10اکتوبر کو تاریخ کی نظروں نے وہ مناظر بھی دیکھے جو ایمرجنسی کے زمانے میں بھی نہیں ابھرے تھے۔ سی جے پی کے احتجاج کو روکنے کےلئے ملک کی راجدھانی دہلی کو ملٹری چھائونی میں تبدیل کردیا گیا ۔ کہیں سے کوئی پرندہ بھی جنتر منتر نہیں پہنچے۔گیانیش کے خلاف کوئی آواز نہ ابھرے اس کے لئے 30 ہزار سے زائد جوان تعینات کردیئے گئے تھے۔ دہلی کی سرحدیں انتہائی سخت چیکنگ کے گزر رہی تھیں ، ٹریفک کا اژدہام تھا ہر نوجوان پر پولیس کی نظر تھی۔ جنتر منتر کو تو پہلے ہی سے سیل کردیا گیا تھا۔ مگر وقت کا یہ بھی المیہ تھا کہ اس طرف جانے والی تمام سڑکوں پر میڈیا کو بھی پہنچنے سے روکا جارہا تھا۔ کناٹ پلیس سے سنسد مارگ جانے والی سڑک کو میڈیا کے لئے پوری طرح ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ کناٹ پلیس کے آئوٹر سگنل کے پاس سیکڑوں ایسے بچوں کو پولیس گھیرے ہوئی تھی جن کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ دہلی پولیس نے گیانیش کمار کے خلاف آواز کو روکنے کے لئے پوری طرح کمر بستہ تھی۔ اس نے طے کررکھا تھا کہ کسی بھی حال میں سی جے پی بچوں کو جنتر منتر نہیں پہنچنے دینا ہے۔ تاریخ کی آنکھوں نے یہ منظرنامہ بھی دیکھا کہ ایمرجنسی کی طرح کس طرح پولیس سی پی ایم ودیگر اپوزیشن جماعتوں کے دفاتر میں دھاوے بول رہی تھی پتہ کرہی تھی کہ یہاں پر بچے تو مقیم نہیں ہیں۔ نئی نسل نے ایمرجنسی کا دور نہیں دیکھا مگر ان کی آنکھوں نے ایمرجنسی سے بھی زیادہ بھیانک منظرنامہ دیکھ لیا ، پولیس کی سخت کارروائیاں دیکھیں ۔ تاریخ کی نظروں نے یہ بھی دیکھا کہ ملک میں پہلی بار نئی نسل کے احتجاج کو دبانے کے لئے کیا کیا کوکرم نہیں کئے گئے۔ حیرت تو یہ بھی ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر کوڑے بکھیرے گئے ، تاکہ مارچ کرنے والوں کو اذیت پہنچے۔غازی آباد ، نوئیڈا، گروگرام وغیرہ سے آنے والی سرحدوں پر چیکنگ سے جو اژدہام ہوا کہ عوام میں اشتعال پھیل گیا۔ ایمرجنسی کے زمانے میں بھی ٹرینیں منسوخ نہیں کی گئی تھیں۔ لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیش نظر کوئی دہلی نہیں پہنچے، اس کے لئے ڈھائی سو ٹرینیں منسوخ کردی گئیں۔ 57 میٹروں اسٹیشن بند کردیئے گئے۔ دہلی کے ہوٹلوں کی جانچ شروع ہوگئی۔ رجسٹر چیک کئے جانے لگے کہ کون یہاں ٹھہرا ہوا ہے۔ بس ٹرمنلوں پر کچی عمر کے بچوں سے سختی سے پوچھ گچھ ہونے لگی۔ کہ یہاں کیوں آئے ہوں؟حتیٰ کہ مسجدوں میں جاکر ائمہ کرام کو مجبور کیا گیا کہ وہ اعلان کریں کہ مسلمان اس مظاہرہ میں شامل نہ ہوں۔ پونے ، جے پور سمیت کئی بڑے اسٹیشنوں پر دہلی آنے والے سیکڑوں طلبا اتار لئے گئے۔ سی جے پی کے قائد ابھیجیت کو پلین میں ہی ڈیٹین کرلیا گیا۔ جبکہ دھرو راٹھی کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ خاتون قائد نیہا بورا بھی حراست میں لے لی گئیں۔ ان تمام کارروائیوں کے باوجود کاکروچ کا ریلہ دہلی پہنچ ہی گیا۔ نیہا بورا نے اعلان کیا تھا کہ اب جنتر منتر کے بجائے دہلی ہاٹ کو دوسرا جنتر منتر بنایا جائے گا۔ وہاں پر جانے والے سیکڑوں وکلا کو حراست میں لئے گئے ۔ کیجریوال ،یوگیندر یادو، ممتا بنرجی ، ورندا کرات سمیت درجنوں لیڈران جہاں تہاں روک لئے گئے۔ ایک عجیب فرعونی منظرنامہ تھا جس کو تاریخ رقم کررہا تھا۔ اور مؤرخ بھی سوچ رہے تھے کہ اگر ایسا اندولن دس روز تک چلتا رہے تو پھر دہلی کا کیا ہوگا۔ عوامی غم وغصہ کا ردعمل کیا ہوگا۔
