تازہ ترین
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشستریس کورس کی قدیم مسجد کو تحفظ کے ساتھ بنیادی سہولیات کو کرایا جائےبحال،’ملا فری اِنڈیا‘ کہہ کر تشدد پھیلانے والے پر سخت کارروائی کا مفتی مکرم کا مطالبہاردو ادب میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میںڈاکٹر نریش چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کے اعزاز کے لیے منتخبمالیگاؤں میں ایک ہزار کروڑ کے قرض کے خلاف سیاہ پرچم کے ساتھ احتجاجبی ایس ایم ڈگری کالج کوملا یونیورسٹی کا درجہ،لوگوں میں خوشی کی لہربہار محکمۂ تعلیم میں 98 لاکھ روپے کی بدعنوانی ،معاملے کے انکشاف کے بعد ڈی ای او اور ڈی پی او معطلویشالی میں ترہت گریجویٹ اور ٹیچر انتخابات سے متعلق پولنگ ٹیموں کی مشترکہ بریفنگارریہ:ایم ایل سی انتخابات کےشفاف انعقاد کیلئےمیٹنگ کا انعقاد،  ڈی ایم نے مکمل اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لئے حکام دی ضروری ہدایات
دلی این سی آر

ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشست

نئی دہلی:مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی آمدِ دہلی کے سلسلے میں ایک پُروقار شعری نشست کا اہتمام مشہور داستان گو ساحل آغا کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے کی اور نظامت کے فرائض انس فیضی نے انجام دیے۔ اس نشست کے روحِ رواں پروفیسر رحمان مصور نے ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی شخصیت اور فن پر مختصر مگر جامع گفتگو کی۔ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی پچھلے 40 برسوں سے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ غزل کے حوالے سے ان کا ایک منفرد لہجہ ہے، وہ اپنے فن اور اپنے خاص اسلوب کی وجہ سے اردو مشاعروں کی دنیا میں الگ سے پہچانے جاتے ہیں۔
اس مشاعرے میں اسلم حسن صاحب آئی۔ آر۔ ایس، ممبئی نے مہمانِ خاص کے طور پر شرکت کی اور مہمانانِ اعزازی کے طور پر جناب معین شاداب اور جناب حقانی القاسمی موجود رہے۔ نشست میں پڑھے گئے منتخب اشعار پیش ہیں۔
میں نہ کانٹا ہوں نہ شیشہ ہوں نہ پتھر پھر بھی
میرے اپنے مجھے رستے سے ہٹاتے کیوں ہیں
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی
بند کمرے میں اندھیرا اور زیادہ ہو گیا
میں نے کھڑکی کھول دی جب دل کُشادہ ہو گیا
اسلم حسن
موجوں سے لڑتے وقت تو میں اُس کے ساتھ تھا
ساحل پہ اس کے ہاتھ میں کوئی اور ہاتھ تھا
معین شاداب
انگوٹھی ہیرے کی جو دی گئی تھی پہلی شب
انا کے دام تھے وو صرف منہ دکھائی نہ تھی
رحمان مصور
اداس ہیں جو۔ حسین چہرے
میں ان کو ہنسنا سکھا رہا ہوں
محمد انس فیضی
آشفتگان شہرِ محبت نے آخرش
دیوارِ چین میں درِ امکان کردیا
اسرار رازی
میں اپنے درد کا چرچہ نہیں بناؤنگا
کسی بھی خوف سے چہرہ نہیں بناؤنگا
ابھیشیک تیواری
بدگمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر چند انہیں
صاف دامن بھی مرا خون سے تر لگتا ہے
رازی ابوذر
ہر سوال سے پہلے اک سوال ہوتا ہے
یعنی جال کے اندر اور جال ہوتا ہے
ملک رضوان
کسی کے دل میں کھلنا چاہتا تھا
کسی کے ذہن میں بویا ہوا ہوں
ماجد شاہدِی
انسانیت کے قتل کا کس کو ملال ہے
دنیا کے سامنے یہ سلگتا سوال ہے
اقبال تقی شیرکوٹی

متعلقہ خبریں