uttar pradesh
قرآن نے انسانیت کو دی سب سے بڑی بریکنگ نیوز : خطیب محمد اقبال
آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم نے پوری انسانیت کو سب سے بڑی بریکنگ نیوز قیامت کی خبر کی صورت میں دی ہے، تاکہ انسان اس عظیم دن کی تیاری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے اس سے بڑی اور اہم خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں قیامت کا لفظ تقریباً 70 مرتبہ آیا ہے، جبکہ مختلف دیگر ناموں جیسے الساعۃ، یوم الدین، یوم الفصل، یوم البعث، یوم الخروج، یوم الجمع، یوم الحساب، الطامۃ الکبریٰ، الواقعۃ، الحاقۃ اور القارعۃ کے ساتھ مجموعی طور پر تقریباً 250 مرتبہ اس دن کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
محمد اقبال نے کہا کہ قرآنِ مجید نے قیامت کے مناظر اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا ہو۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوں گے، کوئی گھر میں، کوئی بازار میں اور کوئی مجلس میں، مگر اچانک اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ضرور فنا ہو جائے گی۔ قیامت کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں، وہ دراصل انسانیت کے لیے الارم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت بھی قیامت کے قریب ہونے کی ایک بڑی علامت تھی، جسے تقریباً پندرہ سو سال گزر چکے ہیں، تاہم قیامت کا حقیقی وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا علم رکھتا ہے۔
خطیب نے کہا کہ قیامت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، اسی لیے قرآنِ کریم بار بار آخرت کی یاد دلاتا ہے تاکہ انسان دنیا کی غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ دنیا کی یہی زندگی آخرت کی دائمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآنِ کریم کی اس عظیم خبر پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور آخرت کی تیاری میں لگ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وحی نازل نہیں ہوگی اور نہ ہی حضرت جبرئیلؑ خبر لے کر آئیں گے، قرآنِ کریم ہمارے درمیان موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔
uttar pradesh
اردو ادب سوسائٹی نے مختلف اشخاص کو پیش کی مبارک باد
امروہہ:اپنی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر، اردو ادب سوسائٹی کے ایک وفد نے شہر کی ممتاز شخصیات اور ہونہار نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سوسائٹی کے ارکان نے سب سے پہلے سابق میونسپل صدر ڈاکٹر افسر پرویز کی رہائش گاہ پر ان کی خیریت دریافت کی۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر افسر پرویز کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے۔ اراکین نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔
اس کے بعد، سوسائٹی نے تعلیم کے میدان میں شہر کا نام روشن کرنے والی طوبہ جاوید کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں NEET کے امتحان میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ سوسائٹی کے اراکین نے طوبہ اور اس کے والد فیصل جاوید کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔
اس سلسلے میں سوسائٹی نے ڈاکٹر سراج ہاشمی کو قانون کی ڈگری حاصل کرنے پر خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی اور ان کی نئی تعلیمی کامیابی کو سراہا۔
اس موقع پر سوسائٹی کے صدر کوثر علی عباسی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔اگرچہ بیماروں اور بوڑھوں کی خیریت دریافت کرنا ہماری روایت کا حصہ ہے، لیکن یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ہونہار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب ہماری نئی نسل تعلیم اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو اس سے پورے معاشرے کا نام روشن ہوتا ہے۔ اردو ادب سوسائٹی ہمیشہ ایسے باصلاحیت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
اس موقع پر حاجی نسیم احمد خان، خالد صدیقی، قیصر علی عباسی، حمزہ عباسی اور سوسائٹی کے دیگر عہدیداران اور معززین موجود تھے۔
uttar pradesh
منوج سنگھل قدیم ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کے صدر منتخب
دیوبند:دیوبندکے مشہور ومعروف سماجی خدمتگار منوج سنگھل کو قدیم شری ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کا صدر منتخب کیا گیا ہے ۔ان کے ساتھ ساتھ آشوتوش گپتا کو جنرل سکریٹری ،اجے کمار بٹو کو خازن اور راکیش اگروال کو نائب صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ان سبھی عہدیداران کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق جمعہ کے روز مندر کے احاطہ میں برہم سنگھ پنڈیر ایڈوکیٹ کی صدارت میں سمیتی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ سالہاسال سے چلے آرہے عہدیداران کے استعفیٰ کے بعد نئی مجلس عاملہ تشکیل دی گئی ۔میٹنگ کے دوران شری کرشن شوبھا یاترا کی تیاریوں اور مندر کی دوسری سرگرمیوں سے متعلق بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
