نئی دہلی:مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی آمدِ دہلی کے سلسلے میں ایک پُروقار شعری نشست کا اہتمام مشہور داستان گو ساحل آغا کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے کی اور نظامت کے فرائض انس فیضی نے انجام دیے۔ اس نشست کے روحِ رواں پروفیسر رحمان مصور نے ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی شخصیت اور فن پر مختصر مگر جامع گفتگو کی۔ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی پچھلے 40 برسوں سے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ غزل کے حوالے سے ان کا ایک منفرد لہجہ ہے، وہ اپنے فن اور اپنے خاص اسلوب کی وجہ سے اردو مشاعروں کی دنیا میں الگ سے پہچانے جاتے ہیں۔
اس مشاعرے میں اسلم حسن صاحب آئی۔ آر۔ ایس، ممبئی نے مہمانِ خاص کے طور پر شرکت کی اور مہمانانِ اعزازی کے طور پر جناب معین شاداب اور جناب حقانی القاسمی موجود رہے۔ نشست میں پڑھے گئے منتخب اشعار پیش ہیں۔
میں نہ کانٹا ہوں نہ شیشہ ہوں نہ پتھر پھر بھی
میرے اپنے مجھے رستے سے ہٹاتے کیوں ہیں
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی
بند کمرے میں اندھیرا اور زیادہ ہو گیا
میں نے کھڑکی کھول دی جب دل کُشادہ ہو گیا
اسلم حسن
موجوں سے لڑتے وقت تو میں اُس کے ساتھ تھا
ساحل پہ اس کے ہاتھ میں کوئی اور ہاتھ تھا
معین شاداب
انگوٹھی ہیرے کی جو دی گئی تھی پہلی شب
انا کے دام تھے وو صرف منہ دکھائی نہ تھی
رحمان مصور
اداس ہیں جو۔ حسین چہرے
میں ان کو ہنسنا سکھا رہا ہوں
محمد انس فیضی
آشفتگان شہرِ محبت نے آخرش
دیوارِ چین میں درِ امکان کردیا
اسرار رازی
میں اپنے درد کا چرچہ نہیں بناؤنگا
کسی بھی خوف سے چہرہ نہیں بناؤنگا
ابھیشیک تیواری
بدگمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر چند انہیں
صاف دامن بھی مرا خون سے تر لگتا ہے
رازی ابوذر
ہر سوال سے پہلے اک سوال ہوتا ہے
یعنی جال کے اندر اور جال ہوتا ہے
ملک رضوان
کسی کے دل میں کھلنا چاہتا تھا
کسی کے ذہن میں بویا ہوا ہوں
ماجد شاہدِی
انسانیت کے قتل کا کس کو ملال ہے
دنیا کے سامنے یہ سلگتا سوال ہے
اقبال تقی شیرکوٹی
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشست
