نئی دہلی:سخت ناکہ بندی اور بڑے پیمانے پر پولیس کی سختی کی وجہ سے مظاہرین جنتر منتر نہیں پہنچ سکے۔ لیکن اس کے باوجود دہلی کی کئی سڑکوں پر ان کا مظاہرہ ہوا۔ نیہا بورا ، یوگیندر یادو ،اروند کیجریوال، ورندا کیرات، ممتا بنرجی وغیرہ راستے میں ہی حراست میں لے لئے گئے۔ حالانکہ جنتر منتر کی ناکہ بندی کے بعد دہلی ہاٹ پر مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سی جے پی کے مطابق اندولن جاری رہے گا۔ اس دوران خبر یہ ہے کہ دہلی ، لکھنؤ، ممبئی ، بنگلورو وغیرہ میں بھی طلبا نے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا ہے۔ ممبئی میں مہاتما گاندھی پڑپوتے تشار گاندھی اور لکھنو میں این ایس یو آئی کے کئی کارکنان حراست میں لئے گئے۔ تشار گاندھی ممبئی میں گیانیش کے خلاف مظاہرہ کرنے والے تھے۔ انھیں پولیس نے اگست کرانتی میدان میں جاتے وقت حراست میں لیا۔
ادھر یوپی کی راجدھانی لکھنو میں دہلی جانے والے کمیونسٹ رہنمائوں اور طلبا تنظیموں کے کئی رہنمائوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اور انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ ریاستی صدر ارادھنا مشرا نے اسے بزدلی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب دہلی میں بڑے پیمانے پر وکیلوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ جو بیلٹ پیپر سے ووٹ کرانے اور ایس آئی آر منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ گیانیش کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کررہے تھے۔
سپریم کورٹ بارایسو سی ایشن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے۔ سوربھ داس، اسوتوش رانکا ، دھرو راٹھی سمیت ایک ہزار سے زائد سی جے پی کارکنان حراست میں ہیں۔ ڈرون کے ذریعہ دہلی میں نگرانی کی گئی۔ جس سے بہت سارے بچے بھی پکڑے گئے۔بتایا جاتا ہے کہ ممبئی سے پہنچے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو پولیس نے فلائٹ میں ہی حراست میں لے لیا۔ دیپکے جیسے ہی ہوائی اڈے پر پہنچے پولیس ان کی منتظر تھی۔
دیپکے کا کہنا ہے کہ یہ قدم حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔ اب ہم بھی دیکھیں گے ۔دہلی روانگی سے قبل دیپکے نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ وزیرا عظم مودی احتجاج سے پہلے شکست کھا چکے ہیں۔ جنتر منتر پر جانے سے روکنا اور طاقت کا اس طرح سے استعمال اس بات کی علامت ہے کہ وہ عوام سے گھبرائے ہوئے ہیں۔
ادھر یوٹیوبر دھرو راٹھی کو ان کی رہائش گاہ گروگرام کے سیکٹر 56 سے حراست میں لیا گیا۔ دہلی بارڈر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت میں آنے والے کسانوں کو بھی بارڈر پر روک دیا گیا ہے۔ ٹکیت گروپ کے کئی لیڈران نظر بند کردیئے گئے ہیں۔ حالات کے پیش نظر دہلی کے تمام میٹرواسٹیشن بند رہیں گے۔ دہلی کے پورے علاقے میں ڈرون کے ذریعہ نگرانی جاری ہے۔ اور احتجاجی مقام پر پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ادھر دیپکے اور کاکروچ پارٹی کے سرکردہ لیڈروں کی گرفتاری کے بعد کمان اب راجکیہ شندے نے سنبھال لی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اندولن جاری رہے گا، ملک کے ہر گوشے میں گیانیش کے استعفیٰ کا مطالبہ ہوتا رہے گا۔ ہر جگہ سی جے پی مظاہرہ کرے گی۔
جنترمنتر نہیں پہنچ پائے مظاہرین،4ہزار سے زائد افراد حراست میں
