uttar pradesh
اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کا مدارس سے متعلق مبینہ بیان سماجی ہم آہنگی کی عظیم وراثت کی توہین : نظام الدین خان
(پی این این)
لکھنؤ:سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اتر پردیش کے ریاستی صدر نظام الدین خان نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے مدارس سے متعلق مبینہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ “جہاں بھی مدرسہ ہے، وہاں دہشت گردی پیدا ہوتی ہے”، کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
لکھنؤ میں واقع پارٹی کے ریاستی دفتر سے جاری ایک پریس ریلیز میں ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر نے کہا کہ اس طرح کا بیانات نہ صرف ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے کروڑوں شہریوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی شاندار تاریخ کی بھی توہین ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مدارس اور علمائے کرام نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ 1857 کی جنگِ آزادی سے لے کر ملک گیر تحریکِ آزادی تک، بے شمار مدارس نے ایسے مجاہدینِ آزادی کی تربیت اور رہنمائی کی جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کی۔ بالخصوص دارالعلوم دیوبند اور دیگر کئی اسلامی تعلیمی اداروں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔
نظام الدین خان نے مزید کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے یا پورے ایک طبقے کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے نفرت، بداعتمادی اور سماجی تفریق کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اس قسم کے بیانات ہندوستان کے آئین میں درج مساوات، سیکولرزم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی جیسے آئینی اقدار کے سراسر منافی ہیں۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے عوامی بیانات میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ملک کے مشترکہ ورثے، آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کا احترام کریں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا ایک فطری حصہ ہے، لیکن ایسے بیانات سے ہر سطح پر گریز کیا جانا چاہیے جو معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دیں۔ایس ڈی پی آئی اتر پردیش کا پختہ یقین ہے کہ ہندوستان کا تنوع، اس کی گنگا-جمنی تہذیب اور مشترکہ ثقافتی ورثہ ملک کی سب سے بڑی طاقتوں میں شامل ہیں۔ ان اقدار اور اس عظیم ورثے کا تحفظ اور فروغ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
uttar pradesh
پیپر لیک جیسے سنگین مسائل پر بحث سے گھبرا رہی بی جے پی،راہل گاندھی کے پریاگ راج میں طلبہ کے ساتھ بات چیت پروگرام کے لیے منتخب گراؤنڈ کی بکنگ منسوخ، کانگریس نے لگایا سازش کا الزام
(پی این این)
پریاگ راج:اتر پردیش کے پریاگ راج میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے مجوزہ طالب علم مکالمہ پروگرام سے پہلے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے 8 اگست کو منعقد ہونے والے پروگرام کے لیے بک کیا گیا کے پی گراؤنڈ (کایستھ پاٹھ شالہ ٹرسٹ) کی اجازت ٹرسٹ نے اچانک منسوخ کر دی ہے اس کے بعد کانگریس لیڈران میں ہلچل تیز ہو گئی ہے اور پارٹی کی قانونی ٹیم اس معاملے میں متحرک ہو گئی ہے۔
کایستھ پاٹھ شالہ (کے پی) ٹرسٹ کے قائم مقام صدر چودھری جتیندر ناتھ سنگھ نے بدھ کی دیر رات شہر کانگریس کمیٹی کو خط جاری کر کے پہلے دی گئی اجازت واپس لینے کی اطلاع دی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ پروگرام سے ٹرسٹ سے وابستہ دو اسکولوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور طلبہ کی پڑھائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسلسل بارش کے باعث میدان کی حالت خراب ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں میں کسی قسم کا خلل نہیں پڑنا چاہیے۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں اعتراض درج کرایا گیا تھا۔ ٹرسٹ نے تجویز دی ہے کہ پروگرام کو بارش کے بعد یا اسکولوں کی تعطیلات کے دوران منعقد کیا جائے۔ خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میدان کی صفائی اور لیولنگ کے لیے کانگریس کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم چیک کے ذریعے واپس کر دی جائے گی۔ خط کی کاپی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، کایستھ پاٹھ شالہ کے جنرل سکریٹری، چودھری نونیہال سنگھ اکیڈمی اور ٹرسٹ کے اکاؤنٹنٹ کو بھی بھیجی گئی ہے۔
