گاندھیجینتی کے موقع پر پورے ملک میں احتجاج و مظاہروں کا دور دورہ ہے۔ عدم تشدد اور اہنساکے علمبردار بابائے قوم کے یوم پیدائش پر جس طرح ملک میں آمریت ، لاقانونیت اور جمہوریت کی پامالی کے خلاف دہلی کے جنتر منتر سے لیکر ممبئی کے آزاد میدان وغیرہ تک نئی نسل سڑکوں پر اتری ہے۔ وہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ملک میں تبدیلی آنے والی ہے ، جین زی کے ذریعہ بھگوا نظام شاہی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ جموریت کے قاتل گیا نیش سے ملک کو چھٹکارا ملنے والا ہے۔ اور ایک بار پھر ہندوستان کے سیاسی وسماجی افق پر سیکولر اقدار کے رنگ ابھرنے والے ہیں۔
دو اکتوبر سے پورے ملک میں گیانیش کمار کے استعفیٰ اور ایس آئی آر کے خاتمے کولیکر مظاہرہ جاری ہے۔ ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ جین زی بھی سڑکوں پر اتری ہوئی ہے۔ طلبا سے لیکر وکیل تک احتجاج میں شامل ہیں۔ کہیں سپریم کورٹ کا گھیرائو ہورہا ہے، تو کہیں جنتر منتر پر انٹری کے لئے پولیس سے ٹکرائو ہورہا ہے۔ممبئی میں الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ ہورہا ہے۔ گویا ہر طرح احتجاج ہی احتجاج ہے۔ دو اکتوبر سے دس اکتوبر تک چلنے والا یہ احتجاج کس حد تک کامیاب ہوگا یہ تو وقت بتائے گا ، مگر اب ملک کی پوری فضا میں تبدیلی کی دھمک صاف سنائی دے رہی ہے۔
غورطلب ہے کہ الیکشن کمیشن اور اس کے سربراہ گیانیش کمار کے خلاف اب انڈیا اتحاد بھی ایکتا کے ساتھ سرکار سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے کمر کس چکا ہے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں جمہوریت کی بقا کے لئے ملک گیر تحریک شروع ہوچکی ہے۔ انڈیا اتحاد نے تین بڑے ڈیمانڈ کے ساتھ جس میں ایس آئی آر کی واپسی ، گیانیش کا استعفیٰ اورای وی ایم کے بجائے بیلٹ بکس سے الیکشن کا بہار ، بنگال ، مہاراشٹر میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ یہ اندولن دو اکتوبر سے شروع ہوچکا ہے۔ اور جس طرح جوش وخروش کے ساتھ اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر ہیں اور بے خوف ہوکر تحریک چلارہی ہیں۔اس کے یقینا کچھ نہ کچھ نتائج ہوں گے۔ انڈیا اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ دو اکتوبر سے ضلعی سطح پر الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرہ کیا جائے گا۔ تحفظ جمہوریت مارچ کے تحت سڑکوں پر اترا جائے گا، اور پھر چھ اکتوبر کو دہلی میں الیکشن کمیشن کا گھیرائو ہوگا۔ اس کے بعد بھی حالات نہیں بدلتے ہیں تو اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں صدر سے ملک کر انھیں گیانیش کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی جائے گی۔ کیونکہ اب تو گیانیش کے کرتوت ہردن اجاگر ہورہے ہیں۔ کیسے ایپ کے ذریعہ ووٹ کاٹے جارہے ہیں،یہ سب عیاں ہوچکا ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ 2023میں مودی حکومت نے قانون بنا کر چیف الیکشن کمشنر کواتنا محفوظ کردیا ہے کہ ان پر کوئی مقدمہ نہیں چل سکتا۔ گویا پہلے ہی سے حکومت کو یہ اندازہ تھا کہ ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن سڑکوں پر آکر یہ مطالبہ کرسکتا ہے۔ مگر سچ پھر سچ ہے۔ اپوزیشن نے اس زہر کا بھی تریاق نکال لیا ہے۔ کرناٹک میں پی ڈبلیو ڈی کے سکریٹری رہے گیانیش کمار کے خلاف فائلیں کھول دی گئی ہیں جن پر بہت سارے سنگین معاملات ہیں۔ ملائشیا کے ایک افسر کے خودکشی معاملے میں بھی اب دوبارہ جانچ کے احکامات دے دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ بھلے ہی چیف الیکشن کمشنر کی کارکردگی پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ، مگر بیس سال پہلے انھوں نے جو کچھ کیا ہے اگر وہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو پھرگیانیش سلاخوں کے پیچھے بھیجے جاسکتے ہیں۔ مگر پھر بھی سوال یہ اٹھتا ہے کہ گیانیش کے طوطے میں جادوگر کی جان ہے۔ اگر گیانیش کو کچھ ہوتا ہے تو پھر سرکار کو بھی گہرا ضرب پہنچے گا۔
