تازہ ترین
بہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائیایک بار پھر احسان الحق رضا کے ہاتھ میں طلبہ جے ڈی یو کی کمان،چار رنگوں کے ’ڈسٹ بِن‘ سے بچوں نے سکھایا کچرا انتظام، گھر گھر پہنچایا صفائی کا پیغام، اردو پرائمری اسکول چاترگھاٹ میں ایکو کلب کے تحت بیداری مہم کا اہتمام5 سیٹیں نہیں، 50 اضلاع میں ہوئی بی جے پی کی شکست, اترپردیش میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج پر اکھلیش یادو کا شدید حملہاے ایم یوطلبہ یونین کے سابق صدرڈاکٹر اعظم بیگ پہنچے علی گڑھ، طلبہ یونین انتخابات کے امیدواروں اور دیگرطلبہ سے کی ملاقاتدیوبند کوتوالی انچارج نے عوامی دربارمیں سنے عوام کے مسائل، دیر رات تک سڑکوں پر بلاوجہ گھومنے اور شرپسند واسٹنٹ کرنے والوں کے خلاف کی جائے گی سخت کارروائی: سندیپ بالیاندنیا کیلئے3 منٹ، آخرت کیلئے ہمیشہ کی کریں تیاری : خطیب محمد اقبال، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی پر خطابمالیگاؤں میں ابوبکر علی حسن چودھری کا شاندار عوامی استقبال، دیولالی اسمبلی حلقے کی اہم ذمہ داری ملنے پر رابطہ آفس میں جشن کا سماں
Bihar

این ڈی اے کی میٹنگ میں نہیں پہنچے آر ایل ایم کے3 ارکانِ اسمبلی، وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پرمنعقدہ اجلاس سے بنائی دوری،پارٹی سربراہ اوپیندر کشواہا کی مشکلوں میں اضافہ

(پی این این)
پٹنہ:بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات کے پیش نظر جمعہ کو وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پر این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں اوپیندر کشواہا کی پارٹی راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے تین ارکانِ اسمبلی شریک نہیں ہوئے۔ پارٹی کے چار میں سے تین ارکانِ اسمبلی مادھو آنند، آلوک کمار سنگھ اور رامیشور مہتو نے میٹنگ سے دوری بنائے رکھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تینوں اپنی پارٹی کے سربراہ اوپیندر کشواہا سے ناراض ہیں۔
حال ہی میں ان تینوں نے سارن اساتذہ کی نشست پر قانون ساز کونسل کے انتخابات میں این ڈی اے امیدوار کے خلاف محاذ کھول دیا تھا۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں این ڈی اے کی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کے لیے بلائی گئی اس میٹنگ میں تینوں ارکانِ اسمبلی کی غیر حاضری سے بہار کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ پارٹی میں ایک بار پھر شروع ہونے والی اندرونی رسہ کشی نے اوپیندر کشواہا کی تشویش بھی بڑھا دی ہے۔
آر ایل ایم کے تینوں ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ میں غیر حاضری کے بعد سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ تاہم، اس سلسلے میں پوچھے جانے پر مدھوبنی سے پارٹی کے رکنِ اسمبلی مادھو آنند نے کہا کہ میٹنگ کا فیصلہ آخری وقت میں ہونے اور پٹنہ سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ اس میں شریک نہیں ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں شرکت نہ کرپانے کی اطلاع پارٹی کو دے دی تھی۔ مادھو آنند نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ این ڈی اے کے ساتھ ہیں۔
این ڈی اے کی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے والے آر ایل ایم کے تینوں ارکانِ اسمبلی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں سارن اساتذہ کی نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے والے رام پکار سنہا کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس نشست پر نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے امیدوار آنند پشکر این ڈی اے کے باضابطہ امیدوار ہیں۔ آر ایل ایم کے چار میں سے تین ارکانِ اسمبلی کے الگ راستہ اختیار کرنے سے اتحاد کے اندر بے اطمینانی کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
مادھو آنند نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ رام پکار سنہا آر ایل ایم کے پرانے رہنما ہیں۔ پارٹی کارکنوں کی خواہش کے بعد ہی تینوں ارکانِ اسمبلی نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مادھو آنند نے اوپیندر کشواہا کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ قیادت کے بعض فیصلوں کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کے عزت و احترام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دو روز قبل وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں این ڈی اے کے اعلیٰ رہنماؤں کی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ این ڈی اے متحد ہوکر قانون ساز کونسل کے انتخابات لڑے گا۔ جن جماعتوں میں رہنماؤں کے درمیان اختلافات ہیں، انہیں متعلقہ پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت ہی دور کرے گی۔
آر ایل ایم میں بغاوت کو روکنے کی ذمہ داری پارٹی کے قومی صدر اوپیندر کشواہا کو سونپی گئی تھی، تاہم وہ تینوں ارکانِ اسمبلی کے ساتھ جاری اختلافات کو کم کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔اس کے بعد جمعہ کو این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے واضح کردیا کہ اتحاد کے خلاف مہم چلانے والے این ڈی اے کے کسی بھی رہنما کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات بہار حکومت میں جے ڈی یو کوٹے کے وزیر شروَن کمار نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

متعلقہ خبریں