(پی این این)
پٹنہ:بہار کی عدالتوں میں فوجداری مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت میں اب بلاوجہ تاخیر نہیں ہوگی۔ ریاست کی تمام عدالتوں کو دو ماہ کے اندر ضمانت اور قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کا نپٹارہ کرنا ہوگا۔ اگر اس مدت کے اندر ضمانت پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا ہے تو جج کو اس کی مناسب وجہ بتانی ہوگی۔ اس سلسلے میں پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کے لیے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔
پٹنہ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر بدھ کے روز ضمانت کی درخواستوں کے نپٹارے کے لیے سول عدالتوں کو 11 نکاتی معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) جاری کیا۔
اس میں سول عدالتوں کے پرنسپل ضلع جج، سرکاری وکیل، ایڈیشنل سرکاری وکیل، ضلعی استغاثہ افسر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)، ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور محکمۂ صحت کے لیے رہنما ہدایات جاری کی گئی ہیں۔سپریم کورٹ نے سال 2025 میں انا وامن بھالیراؤ بنام حکومتِ مہاراشٹر کے فوجداری اپیل مقدمے کی سماعت کے بعد اس سلسلے میں اہم ہدایات جاری کی تھیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ضمانت اور قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کا تعلق شخصی آزادی سے ہے، اس لیے انہیں ترجیحی بنیاد پر نمٹایا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے ملک کی تمام ہائی کورٹ اور سول عدالتوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ ضمانت اور قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر دو ماہ کے اندر فوری سماعت کرکے ان کا نپٹارہ کیا جائے۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے عدالتِ عظمیٰ کی اسی ہدایت کی روشنی میں بہار کی تمام ضلعی عدالتوں کے لیے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) جاری کیا ہے۔
جب کسی شخص کو ناقابلِ ضمانت دفعات کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ مجسٹریٹ، سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے ضمانت طلب کر سکتا ہے۔ ایس او پی کے تحت عدالتوں کو درخواست دائر کیے جانے کے دو ماہ کے اندر اس پر فیصلہ کرکے اس کا نپٹارہ کرنا ہوگا۔ کئی مرتبہ ضمانت کی درخواستوں کی سماعت میں تاخیر کے باعث درخواست گزار، اس کے اہلِ خانہ اور وکلا کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایات
