Connect with us

uttar pradesh

پرتاپ گڑھ میں مکان گرنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ہلاک، وزیر اعلیٰ کا اظہارِ غم

Published

on

(پی این این)
پرتاپ گڑھ:اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ میں ایک دردناک حادثہ پیش آیا، جہاں نگر کوتوالی مہولی علاقہ میں ایک خستہ حال مکان اچانک بھربھرا کر منہدم ہو گیا۔ اس حادثہ میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ ایک نوجوان زخمی ہو گیا جسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثہ کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مکان تقریباً 100 سال قدیم تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتاپ گڑھ کے مہولی نہر کے قریب پرمود شریواستو اپنے پورے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں گزشتہ 2 دنوں سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بدھ کی شب بھی پورا خاندان ایک ہی کمرے میں سو رہا تھا کیونکہ اس میں اے سی لگا ہوا تھا۔ اسی دوران آدھی رات کو اچانک یہ مکان بھربھرا کر گر پڑا، جس سے خاندان کے تمام 7 افراد ملبہ میں دب گئے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق جمعرات کی علی الصبح تقریباً دو بجے پرمود شریواستو ولد کامتا پرساد کا بوسیدہ مکان اچانک گر گیا۔ حادثے میں پرمود شریواستو (60)، ان کی اہلیہ ریتا (55)، بیٹا نتن (25)، بہو مادھوری (23)، ایک سالہ مادھو اور 10 ماہ کے ادوک عرف بابو کی ملبے تلے دب کر موت ہو گئی، جبکہ پرمود کا بیٹا امن (28) محفوظ بچ گیا۔
مکان گرنے کی زور دار آواز سن کر آس پاس کے لوگ بڑی تعداد میں موقع پر جمع ہو گئے اور افرا تفری مچ گئی۔ لوگوں نے فوری طور پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ اس حادثے میں پرمود شریواستو، ان کی اہلیہ، بیٹا، بہو اور 2 بچوں کی ملبے تلے دب کر موت ہو گئی، جبکہ 28 سالہ بیٹا امن کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب رہا۔ اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سٹی سرکل آفیسر (سی او سٹی)، فائر بریگیڈ کی ٹیم اور پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور راحت و بچاؤ کے کام میں مصروف ہو گئی۔ ملبہ ہٹانے کے بعد سبھی کو میڈیکل کالج لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے 6 افراد کو مردہ قرار دے دیا۔ سی او سٹی آشوتوش مشرا نے بتایا کہ یہ تقریباً 100 سال پرانا خستہ حال مکان تھا۔ جس کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا، پورا خاندان اسی میں سو رہا تھا۔ رات تقریباً 2 بجے اچانک چھت گر گئی اور یہ حادثہ پیش آیا۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اس حادثے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے سوگوار اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے سینئر حکام کو موقع پر پہنچ کر راحت و بچاؤ کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے زخمیوں کے مناسب علاج کو یقینی بنانے اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے بھی احکامات صادر کیے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

جرائم پیشہ افراد پر قابو پانا پولیس کی اولین ترجیح

Published

on

دیوبند:دیوبند میں آنے والے نئے کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد قانونی نظم ونسق سے متعلق اپنا موقف واضح کیا اور جرائم پیشہ افراد کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ دیوبند میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس پوری سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کرے گی ۔
کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے کہا کہ دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جوا ،سٹہ ،نشہ خوری اور گئوکشی سمیت تمام مجرمانہ سرگرمیوں پر پولیس کی خصوصی نظر رہے گی ۔انہوں نے واضح کیا کہ قانون سے کھلواڑ کرنے یا جرائم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اصل مقصد علاقہ میں امن وامان قائم رکھنا ،حفاظتی انتظامات کو درست رکھنا اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے ۔
اسی لئے جرائم پیشہ افراد ،غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی جائے گی ۔اور ضرورت کے اعتبار سے کارروائی بھی کی جائے گی ،نیز کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے عوامی تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں ۔انہوں نے دیوبند کے باشندوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے گا اورقانونی اعتبار سے کارروائی کی جائے گی۔
،انہوں نے کہا عوام اور پولیس کے باہمی تعاون سے علاقہ میں مضبوط قانونی نظم ونسق قائم کیا جاسکتا ہے ،سندیپ بالیان کے اس سخت پیغام کے بعد جرائم پیشہ افراد میں افراتفری پیدا ہوگئی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں قبر کھود کر بچی کا لیا گیا ڈی این اے نمونہ

Published

on

دیوبند:اتراکھنڈ پولس کی ایک ٹیم منگل کو دوپہر 12 بجے سہارنپور پہنچی تاکہ ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی تحقیقات کی جاسکے۔ ڈاکٹروں کے ہمراہ ٹیم سڑک دودھلی کے علاقے میں گیس گودام کے قریب قبرستان پہنچی۔ ٹیسٹ کے لیے چھ ماہ کی بچی کی قبر سے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے۔ پولیس اور میڈیکل ٹیم کو دیکھ کر گاؤں والے اور کنبہ کے لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔ سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی تعینات تھے۔
سڑک دودھلی گیس گودام کے قریب رہنے والے انس ولد منورپر الزام ہے کہ اس نے اتراکھنڈ کے منگلور علاقے کی ایک نابالغ لڑکی کو سہارنپور لے جا کر اس کی عصمت دری کی۔ جب لڑکی کے گھر والوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ لڑکی کو واپس اپنے ساتھ لے گئے۔ انس کے اہل خانہ کے مطابق لڑکی کچھ وقت کے بعد انس کے پاس واپس آگئی۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی تقریباً دو سال قبل متعدد بار انس کے ساتھ گئی تھی۔ دونوں نے بعد میں شادی کر لی۔ دسمبر 2025 میں انس نے لڑکی کو طلاق دے دی۔ اس دوران اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگئی۔
لڑکی کے خاندان کی شکایت پر اتراکھنڈ پولیس نے ملزم انس کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پاکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تقریباً چار ماہ قبل پولیس نے اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔ اب تفتیش کے دوران اضافی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بچی کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network