مگر اپوزیشن کی تمام تر ہنگامہ آرائیاں اور احتجاج کے باوجود اب عوام کی نظریں جین زی کی طرف ہیں ، کاکروچ جنتا پارٹی ایک امید کی روشنی نظر آرہی ہے۔ اس نے انڈین ایکسپریس کے ذریعہ الیکشن کمیشن کی بدترین لاقانونیت اور بدعنوانی کے پیش نظر ایک زبردست محاذ کھول دیا ہے۔ گیانیش کمار کو 48گھنٹے کے اندر استعفیٰ دینے کا معاملہ ناکام ثابت ہونے پر اب سی جے پی نے باقاعدہ الیکشن کمیشن کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ ممبئی سے جیل بھرو اندولن کا آغاز ہوچکا ہے۔ اور حکومت ایک بار پھر جین زی کی طاقت دیکھ کر گھبرا رہی ہے ، غورطلب ہے کہ دو اکتوبر سے جاری سی جے پی کا یہ اندولن اس وقت تک جاری رہے گا جب گیانیش استعفیٰ نہیں دیتے۔ جمہوریت کے قاتل پر کرمنل مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ ایس آئی آر رد نہیں ہوتا۔اور ای وی ایم سے الیکشن کا اعلان ہو نہیں جاتا، اسی مطالبات کے ساتھ سی جے پی گوا ، کرناٹک، مغربی بنگال، اترپردیش، جھارکھنڈ وغیرہ میں مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس کے بعد بھی گیانیش کے کان پر جوں نہیں رینگی وہ مستعفی نہیں ہوئے، تو 10اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ایک بار پھر وہی سب کچھ دوہرایا جائے گا، جو وزیر تعلیم پردھان کیلئے ہوا تھا، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ہمارے کاز کی حمایت کررہی ہیں اور وہ بھی اسی ایشو کولیکر سڑکوں پر ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ ملک میں اب نفرت کی سیاست کا خاتمہ ہوگا، جمہوریت ایک بار پھر نمودار ہوگی۔ اور ملک میں ہم آہنگی ، پریم ، محبت کا دور دورہ ہوگا۔
بہرحال ملک میں پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک ہنگامہ ہی ہنگامہ ہے۔ کانگریس تو اب پوری طرح سڑکوں پر ہے۔ 28ستمبر کو پندرہ ریاستوں میں اس کا زبردست مظاہرہ اس بات کا مظہر ہے کہ کانگریس اب نئے دم خم کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہے۔ دوسری طرف جین زی کی چوطرفہ مخالفت انڈیا اتحاد کے اندولن اور نئے حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے بھی کروٹ لی ہے اور وہ گیانیش کمار کے خلاف سماعت کے لیے تیار ہوچکا ہے۔کیونکہ گیانیش کمار کی تاناشاہی کے خلاف ملک بھر میں پتلے نذر آتش کئے جارہے ہیں۔ دہلی کے کناڈ پلیس میں گدھوں پر جلوس نکال کر گیانیش کمار کا جس طرح سے مضحکہ اڑایا گیا اس کا جواب دینے میں بی جے پی آئی ٹی سیل بھی ناکام ہے۔ عوامی غم وغصہ کا یہ انوکھا منظرنامہ ہے۔ چنانچہ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کی طرف ہیں جہاں سابق ہوم سکریٹری آر کے سنگھ کی عرضی پر عدالت عظمیٰ نے گیانیش کمار کی معطلی کولیکر سماعت منظور کرلی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس موقف کو دیکھتے ہوئے گیانیش نے بھی پلٹی مارنے تیزی دکھائی ہے۔ پرانے فارم6کو بحال کردیا گیا ہے۔ یہ سیدھے طور پر عوامی بیداری اور جمہوریت کی بڑی جیت ہے۔ جس نے ثابت کیا ہے کہ اگر عوام کاا تحاد اور اپوزیشن کا حوصلہ برقرار رہا تو بڑے سے بڑے فرعون کو بھی شکست دی جاسکتی ہے۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ حق کی یہ لڑائی کب اختتام پر پہنچتی ہے۔ آمریت کے نظام کا خاتمہ کب ہوتا ہے۔بقول مسعود بیگ تشنا
عروج دیکھا ہے جس نے زوال دیکھے گا
بدلتے وقت کا وہ بھی کمال دیکھے گا
عروج دیکھا ہے جس نے زوال دیکھے گا
