تازہ ترین
بہار میں 15 لاکھ سے زائد سم کارڈ بند، کوئی اور کر رہا تھا استعمالگیاجی: ورک تنظیم نے لگایا مفت طبی کیمپ، 300 افراد کا علاجخانقاہ رحمانی میں مدارسِ اسلامیہ کنونشن کی تیاری کے لیے مشاورتی نشستارریہ پولیس کی2 بڑی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ اور 1734 گرام اسْمیک برآمد، 4افراد گرفتارشادی کے 10 ماہ بعد شوہر نے بیوی کوجلادیا زندہ2دنوں میں 5.59 لاکھ افرادنے جمع کئے فارم-6 , یوپی میں ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے چلائی گئی خصوصی مہم،چیف الیکشن آفیسرنے کی عوام کی ستائشکرکٹ میچ کے دوران مارپیٹ اور پتھر بازی،15 افراد گرفتار ، پولیس نے دونوں فریقوں کے زیرحراست افرادکو عدالت میں پیش کرنے کےبعدبھیجا جیلنظام تعلیم وتربیت کو بہتر بنائیں اربابِ مدارس ، اتحاد ویک جہتی کے ساتھ رہیںذمہ دارانِ مدارس ، برادرانِ وطن سے رکھیںخوش گوار اور برادرانہ تعلقات
Bihar

فلاحی منصوبوں کے نفاذ میں لاپروائی پرحکومت ناراض، پوری ریاست سے رپورٹ طلب،ہر سطح پراب اس کالیا جائے گا جائزہ

(پی این این)
پٹنہ:سمراٹ چودھری کی حکومت ’وزیر اعلیٰ علاقائی ترقیاتی منصوبہ‘ کو مؤثر طریقے سے نافذ نہ کیے جانے پر ناراض ہے۔ اب ریاستی حکومت نے وزیر اعلیٰ علاقائی ترقیاتی منصوبہ کے تحت پوری ریاست سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ متعدد منصوبوں کے نفاذ میں ہو رہی سست روی پر حکومت نے ناراضی کا اظہار کیا ہے اور اب اس کی گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا۔ محکمہ جاتی سطح پر گزشتہ کئی برسوں سے بڑی تعداد میں منصوبوں کے ادھورے پڑے رہنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے مطابق جنوری 2026 تک 17ویں اسمبلی (2021-22 سے 2025-26) کی مدت کے دوران اراکین اسمبلی اور اراکین قانون ساز کونسل کی سفارش پر منظور کیے گئے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص رقم میں سے 71.40 فیصد خرچ ہو چکی ہے۔ تقریباً 20 فیصد منظور شدہ منصوبے اب بھی مختلف مراحل میں زیرِ عمل ہیں۔
محکمہ جاتی ذرائع کے مطابق اب بھی کئی علاقوں میں آٹھ سال قبل منظور کی گئی رقم سے متعلق ترقیاتی کام مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ بھارت کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی مارچ 2023 کی رپورٹ میں بھی وزیر اعلیٰ علاقائی ترقیاتی منصوبہ کے نفاذ میں سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔ نمونے کی بنیاد پر جانچ کیے گئے 13 ڈویژنوں میں دستیاب کل فنڈ کا 28 سے 59 فیصد تک استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں پرسنل لیجر اکاؤنٹ میں غیر استعمال شدہ رقم باقی پڑی رہی۔
مالی سال 2023-24 سے ہر رکن اسمبلی کے لیے سالانہ مختص رقم میں اضافہ کیا گیا تھا، تاکہ ان کے حلقے میں ترقیاتی کام تیز رفتاری سے مکمل کیے جا سکیں۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں مجموعی طور پر 318 ارکان (243 اراکین اسمبلی اور 75 اراکین قانون ساز کونسل) ہیں، جو سالانہ 1272 کروڑ روپے کی ترقیاتی اسکیموں کی سفارش کر سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ علاقائی ترقیاتی منصوبہ کے تحت منتخب شہروں میں پٹنہ، گیا، مظفرپور، دربھنگہ، بھاگلپور، پورنیہ، چھپرا، سیوان، ساسارام، بیتیا، سیتامڑھی، مدھوبنی، سمستی پور، بیگوسرائے، نوادہ، اورنگ آباد، بانکا، سہرسہ، کھگڑیا، مونگیر، جموئی، لکھی سرائے سمیت کئی اہم شہری علاقے شامل ہیں۔

 

متعلقہ خبریں