دوسری طرف، پروگرام کی تیاریاں آخری مرحلے میں تھیں اور پنڈال کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا تھا۔ بکنگ منسوخ ہونے کے بعد کانگریس کی مرکزی لیگل ٹیم پریاگ راج پہنچ گئی ہے اور ٹرسٹ کے عہدیداروں اور انتظامی حکام سے بات چیت کر رہی ہے۔کانگریس کے مطابق راہل گاندھی 8 اگست کو شام پانچ بجے پریاگ راج میں تقریباً تین لاکھ طلبہ کے ساتھ گفتگو کرنے والے ہیں۔ یہ پروگرام’چھاتروں کی گونج‘ مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت پیپر لیک، مہنگی تعلیم، بھرتی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بے روزگاری جیسے مسائل پر نوجوانوں سے براہ راست گفتگو کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ایسے پروگرام 17 جون کو راجستھان کے کوٹا اور 17 جولائی کو اتراکھنڈ کے دہرا دون میں منعقد کیے جا چکے ہیں۔
اس دوران اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے اجازت منسوخ کیے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید حملہ بولا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی سیاسی سازش کے تحت راہل گاندھی کے پروگراموں میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اجے رائے نے کہا کہ پہلے بھی راہل گاندھی کے طالب علم مکالمہ پروگراموں میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب پریاگ راج میں بھی وہی کوشش کی جا رہی ہے۔مسٹر رائے نے بتایا کہ پریاگ راج کے کے پی گراؤنڈ میں 8 اگست کو شام 5 بجے ہونے والے مجوزہ پروگرام کے لیے پہلے ہی اجازت مل چکی تھی، لیکن اب پروگرام کے مقام کا انتظام کرنے والے ٹرسٹ پر اجازت منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی طلبہ کے مستقبل اور پیپر لیک جیسے سنگین مسائل پر بحث سے گھبرا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا دورہ پریاگ راج ہر حال میں ہوگا۔ اگر انتظامیہ یا متعلقہ ادارے اجازت نہیں دیتے ہیں تب بھی کانگریس متبادل مقام یا ضرورت پڑنے پر سڑک پر پروگرام منعقد کرے گی، لیکن راہل گاندھی 8 اگست کو پریاگ راج ضرور آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام ملک بھر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کوٹا میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پریاگ راج میں راہل گاندھی طلبہ، خاص طور پر اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند نوجوان طلبہ و طالبات سے بات چیت کریں گے۔
uttar pradesh
پرتاپ گڑھ میں مکان گرنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ہلاک، وزیر اعلیٰ کا اظہارِ غم
(پی این این)
پرتاپ گڑھ:اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ میں ایک دردناک حادثہ پیش آیا، جہاں نگر کوتوالی مہولی علاقہ میں ایک خستہ حال مکان اچانک بھربھرا کر منہدم ہو گیا۔ اس حادثہ میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ ایک نوجوان زخمی ہو گیا جسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثہ کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مکان تقریباً 100 سال قدیم تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتاپ گڑھ کے مہولی نہر کے قریب پرمود شریواستو اپنے پورے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں گزشتہ 2 دنوں سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بدھ کی شب بھی پورا خاندان ایک ہی کمرے میں سو رہا تھا کیونکہ اس میں اے سی لگا ہوا تھا۔ اسی دوران آدھی رات کو اچانک یہ مکان بھربھرا کر گر پڑا، جس سے خاندان کے تمام 7 افراد ملبہ میں دب گئے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق جمعرات کی علی الصبح تقریباً دو بجے پرمود شریواستو ولد کامتا پرساد کا بوسیدہ مکان اچانک گر گیا۔ حادثے میں پرمود شریواستو (60)، ان کی اہلیہ ریتا (55)، بیٹا نتن (25)، بہو مادھوری (23)، ایک سالہ مادھو اور 10 ماہ کے ادوک عرف بابو کی ملبے تلے دب کر موت ہو گئی، جبکہ پرمود کا بیٹا امن (28) محفوظ بچ گیا۔
