Connect with us

uttar pradesh

گستاخ نازیہ خان کے خلاف مسلمانوں میں شدید غم وغصہ ،جمعیۃ علماء سہارنپور نے مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں پولیس کو میمورنڈم سونپا، سخت کارروائی کامطالبہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان مقدسہ میں کی گئی گستاخی اور نازیبا تبصرے کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے کارکنان نے ایک میمورنڈم پیش کرکے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رام پور منیہاران میں جمعیۃ علمائے ہند کے کارکنان نے ضلع نائب صدر مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں رام پور منیہارن پولیس اسٹیشن پہنچے اور سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا۔میمورنڈم میں کہا گیا کہ نازیہ خان نامی ایک عورت نے ایک پوڈ کاسٹ میں محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان میں گستاخانہ اور اشتعال انگیز گفتگو کی جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔
سوشل میڈیا پر گر دش کررہی ویڈیو میں نازیہ الٰہی خان نے توہین آمیز تبصرہ محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے اوراسلامی عقائد کی رو سے ناقابل معافی ہے، اسکا یہ جارحانہ اور تکلیف دہ عمل ملک کے آئین و قانون کے خلاف ورزی ہے۔اس طرح کے دانستہ بیانات مذہب اور اس کے ارکان کے لیے ذہنی صدمے کا باعث بنتے ہیں۔ مولانا شمشیر قاسمی نے پولیس حکام کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات معاشرے میں بے چینی اور نفرت کے فروغ کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کاحق فراہم کرتا ہے ملک میں سماجی ہم آہنگی بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لئے تمام مذاہب مقدس ہستیوں مذہبی شعائر کا احترام ناگریزہے ۔ انہوں نے ملک کے امن و ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
اس موقع پر مولانا وسیم احمد قاسمی،قاری مکرم حسین، قاری شوقین الحسنی، مفتی عمیر ناظمی، مولانا ثوبان، حاجی ایوب، مولانا قمر، مولانا عبدالقادر، مولانا منور، ماسٹر ارشد ماجری، حکیم اسلم، احسان ملک، قاری مزمل، قاری سالک، قاری شاداب، قاری تنویر، قاری مبارک، قاری اسجد، سرور، انتظار، شمشیر، نعیم احمد قاری انیس، قاری محمد سلمان قاری عابد حافظ ندیم، مرسلین حافظ سفیان، محمدعمار ،ثاقب، آیان، حاجی عمران، وغیرو موجود رہے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں ششماہی امتحانات اختتام پذیر

Published

on

دیوبند:معروف دینی ادارہ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں جاری تحریری و تقریری ششماہی امتحانات پیر کے روز حسن انتظام اور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے۔ کئی روز سے جاری امتحانات میں درجہ حفظ و ناظرہ، عربی اول تا دورہ حدیث شریف اور تکمیلِ افتاء سمیت تمام شعبہ جات و درجات کے طلبہ نے ذوق و شوق، علمی سنجیدگی اور محنت کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے اپنے پرچے حل کیے۔امتحانات کو شفاف، منظم اور پرسکون ماحول میں مکمل کرانے میں ادارے کے ذمہ داران، بالخصوص بانی و مہتمم مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی کی سرپرستی اور شبانہ روز کاوشیں نمایاں رہیں۔ ان کی حسن تدبیر اور منظم حکمت عملی کے ساتھ اساتذہ کرام کی مسلسل نگرانی کے نتیجے میں امتحانی عمل بخوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔
مدارس اسلامیہ کے تعلیمی نظام میں ششماہی امتحانات کو تعلیمی سال کے نصف سفر کا جائزہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے قرآن کریم، احادیث مبارکہ، فقہ اسلامی اور علوم عربیہ میں طلبہ کی علمی استعداد، فہم اور گہرائی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ امتحانات کے اختتام پر دارالعلوم فاروقیہ دیوبند کے ارباب حل و عقد اور اساتذہ کرام نے اطمینان و مسرت کا اظہار کیا۔ مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی نے امتحانات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امتحان طلبہ کی علمی استعداد، فہم اور محنت کو پرکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ ششماہی امتحان تعلیمی سفر کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لیے مزید محنت و بہتری کی سمت متعین کرنے کا مؤثر وسیلہ ہے۔
مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی نے تمام طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی نمایاں کامیابی، علمی و عملی ترقی، فہم دین میں رسوخ اور امت مسلمہ کے لیے نافع بننے کی دعا فرمائی۔ اب اساتذہ کرام کی جانب سے امتحانی کاپیوں کی جانچ کا مرحلہ شروع ہوگا، جس کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ نتائج کے اعلان کے ساتھ تعلیمی سال کے بقیہ نصف حصے کی تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

