(پی این این)
آگرہ: مسجد نہر والی آگرہ کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ کے دوران میت کے گھر کھانے کی دعوتوں اور یتیموں کے حقوق کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے معاشرے میں رائج بعض رسم و رواج پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام غم زدہ خاندان کی مدد کرنے اور اس کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتا ہے، لیکن افسوس کہ بعض مقامات پر میت کے گھر کھانے کی دعوتوں کو روایت بنا لیا گیا ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی گھر میں وفات ہونے کے بعد اہلِ خانہ پہلے ہی غم اور پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں ان پر کھانے کا انتظام کرنے کی ذمہ داری ڈالنے کے بجائے محلے والوں اور رشتہ داروں کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔
محمد اقبال نے قرآن کریم کی سورۂ النساء کی آیت 10 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یتیموں کے حقوق کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور معاشرے کو چاہیے کہ وہ کمزور اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ غم کے موقع پر سادگی، صبر اور دعا کو اہمیت دیں اور غم زدہ خاندان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ خطیب محمد اقبال نے کہا کہ کسی گھر میں وفات ہو جائے تو اہلِ محلہ اور رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ سوگوار خاندان کے لیے کھانے کا انتظام کریں، تاکہ غم زدہ افراد کو اس مشکل وقت میں کھانا پکانے اور مہمانوں کی تواضع کی فکر نہ کرنی پڑے۔انہوں نے تیجہ، دسواں، چالیسواں اور برسی جیسی رسومات کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دینی معاملات میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو مقدم رکھیں اور ایسی رسومات سے بچیں جنہیں وہ دین کا لازمی حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔خطیب محمد اقبال نے صحیح بخاری کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے یتیم کی کفالت کی فضیلت بیان کی۔
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے جنت میں اپنی قربت کی بشارت دی اور شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیں، یتیموں اور ضرورت مندوں کے حقوق ادا کریں اور میت کے گھر کے غم کو دعوت اور ضیافت کے بجائے ہمدردی، دعا اور خدمت کا موقع بنائیں۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح دینی سمجھ عطا فرمائے اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
میت کے گھر یتیموں کی سسکیوں کے درمیان لذیذ کھانے! کیا ہمارا ضمیر مر چکا ہے؟، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران خطیب محمد اقبال کا میت کے گھر کھانے کی دعوت، یتیموں کے حقوق اور تیجہ، دسواں، چالیسواں جیسی رسومات پر اظہارِ خیال؛ اہلِ محلہ سے غم زدہ خاندانوں کی مدد کرنے کی اپیل