مکان گرنے کی زور دار آواز سن کر آس پاس کے لوگ بڑی تعداد میں موقع پر جمع ہو گئے اور افرا تفری مچ گئی۔ لوگوں نے فوری طور پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ اس حادثے میں پرمود شریواستو، ان کی اہلیہ، بیٹا، بہو اور 2 بچوں کی ملبے تلے دب کر موت ہو گئی، جبکہ 28 سالہ بیٹا امن کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب رہا۔ اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سٹی سرکل آفیسر (سی او سٹی)، فائر بریگیڈ کی ٹیم اور پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور راحت و بچاؤ کے کام میں مصروف ہو گئی۔ ملبہ ہٹانے کے بعد سبھی کو میڈیکل کالج لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے 6 افراد کو مردہ قرار دے دیا۔ سی او سٹی آشوتوش مشرا نے بتایا کہ یہ تقریباً 100 سال پرانا خستہ حال مکان تھا۔ جس کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا، پورا خاندان اسی میں سو رہا تھا۔ رات تقریباً 2 بجے اچانک چھت گر گئی اور یہ حادثہ پیش آیا۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اس حادثے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے سوگوار اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے سینئر حکام کو موقع پر پہنچ کر راحت و بچاؤ کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے زخمیوں کے مناسب علاج کو یقینی بنانے اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے بھی احکامات صادر کیے ہیں۔
uttar pradesh
مرزا شارق کے کارناموں سے لکھنؤ اور لاہر پور کا نام ہواروشن: رضوان فاروقی
(پی این این)
لکھنؤ: بزم احساس ادب کے حساس دل شعراء نے حسب سابق بہاریہ مشاعرے کا اہتمام کیا ‘کاشانہ شارق، مشعلچی ٹولہ کھدرہ، شعراء کی واہ واہ سے گونج اٹھا۔ بارش کے سبب شعراء کی تعداد ومقدرے کم مگر اشعار خوب خوب سننے میں ائے۔ نظامت رضوان احمد فاروقی اور صدارت استادالشعراء مرزا شارق لاہر پوری نے کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر زبیر انصاری رہے ۔
اس موقع پر ڈاکٹر زبیر انصاری نے کہا’’ وقت اور تاریخ کے تعین سے جو لوگ مشاعروں کا اہتمام و انصرام کرتے ہیں وہ بہت اہم ہیں۔ ان کی خدمات ہر جگہ ہر محفل میں نمایاں رہنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں ان خادمان ادب کی دل سے قدر کرنا چاہئے۔
رضوان احمد فاروقی کے مطابق تعمیری ذہن رکھنے والے مشاق و زور گو شاعر ہیں مرزا شارق’ خدمت ادب کے جذبے سے سرشار ہیں‘ ۔انھوں نے لکھنؤ اور لاہر پور کے نام کو روشن رکھا ہے۔ حمدیہ دیوان کے حوالے سے وہ ممتاز و منفرد ہیں۔ مرزا شارق لاہر پوری نے کہا۔ جو پروگرام ہر ماہ ہوتے ہیں ان میں ترجیحی بنیاد پر شرکت کرنا چاہئے۔منتخب کلام درج ذیل ہے:
میرے بیٹے کوئی ساعت ہو خوشی کی غم کی
موت کے بعد کے عالم پہ ترا دھیان رہے
مرزا شارق لاہر پوری
یاد کرو تم پیار کی وہ رنگیں باتیں
میرا بازو اپنا تکیہ بھول گئے
عرفان لکھنوی
کچھ لوگ سر بچاکے یہاں خوش ہوئے بہت
کچھ لوگ سر کٹاکے وہاں سرخرو ہوئے
رضوان احمد فاروقی
محبت کی ڈگر پر چل کے دیکھا
مرا ہی نقش پا ہے اور میں ہوں
ڈاکٹر زبیر انصاری
غم ہزاروں ہوں پھر بھی اے اکرم
تجھ کو ہنسنا ہے مسکرانا ہے
افروز اکرم
تیری باتوں میں جھوٹ اتنا ہے
سچ کو یارو جگہ نہیں ملتی
نیر بسوانی
مذکورہ شعراء کے علاوہ ماجد نثار آشتی، رضوان بسوانی، محمد رفیق، محمد خلیق، محمد وثیق اور ابوبکر مشاعرے کا حصہ رہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
