نئی دہلی:دہلی کے جنتر منتر کے پاس اے آئی ایس اے اوربایاں محاذ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کو لیکر دوسرے دن بھی مظاہرہ کیا۔ اس دوران پولیس نے انھیں روکنے کے لئے بیرکیٹنگ اور ڈیڑھ سو افراد حراست میں لئے گئے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ خاص کر کل جمعہ کو ہوئے مظاہرہ میں ایک ہزار سے زائد مظاہرین حراست میں لئے گئے تھے۔
وہیں کل ممبئی نے سی جے پی نے بھی ایس آئی آر کے خلاف مظاہرہ کیا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اگر گیانیش استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو کاکروچ جنتا پارٹی دس اکتوبر سے جنتر منتر پر مظاہرہ کرے گی۔
واضح ہو کہ مظاہرین ایس آئی آر پر مظاہرہ کررہے ہیں، ان کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کئی بے ضابطگی ہوئی ہے۔ جس سے لاکھوں ووٹ کٹ گئے ہیں۔ یہ مظاہرہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے کچھ دنوں کے بعد ہورہا ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سندھو اور جوشی نے پچھلے دس مہینوں میں ایس آئی آر سے منسلک فیصلوں اور احکامات پر چیف الیکشن کمشنر کے اقدام پر تحریری طور پر مخالفت کی تھی۔
ادھر ممبئی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے دو اکتوبر کے مظاہرے میں پانچ سو سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے۔ افسروں کا کہنا ہے کہ یہ جمواڑہ غیر قانونی تھا، جس کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ ایف آئی آر شیوا جی پارک کے ایک شخص کی شکایت پر درج ہوئی ہے۔
غورطلب ہے کہ سی جے پی نے ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کی گڑبڑیوں کولیکر یہ مظاہرہ کیا ہے۔ سی جے پی مسلسل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے۔ دو اکتوبر کے شیوا جی پارک میں بڑے پیمانے پر مظاہرہ ہوا تھا۔ جس سے ممبئی میں ٹریفک جام ہوگیا تھا۔
مظاہرے کے بعد دیپکے نے جیل بھرو اندولن کی اپیل کی ہے اور م ظاہرین سے کہا ہے کہ وہ تحریک کے لئے تیار ہوجائیں۔
جنتر منتر پر دوسرے دن بھی ایس آئی کے خلاف مظاہرہ جاری،بایاں محاذ نے مانگا گیانیش کمار کا استعفیٰ
