم کے مطابق، ضلع مجسٹریٹ بھاگلپور کے حکم پر کرائی گئی جانچ میں 9 اکتوبر 2026 کو پیش کی گئی رپورٹ میں ضلع تعلیمی افسر کے دفتر سے سلطان گنج بلاک کی فرضی خصوصی معلمہ تنوشری کے نام پر 98,12,773 روپے کی غیر قانونی ادائیگی کا معاملہ سامنے آیا۔ اس کے بعد جوگسر تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔معطلی کی مدت کے دوران ضلع تعلیمی افسر چندن کمار کا صدر دفتر پورنیہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی پی او اسٹیبلشمنٹ کا صدر دفتر دربھنگہ رہے گا۔آر ڈی ڈی ای بھاگلپور نے 9 اکتوبر کو محکمہ کو ڈی پی او کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ دونوں افسران کے خلاف فردِ جرم اور تادیبی کارروائی سے متعلق حکم نامہ الگ سے جاری کیا جائے گا۔ معطلی سے متعلق حکم محکمۂ تعلیم کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔
ادھر پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن کی جانب سے 2019 میں جاری اردو مترجمین کی بحالی کے عمل میں سنگل بنچ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے انتخابی عمل دوبارہ شروع کرنے سے انکار کردیا ہے۔ چیف جسٹس جسٹس وی کامیشور راؤ اور جسٹس ہریش کمار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ضابطوں میں تبدیلی کرنے یا پورے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کو قانونی طور پر درست نہیں مانتے ہوئے سنگل بنچ کے فیصلے کو منسوخ کردیا۔
اب ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کے اس فیصلے کے بعد اردو مترجمین کی 1294 آسامیوں پر بحالی کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔کمیشن نے 14 نومبر 2019 کو اشتہار نمبر 01/2019 کے تحت اردو مترجمین کی مجموعی طور پر 1294 آسامیوں پر بحالی کے لیے اشتہار جاری کیا تھا۔ بحالی کی شرائط کو لے کر بعض امیدواروں نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اشتہار میں انتہائی پسماندہ طبقے کے لیے ’ای بی سی‘ کے بجائے ’ایم بی سی‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی، جس کی وجہ سے کئی امیدوار غلط فہمی کا شکار ہوکر اپنی زمرہ بندی ’بی سی‘ درج کر بیٹھے۔ ایسے امیدواروں کو کاؤنسلنگ کے دوران ’ای بی سی‘ زمرے کا فائدہ نہیں مل سکا۔
کمیشن کی جانب سے نومبر 2019 میں جاری کردہ اشتہار کے مطابق، اردو مترجمین کی 1294 آسامیوں میں سے غیر محفوظ زمرے کے لیے 518 آسامیاں ہیں۔ انتہائی پسماندہ طبقے کے لیے 155، پسماندہ طبقے کی خواتین کے لیے 39، معاشی طور پر کمزور طبقے کے لیے 129، درج فہرست ذاتوں کے لیے 207 اور درج فہرست قبائل کے لیے 13 آسامیاں مختص ہیں۔ مجموعی آسامیوں میں سے 443 آسامیاں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔

متعلقہ خبریں