(پی این این)
گیا جی: داروغہ کے دو بیٹوں پر فائرنگ کرکے ایک کو قتل اور دوسرے کو شدید زخمی کرنے کے معاملے میں پولیس اور ایس ٹی ایف کو بڑی کارروائی میں کامیابی ملی ہے۔ مانپور کے مفصل تھانہ حلقہ کے بیچھی گاؤں میں ملزمین کی گرفتاری کے لیے پہنچی ٹیم پر فائرنگ کی گئی۔ جوابی کارروائی میں شیام بہاری اور گورو عرف کالا کے پیروں میں گولیاں لگیں۔ دونوں کو پولیس کی تحویل میں انوگرہ نارائن مگدھ میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
19 اکتوبر 2026 کی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سدھارتھ پوری کالونی کے قریب موتیہاری میں تعینات داروغہ سدھانشو شیکھر عرف پنٹو سنگھ کے دونوں بیٹوں پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس حملے میں 30 سالہ رانو شیکھر عرف رانو سنگھ کی موت ہوگئی، جبکہ 32 سالہ مونو شیکھر عرف مونو سنگھ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں بہتر علاج کے لیے پٹنہ کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرائے جانے کی اطلاع ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، دونوں بھائیوں کو فون کرکے بلایا گیا تھا۔
مقتول کے والد کی تحریری درخواست پر مفصل تھانے میں مقدمہ نمبر 1168/26 درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں سات نامزد اور پانچ نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے 7.65 ایم ایم کے تین کارتوس کے کھوکھے ملے ہیں۔ ایف ایس ایل ٹیم نے خون کے نمونے اور دیگر شواہد جمع کیے ہیں۔ ایس ایس پی سشیل کمار کی ہدایت پر ڈی ایس پی ابھینو کمار کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔
تفتیش کے دوران ریٹائرڈ داروغہ ناگیندر سنگھ عرف نریندر سنگھ اور گورو کمار کی گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ وہیں، خضر سرائے کے بندول گاؤں سے راہل کمار کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے دو ہتھیار اور تین گولیاں برآمد کیے جانے کی خبر ہے۔ ان ہتھیاروں کا واردات سے تعلق ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔ابتدائی طور پر پرانی رنجش، آپسی بالادستی اور جوئے و شراب سے جڑے تنازعات کے پہلوؤں پر تفتیش کی جارہی ہے۔ پولیس اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ دونوں بھائیوں کو کس نے فون کرکے بلایا، قتل کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی اور اس میں کون کون شامل تھا۔ اترّی کے رکن اسمبلی رومیت کمار نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے ملزمین کی جلد گرفتاری کے لیے ایس ایس پی سے بات کی تھی۔ پولیس کے مطابق، مڈبھیڑ میں زخمی دونوں ملزمین سے پوچھ گچھ اور شواہد کی جانچ کے بعد قتل کی اصل وجہ اور مبینہ سازش کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔
