(پی این این)
میرٹھ:ہمارے طالب علموں کو یہ سوال اٹھانے چاہئیں کہ کس طرح آج کے افسانہ نگار اپنے فن کو ترتیب دیتے ہیں۔ طالب علم جوبھی لکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے درجہ بندی کریں۔پھر اس پر لکھیں۔ طالب علم کسی بھی ایک ادیب کا انتخاب کریں اور اس پر لکھیں۔ اس طرح وہ بغیر الجھے لکھ سکتے ہیں۔۔یہ الفاظ تھے معروف محقق و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ”اکیسویں صدی میں اردو افسانہ“ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہما رے بچوں کو سوالات اٹھانے چاہئیں۔ طلبا میں نئے افسانہ نگاروں کو پڑھنے اور جاننے کا شوق ہونا چاہئے۔ہمارے بچوں کو چاہئے کہ صبیحہ انور کو دیکھیں کہ کیسے اپنا نام روشن کررہی ہیں اور کس طرح اپنی بات اپنی کہانیوں کے ذریعے دنیا تک پہنچا رہی ہیں۔ احمد صغیر جب ناول لکھتا ہے تو الگ انداز اور جب افسانہ لکھتے ہیں تو الگ۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازایم۔اے اردو کی طالبہ لائقہ نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقد پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان کے بطورپروفیسر محمد کاظم]دہلی یونیورسٹی[ڈاکٹرصادقہ نواب سحر]معروف فکشن نگار، مہاراشٹر [،احمدصغیر]معروف فکشن نگار و ناقد،گیا[،ڈاکٹر وصی اعظم انصاری]اسسٹنٹ پروفیسر،کے ایم سی یونیورسٹی،لکھنؤ[ نے آن لائن شر کت فرمائی۔ پروگرام میں ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔مقالہ نگار کے بطور بی اے آنرز کے طالب علم محمد ندیم اور ایم اے اردو کی طالبہ نمرہ نے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات نایاب اور نظامت کے فرائض شعبے کے ریسرچ اسکالر شاکر مطلوب اور شکریے کی رسم مہوش نے اداکی۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشہور و معروف فکشن نگار ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام بہت کم عمل میں آتے ہیں اور یہ بہت ہی عمدہ پروگرام ہے۔ اس سے طالب علم خوب فیض یاب ہو رہے ہیں۔ میں افسانے کے تعلق سے یہ سوچتی ہوں کہ زندگی خود ایک کہانی ہے۔ زندگی کے ہر قدم پر ایک نیا افسا نہ نمودار ہوتا ہے۔زندگی کے ہر پہلو میں افسا نہ موجود ہے۔ اکیسویں صدی کے افسانے کی بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ نئے مو ضو عات کے ساتھ ساتھ پرا نے موضوعات بھی چلتے رہتے ہیں۔ ابھی اور بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن پر لکھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً مآب لنچنگ، تھرڈ جینڈر وغیرہ موضو عات پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔ نہ صرف طالب علم بلکہ اساتذہ کے لیے بھی تنقید نہایت اہم ہے۔ تنقید سے بہت سی باتیں سامنے آ تی ہے۔
معروف فکشن نگار و ناقد احمد صغیر نے کہا کہ میری ایک کتاب ہے”اردو میں دلت افسا نے“ اس کتاب کا مطالعہ طالب علموں کو ضرور کرنا چاہئے۔ اکیسویں صدی میں جتنے افسانے اور ناول تحریر کیے گئے شا ید ہی کسی اور صدی میں لکھے گئے ہوں۔
نئی صدی میں نئی ایجادات ہوتی ہیں اور تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جس کا اثر اردو ادب میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکیسویں صدی کے افسانہ کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا1960ء کے بعد کا زمانہ اور دوسرا2004ء کے بعد کا زمانہ۔ صادقہ نواب سحر، شائستہ فاخری، علیم اسماعیل، تسنیم فاطمہ،، عبد الصمد وغیرہ ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے2001ء کے بعد لکھنا شروع کیا۔ دلت مسائل پر اقبال مجید، شموئل احمد، وغیرہ نے بہت افسا نے لکھے۔ اکیسویں صدی میں مذہبی تصاویر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور مآب لنچنگ پر بھی کام ہوا ہے جس میں اسلم جمشید پوری کا افسا نہ ”عید گاہ سے واپسی“ اسی موضوع پر ہے۔ تھرڈ جینڈر جیسے موضو عات پر بھی اکسیسویں صدی میں کام ہوا ہے ساتھ ہی لو اِن ریلیشن شپ اور ہجرت وغیرہ جیسے موضوعات پر بھی۔میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اکیسویں صدی میں جو مو ضوعات ابھر کر سامنے آ ئے ہیں اس کے لیے ہمارے افسانہ نگار قابل مبارک باد ہیں۔ آج کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بچے آج پڑھ رہے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کلاسیکی ادب بھی پڑھیں اور جدید ادب بھی۔
ڈاکٹر وصی اعظم انصاری نے کہا کہ صادقہ نواب سحر نے نثر ہی نہیں بلکہ شاعری میں بھی دلت سماج کی عکاسی کی ہے۔صادقہ نواب سحر جیسے مصنفین نے دلت اور پسماندہ طبقات کی آ واز کو دنیا تک پہنچایا ہے۔پروفیسر محمد کاظم نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اکیسویں صدی میں افسا نے کی واپسی ہو ئی ہے۔ ادب کا مقصد صرف ذاتی تسکین حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ادب ایسا ہونا چاہئے کہ جو ماحول ہم اپنے آس پاس دیکھ رہے ہیں ان کو اپنے فن میں استعمال کریں اور اکیسویں صدی میں یہ کام بخو بی ہوا ہے۔ اکیسویں صدی میں ایسے ایسے مسائل پر لکھا جارہا ہے جو بظا ہر چھوٹے لگتے ہیں لیکن ان کا ہما ری زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ جب ہم ایک ہی زبان میں گفتگو نہیں کرسکتے تو ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ افسا نہ یا کہانیوں کی زبان ایک جیسی معیاری ہونی چاہئے۔ کردار کے مطابق زبان ہوتی ہے اور اگر کسی تخلیق میں ہر کردار ایک ہی زبان بول رہا ہے تو میں اسے خوبی نہیں عیب کہوں گا۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ آج کے اس موضوع سے ہمارے طلبا اور ہمیں بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ نئی صدی اور پرانی صدی کی تکنیک میں کیا فرق ہے۔ آج کے نئے بچے ایسے افسانے، کہانیاں لکھ رہے ہیں جس میں آج کے موجودہ مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے جس میں بین الا قوامی مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔اس موقع پر نمرہ نے”نئی صدی کے افسانوں میں دلت سماج کی عکاسی“ اور محمد ندیم نے”پروفیسراسلم جمشید پوری کے چند افسانوں پر ایک نظر“ عنوانات سے اپنے مقالات پیش کیے۔پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ،محمد شمشاد،سیدہ مریم الٰہی،فرحت اختر، سعید احمد سہارنپوری، مہوش اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔
طلبا میں نئے افسانہ نگاروں کو پڑھنے اور جاننے کا ہونا چاہئےشوق :پروفیسر صغیر افراہیم،شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی میں ”اکیسویں صدی میں اردو افسانہ“موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
