(پی این این)
پٹنہ:بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات کے پیش نظر جمعہ کو وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پر این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں اوپیندر کشواہا کی پارٹی راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے تین ارکانِ اسمبلی شریک نہیں ہوئے۔ پارٹی کے چار میں سے تین ارکانِ اسمبلی مادھو آنند، آلوک کمار سنگھ اور رامیشور مہتو نے میٹنگ سے دوری بنائے رکھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تینوں اپنی پارٹی کے سربراہ اوپیندر کشواہا سے ناراض ہیں۔
حال ہی میں ان تینوں نے سارن اساتذہ کی نشست پر قانون ساز کونسل کے انتخابات میں این ڈی اے امیدوار کے خلاف محاذ کھول دیا تھا۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں این ڈی اے کی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کے لیے بلائی گئی اس میٹنگ میں تینوں ارکانِ اسمبلی کی غیر حاضری سے بہار کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ پارٹی میں ایک بار پھر شروع ہونے والی اندرونی رسہ کشی نے اوپیندر کشواہا کی تشویش بھی بڑھا دی ہے۔
آر ایل ایم کے تینوں ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ میں غیر حاضری کے بعد سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ تاہم، اس سلسلے میں پوچھے جانے پر مدھوبنی سے پارٹی کے رکنِ اسمبلی مادھو آنند نے کہا کہ میٹنگ کا فیصلہ آخری وقت میں ہونے اور پٹنہ سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ اس میں شریک نہیں ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں شرکت نہ کرپانے کی اطلاع پارٹی کو دے دی تھی۔ مادھو آنند نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ این ڈی اے کے ساتھ ہیں۔
این ڈی اے کی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے والے آر ایل ایم کے تینوں ارکانِ اسمبلی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں سارن اساتذہ کی نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے والے رام پکار سنہا کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس نشست پر نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے امیدوار آنند پشکر این ڈی اے کے باضابطہ امیدوار ہیں۔ آر ایل ایم کے چار میں سے تین ارکانِ اسمبلی کے الگ راستہ اختیار کرنے سے اتحاد کے اندر بے اطمینانی کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
مادھو آنند نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ رام پکار سنہا آر ایل ایم کے پرانے رہنما ہیں۔ پارٹی کارکنوں کی خواہش کے بعد ہی تینوں ارکانِ اسمبلی نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مادھو آنند نے اوپیندر کشواہا کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ قیادت کے بعض فیصلوں کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کے عزت و احترام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دو روز قبل وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں این ڈی اے کے اعلیٰ رہنماؤں کی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ این ڈی اے متحد ہوکر قانون ساز کونسل کے انتخابات لڑے گا۔ جن جماعتوں میں رہنماؤں کے درمیان اختلافات ہیں، انہیں متعلقہ پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت ہی دور کرے گی۔
آر ایل ایم میں بغاوت کو روکنے کی ذمہ داری پارٹی کے قومی صدر اوپیندر کشواہا کو سونپی گئی تھی، تاہم وہ تینوں ارکانِ اسمبلی کے ساتھ جاری اختلافات کو کم کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔اس کے بعد جمعہ کو این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے واضح کردیا کہ اتحاد کے خلاف مہم چلانے والے این ڈی اے کے کسی بھی رہنما کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات بہار حکومت میں جے ڈی یو کوٹے کے وزیر شروَن کمار نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
این ڈی اے کی میٹنگ میں نہیں پہنچے آر ایل ایم کے3 ارکانِ اسمبلی، وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پرمنعقدہ اجلاس سے بنائی دوری،پارٹی سربراہ اوپیندر کشواہا کی مشکلوں میں اضافہ