Continue Reading

uttar pradesh

موٹر سائیکل چور گروہ کا پردہ فاش، تین گرفتار

Published

on

دیوبند:سرساوہ پولیس نے موٹر سائیکل چوری کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ان کی نشاندہی پر نو چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کی ہیں۔
پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے سرساوہ کے علاوہ صدر بازار، چلکانہ اور ہریانہ میں بھی موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ گروہ کے کچھ دیگر ارکان کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جن کی تلاش کی جا رہی ہے۔ ایس پی دیہات مینک پاٹھک نے پیر کی دوپہر پولیس لائن میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرساوہ علاقے میں مسلسل موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کے پیش نظر پولیس نے چوری کے مقامات کو ہاٹ اسپاٹ کے طور پر نشان زد کیا تھا۔ مشتبہ گاڑیوں کی جانچ اور نگرانی کے لیے پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔
اسی سلسلے میں ۳۱ ستمبر کو نکوڑ-سرساوہ روڈ پر ہائی وے پل کے نیچے جانچ کے دوران نتن کمار عرف روہت فوجی ساکن جھبیرن، ونس عرف راجا ساکن گدڑہیڑی اور گورو ساکن جھبیرن کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے بعد ملزمان کی نشاندہی پر نکوڑ روڈ پر واقع بند پڑے اینٹوں کے بھٹے کے کھنڈرات سے نو چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔ ان میں اسپلیندر اور پلاٹینا سمیت مختلف ماڈل کی موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق برآمد موٹر سائیکلوں میں سے دو چوری کے درج مقدمات سے متعلق ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے رادھا سوامی ست سنگ بیاس، سرساوہ اور پی جی آئی پلکھنی ہسپتال سمیت دیگر مقامات سے موٹر سائیکلیں چوری کرنے کی بات بھی بتائی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نشے کے عادی ہیں اور نشے کا خرچ پورا کرنے کے لیے موٹر سائیکلیں چوری کرتے تھے۔
پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوری کی موٹر سائیکلیں دیہی علاقوں میں چھ سے آٹھ ہزار روپے میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ایس پی دیہات کے مطابق گروہ کے ارکان چوری کی موٹر سائیکلوں کو ٹھکانے لگانے سے پہلے ان کے چیسس اور انجن نمبر گھس کر مٹا دیتے تھے، تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔ پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوری کی کچھ موٹر سائیکلیں کاٹ کر ان کے پرزے ریہڑوں میں استعمال کیے جاتے تھے، جبکہ دیگر پرزے فروخت کر دیے جاتے تھے۔
پولیس اس سلسلے میں چوری شدہ گاڑیوں کے پرزے خریدنے والوں کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔پوچھ گچھ میں تین چار روز قبل تیلی پورہ ٹھیکے کے قریب چابی لگی موٹر سائیکل چوری کرنے کی واردات کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ایس پی دیہات مینک پاٹھک نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران ہریانہ میں بھی موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث ہونے کی معلومات سامنے آئی ہیں۔ سرساوہ ہریانہ کی سرحد سے متصل ہونے کے باعث پولیس ہریانہ میں درج موٹر سائیکل چوری کے مقدمات سے بھی ملزمان کے تعلق کی جانچ کر رہی ہے۔ گروہ سے وابستہ دیگر افراد کی تلاش کے ساتھ متعلقہ مقدمات میں ضروری قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اکھلیش یادو سے آر روشن بیگ کی اہم ملاقات

Published

on

لکھنؤ: کرناٹک کے سابق وزیر اور سینئر سیاسی رہنما آر روشن بیگ نے اترپردیش کے دورے کے دوران مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور ریاست کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے دیوہ شریف اور مجگاوں شریف سمیت مختلف مقدس مقامات پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار کیا۔آر روشن بیگ نے دیوہ شریف میں حضرت حاجی وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ مجگاوں شریف میں حضرت مخدوم شیخ سارنگ چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر بھی حاضری دے کر عقیدت پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک میں امن، بھائی چارے، سماجی ہم آہنگی اور عوام کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔
دورے کے دوران آر روشن بیگ نے اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کے خدشات، عوامی مسائل اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سہارنپور کے مسجد سے متعلق معاملے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ ریاست میں مختلف طبقات کے درمیان پیدا ہونے والی بے چینی، امن و امان کی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفادات سے متعلق مسائل پر گفتگو کی۔ملاقات کا ایک اہم موضوع اترپردیش میں عنقریب ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی رہا۔ آر روشن بیگ اور اکھلیش یادو نے انتخابات کے ممکنہ سیاسی منظرنامے، عوامی توقعات اور مختلف طبقات کے سیاسی رجحانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کی توقعات، سیاسی ترجیحات اور انہیں درپیش خدشات کے علاوہ ریاست میں ان کے سماجی، تعلیمی اور سیاسی مسائل بھی گفتگو کا حصہ رہے۔
آر روشن بیگ نے اپنے دورۂ اترپردیش کے دوران سینئر صحافیوں اور دانشوروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ریاست کے موجودہ حالات، سیاسی تبدیلیوں، سماجی مسائل اور ملک میں رونما ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صحافتی اور دانشورانہ حلقوں کے ساتھ بات چیت میں عوامی مسائل کو وسیع تناظر میں سمجھنے اور مختلف نقطۂ نظر جاننے پر بھی توجہ رہی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں بتدریج تیزی آرہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مسائل اور مختلف سماجی طبقات کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں آر روشن بیگ کی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور دانشوروں سے ملاقاتوں کو ریاست کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے اور مختلف حلقوں کے خیالات جاننے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔آر روشن بیگ کے دورے میں مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی سطح پر رابطوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ دیوہ شریف اور مجگاوں شریف میں روحانی شخصیات کے مزارات پر حاضری کے علاوہ اکھلیش یادو اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے انہوں نے اترپردیش کی سیاسی، سماجی اور عوامی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network