غورطلب ہے کہ گاندھی جینتی 2اکتوبر سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کے خلاف شروع کیے گئے مظاہروں اور دھرنوں کا جو طوفان ملک بھر میں جو کھڑا ہو اہے وہ تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔ ممبئی ، کولکاتہ، جے پور ، بنگلورو، پٹنہ ، بھوپال وغیرہ وغیرہ تک ہر شہر جمہوریت کے قتل کے احتجاج میں سڑکوں پر ہیں۔ ایس آئی آر منسوخ کرنے ، ووٹ چوری کے خلاف مظاہروں کو دور جاری ہے۔ ادھرراہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد نے جس حوصلے کا ثبوت دیا ہے وہ بھی ایک تاریخی منظرنامہ ہے۔ اپوزیشن ایک نئی حرارت کے ساتھ سڑک پر ہے۔ جہاں سے ایس آئی آر کے ذریعہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کی حقیقت کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں اس کھیل کے کرتا دھرتا گیانیش کے خلاف آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ شاید یہی دبائو ہے کہ اب سپریم کورٹ بھی اس معاملے کی سماعت کرنے کیلئے تیار ہوگیا ہے۔ اس نے بھی صاف کہا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کا حق سب کو ہے۔ حکومت کی کارروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مکھی مارنے کے لئے ہتھوڑے کا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ اس نے ایس آئی آر کے تعلق سے مرکز اور الیکشن کمیشن سے جواب بھی طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب راہل گاندھی بھی 11 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے ایک نئے حوصلے کے ساتھ میدان میں کھڑے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ صدر جمہوریہ نے جس طرح سے یقین دہانی کرائی ہے اس سے ہمیں بڑا حوصلہ ملا ہے۔کہ ملک کو انصاف ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ نے بھی اس معاملے میں ثبوت مانگا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو ہم ایکشن لیں گے۔ صدر جمہوریہ کے اس رویئے سے نہ صرف ہمیں حیرت ہے بلکہ ایک نئی طاقت بھی ملی ہے۔ 10ا کتوبر کو جہاں دہلی میں احتجاج کو روکنے کے لئے حکومت ایک جنگ لڑ رہی ہے تو دوسری طرف راہل گاندھی بھی ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد کے ساتھ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کرنےو الے ہیں ان سے جمہوریت بچانے کی اپیل کرنے والے ہیں۔ حالانکہ سپریم کورٹ پہلے بھی احتجاج پر سختی کے خلاف تبصرہ کرچکا ہے۔10اکتوبر کو جس طرح دہلی کی ناکہ بندی کی گئی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر سیکورٹی کا انتظام کیا جانا اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ حکومت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ لیکن اس جنگ سے دہلی کی عام زندگی کس بری طرح متاثر ہورہی ہے یہ بھی فکر کا موضوع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے تشویش کا اظہار کیاہے اور کہا ہے کہ سب کچھ بند نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کوشہریوں کو ہونے والی پریشانیوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئے۔ اول تو کسی پرامن جمہوری احتجاج ومظاہرہ کو روکنے کے بجائے لوگوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا مواقع دینا چاہئیں۔ بہرحال 10اکتوبر کا جو منظرنامہ اجاگر ہوا ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ بنے گا۔حالانکہ سی جے پی کے قائد دیپکے حراست میں لئے جانے کے بعد اب کاکروچ جنتا پارٹی کی کمان امیکے شندے نے سنبھال لی ہے۔ اور یہ اندولن جاری ہے ،مگرسوال تویہ ہے کہ کیا سرکار سپریم کورٹ کی تشویش کا خیال رکھتے ہوئے گفت وشنید سے مسئلے کا حل نکالے گی ، گیانیش کو اس کی کارکردگی کی سزا ملے گی؟کیونکہ تمام تر ناکہ بندی کے باوجود جس طرح کاکروچ دہلی پہنچے،وہ اس بات کا غماز کہ پیمانہ چھلکنے والا ہے۔ بقول شاعر
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