واضح ہوکہ منوج سنگھل دیوبند کے مشہور ومعروف فینسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ پہلے سے ہی نگر ادیوگ ویاپار منڈل پریس ایسوسی ایشن دیوبند اور اگر وال سماج کے صدر ہیں ۔اس کے علاوہ منوج سنگھل قدیم شیو ششو مندر کے صدر اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سینئر رکن بھی ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف سماجی اور مذہبی تنظیموں میں بھی وہ سرگرم رول ادا کررہے ہیں ۔نومنتخب صد رمنوج سنگھل نے کہا کہ نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کامقصد مندر کی زیادہ سے زیادہ خدمات انجام دینا اورسمیتی کی سرگرمیوں کوآگے بڑھانا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سمیتی کی جانب سے چلائے جانے والے آنکھوں کے اسپتال میںبہت جلد جدید قسم کی مشینیں لگائی جائیں گی ۔تاکہ آنکھوںکے مریضوںکو بہتر علاج مہیاکرائے جاسکے ۔
میٹنگ میںونود پرکاش گپتا ،اشوک گپتا ،شروند سنگھل ،رادھے شیام گر گ ،مکیش گرگ ،رشی پال کشیپ ،پون دھیمان سشیل منگل ،پون ہری ،راجیو گپتا ،اجے گپتا ،ورون گرگ اور ابھینائو گوئیل سمیت بڑی تعداد میںسمیتی کے ارکان موجود رہے ۔
uttar pradesh
رکن اسمبلی محبوب علی گھر میں نظربند،پولیس نے رامپور جانے سے روکا
(پی این این)
امروہہ:سماج وادی پارٹی ہائی کمان کی ہدایت پر رامپور کی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے سرکاری فرمان کے خلاف رامپور ڈی ایم سے ملنے والے وفد میں شامل محبوب علی جمعرات کی صبح جب رامپور کے لئے نکلے تو پولس انتظامیہ نے شہر کے گاندھی مورتی چوراہا پر انکے قافلہ کو روک لیا جسکے بعد موجود بڑی تعداد میں پارٹی لیڈران اور کارکنان نے یو پی سرکار اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا محبوب علی اور دیگر پارٹی لیڈران کی انتظامیہ سے اس بات پر شدید بحس بھی ہوئی جبکہ محبوب علی نے انتظامیہ کو دو ٹوک کہا یا تو رامپور جاؤنگا یا مجھے گرفتار کیا جائے بعد میں کافی دیر کی کش مکش کے بعد انتظامیہ نے محبوب علی سے مطالباتی مکتوب یہیں پیش کر دینے کا مطالبہ کیا مکتوب موصول کرنے کے بعد بھی انتظامیہ کے ذریعہ محبوب علی کو گھر میں نظربند کیا گیا دیر دوپہر تک بھاری پولس فورس محبوب علی کی رہائش گاہ پر موجود رہی۔
رکن اسمبلی امروہہ، صدر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) اتر پردیش اور سابق کابینہ وزیر حاجی محبوب علی نے رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کی مجوزہ کارروائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات کو انتظامی سختی کے بجائے آئینی، قانونی اور انصاف پر مبنی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور تعلیمی نظام کو نقصان نہ پہنچے۔ جمعرات کو صبح 11 بجے حاجی محبوب علی اپنے کیمپ دفتر سے ضلع مجسٹریٹ رامپور اور وائس چانسلر (آر ڈی اے) کو میمورنڈم پیش کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے، جس میں جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگانے اور معاملے کا غیر جانبدارانہ حل نکالنے کا مطالبہ شامل تھا۔ تاہم پولیس و انتظامیہ نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے احتجاجی مقام پر دھرنا دیا اور وہیں موجود سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) امروہہ کو اپنا یادداشت نامہ پیش کیا۔
اس موقع پر حاجی محبوب علی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے انہیں راستے میں روکنا جمہوری حقوق کی خلاف ورزی اور عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ایک اہم مرکز ہے، اس لیے ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل شفافیت، قانونی عمل اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نوعیت کا قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل عدالت اور قانون کے مطابق نکالا جائے، نہ کہ ایسی کارروائیوں سے جس سے تعلیم، امتحانات اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں انصاف پسندانہ اور متوازن فیصلہ کرے۔
سابق رکن قانون ساز کونسل اتر پردیش اور سماج وادی پارٹی کے نوجوان رہنما پرویز علی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ہمیشہ تعلیم، آئین اور جمہوری اقدار کی محافظ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے خلاف سخت کارروائی سے پہلے قانونی تقاضوں کی تکمیل، شفاف جانچ اور تمام فریقین کو سنا جانا ضروری ہے۔ پرویز علی نے کہا کہ حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کے مراکز کو محفوظ رکھنا اور نوجوان نسل کے مفاد کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ میمورنڈم میں درج ذیل نکات پیش کیے گئے:
جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگائی جائے۔ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرائی جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر کسی بھی قسم کا منفی اثر نہ پڑنے دیا جائے۔ اگر کوئی قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل صرف عدالتی اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات میں ایسا متوازن نقطۂ نظر اختیار کیا جائے جس سے قانون کی پاسداری بھی برقرار رہے اور طلبہ، اساتذہ و ملازمین کے مفادات بھی محفوظ رہیں۔
امید ظاہر کی گئی ہے کہ ضلع انتظامیہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ اس موقع پر سابق رکن قانون ساز کونسل پرویز علی، محمد علی عرف بھورے علی، وہاب سیفی، مختار نقوی، زاہد حسین، حاجی جمشید، ساجد علی، ذاکر علی، بوبی بھگت سنگھ، ششی کانت گوئل، کامیش پردھان، مہیش یادو، حاجی اسلم سلمانی، ریاض الحق پردھان، ڈاکٹر آشکار، محمد میاں پردھان، عارف ایڈووکیٹ، جاوید علی، ناصر علی، مدثر خاں، توصیف چڈھا، امیر آفتاب سمیت سیکڑوں سماج وادی کارکنان موجود رہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
