نئی دہلی:شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ دینی معاملات میں مستعدی کے ساتھ حصہ لیں اور عوام میں دینی بیداری اور مذہبی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
مفتی مکرم احمد نے شالیمار باغ علاقہ میں مدینہ مسجد کو شہید کیے جانے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا پچھلے مہینے اس مسجد کی بالائی منزل کو رات کے اندھیرے میں منہدم کیا گیا اور اب اس مسجد کو ہی شہید کر دیا گیا اور سڑک کی توسیع کے نام پر اقلیتی فرقہ کے آئینی حقوق کو پامال کیا گیا۔ انہوں نے ریس کورس کی قدیم تاریخی مسجد میں بجلی اور پانی کی سپلائی کاٹے جانے اور نمازیوں کے داخلے پر پابندی لگائی جانے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ریس کورس کی قدیم مسجد جیسے آباد تھی ویسے ہی اسے آباد کیا جائے اس مسجد کا ریکارڈ سرکاری گزٹ میں بھی ہے اور یہ مسجد دہلی وقف بورڈ کے ریکارڈ میں بھی ہے ۔
وقف ایکٹ 1991 میں قدیم تاریخی عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا ہے تو پھر ریس کورس مسجد کے ساتھ ایسا غیر آئینی سلوک کیوں؟ عوام اور مسلمانان دہلی اس تکلیف دہ صورتحال سے شدید اضطراب میں ہیں ۔ دہلی وقف بورڈ اور حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ ریس کورس کی مسجد میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں اور مسجد کی حفاظت کو یقینی بنائی جائے۔
مفتی مکرم احمدنے ایک فرقہ پرست لیڈر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جس نے مبینہ طور پر اتر پردیش کے ضلع میرٹھ کے علاقے ہستنا پور میں عوامی اجتماع میں اقلیتی فرقہ کے خلاف نفرت انگیزی کرتے ہوئے ہر ممکن طریقے سے ہندوستان کو ـــ ملا سے پاک بنانے کی اپیل کی اور عوام کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی تقریر کا سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ انکوائری کرا ئی جائے اور سخت کارروائی کی جائے نیز اقلیتی فرقہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ـ
ریس کورس کی قدیم مسجد کو تحفظ کے ساتھ بنیادی سہولیات کو کرایا جائےبحال،’ملا فری اِنڈیا‘ کہہ کر تشدد پھیلانے والے پر سخت کارروائی کا مفتی مکرم کا مطالبہ
