(پی این این)
دربھنگہ: پستول کے ساتھ چار پہیہ گاڑی میں بیٹھ کر ویڈیو بنانے اور اسے انسٹاگرام پر وائرل کرنا چھ نوجوانوں کو مہنگا پڑ گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سنگھواڑہ تھانہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مار کر چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے 49.755 لیٹر غیر ملکی شراب، ایک دیسی کٹا، چھ موبائل فون، ایک سوئفٹ ڈیزائر کار، ایک موٹر سائیکل اور ایک سائیکل برآمد کی ہے۔ معاملے میں ایک ملزم فرار بتایا گیا ہے۔
منگل کو سنگھواڑہ تھانہ احاطے میں پریس کانفرنس کے دوران ایس ڈی پی او صدر-2 کمتول شبھندر کمار سمن نے بتایا کہ ’مونسٹر یوگ‘ نامی انسٹاگرام آئی ڈی سے پستول کے ساتھ بنائی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو پولیس کے علم میں آنے کے بعد تھانہ انچارج بسنت کمار نے اعلیٰ افسران کو اطلاع دی۔ افسران کی ہدایت پر پولیس ٹیم تشکیل دے کر ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کا عمل شروع کیا گیا۔
ایس ڈی پی او کے مطابق مقامی معتبر افراد، خفیہ ذرائع اور چوکیدار کی مدد سے ویڈیو میں ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے شخص کی شناخت نگر پنچایت بھرواڑہ کے اشوک یادو کے بیٹے منیش کمار یادو کے طور پر ہوئی۔ اس کے بغل والی سیٹ پر بیٹھے شخص کی شناخت سنہ پور کے رام کمار ساہ کے 19 سالہ بیٹے یوگیش کمار عرف لڈو، جبکہ درمیان والی سیٹ پر بیٹھے شخص کی شناخت سنہ پور کے سندر ساہ کے بیٹے ببن کمار کے طور پر کی گئی۔ تینوں سنگھواڑہ تھانہ علاقے کے رہنے والے بتائے گئے ہیں۔
پولیس نے تینوں کے بارے میں خفیہ معلومات اکٹھی کیں۔ اسی دوران اطلاع ملی کہ تینوں سنہ پور واقع گوپال داس عرف منتری جی کی گاچھی میں رہتے ہیں اور وہیں سے مبینہ طور پر غیر قانونی شراب کا کاروبار چلاتے ہیں۔ اطلاع کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے سادہ لباس اور وردی میں گاچھی میں چھاپہ مارا، جہاں سے تین نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک دیسی کٹا بھی برآمد کیا گیا۔پوچھ گچھ کے دوران منیش کمار یادو نے پولیس کو بتایا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سوئفٹ ڈیزائر کار اسی کی ہے۔ پولیس نے اس کے قبضے سے رجسٹریشن نمبر BR01FF-7383 والی کار برآمد کرلی۔ ویڈیو میں دکھائے گئے ہتھیار کے بارے میں اس نے پولیس کو بتایا کہ مذکورہ ہتھیار مظفرپور ضلع کے ججوار تھانہ علاقے کے لکھن پور گاؤں کے رہنے والے پروین کمار ٹھاکر کے پاس رکھا گیا تھا۔
اس اطلاع کے بعد پولیس ٹیم نے پروین کمار ٹھاکر کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے پہنچنے کی اطلاع ملنے پر اس کے مبینہ طور پر ہتھیار تالاب میں پھینکنے کی بات سامنے آئی۔ اس کے بعد غوطہ خوروں کی مدد سے تالاب میں ہتھیار کی تلاش کرائی گئی، تاہم ویڈیو میں دکھایا گیا ہتھیار برآمد نہیں ہو سکا۔ایس ڈی پی او نے بتایا کہ گرفتار منیش کمار یادو اور یوگیش کمار عرف لڈو سے پوچھ گچھ کے دوران شراب کی مبینہ سپلائی سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں نے بتایا کہ وہ پروین کمار ٹھاکر اور گوردیو بھگت سے غیر ملکی شراب لاکر اس کی سپلائی کرتے تھے۔ پولیس اب اس مبینہ شراب نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں 19 سالہ یوگیش کمار عرف لڈو، 18 سالہ روہت کمار، منیش کمار یادو، 17 سالہ ایک نابالغ، 43 سالہ پروین کمار ٹھاکر اور ببن کمار شامل ہیں۔ معاملے میں گوردیو بھگت فرار بتایا گیا ہے۔ پولیس اس کی گرفتاری کے لیے ممکنہ ٹھکانوں پر مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
ایس ڈی پی او شبھندر کمار سمن نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہتھیار کی نمائش کرتے ہوئے ویڈیو بنانا اور اسے وائرل کرنا سنگین معاملہ ہے۔ پولیس ایسے معاملات میں ملوث افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت قانونی کارروائی کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی شراب کے کاروبار سے وابستہ نیٹ ورک کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔چھاپہ مار ٹیم میں سنگھواڑہ تھانہ انچارج بسنت کمار، داروغہ نلیش کمار، سریندر کمار سنگھ، کملیش کمار مشرا، شنبھو کمار سنگھ، سنجے کمار سمیت تھانہ ریزرو فورس کے جوان شامل تھے۔
