تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
uttar pradesh

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کا مدارس سے متعلق مبینہ بیان سماجی ہم آہنگی کی عظیم وراثت کی توہین : نظام الدین خان

(پی این این)
لکھنؤ:سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اتر پردیش کے ریاستی صدر نظام الدین خان نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے مدارس سے متعلق مبینہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ “جہاں بھی مدرسہ ہے، وہاں دہشت گردی پیدا ہوتی ہے”، کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
لکھنؤ میں واقع پارٹی کے ریاستی دفتر سے جاری ایک پریس ریلیز میں ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر نے کہا کہ اس طرح کا بیانات نہ صرف ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے کروڑوں شہریوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی شاندار تاریخ کی بھی توہین ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مدارس اور علمائے کرام نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ 1857 کی جنگِ آزادی سے لے کر ملک گیر تحریکِ آزادی تک، بے شمار مدارس نے ایسے مجاہدینِ آزادی کی تربیت اور رہنمائی کی جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کی۔ بالخصوص دارالعلوم دیوبند اور دیگر کئی اسلامی تعلیمی اداروں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔
نظام الدین خان نے مزید کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے یا پورے ایک طبقے کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے نفرت، بداعتمادی اور سماجی تفریق کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اس قسم کے بیانات ہندوستان کے آئین میں درج مساوات، سیکولرزم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی جیسے آئینی اقدار کے سراسر منافی ہیں۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے عوامی بیانات میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ملک کے مشترکہ ورثے، آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کا احترام کریں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا ایک فطری حصہ ہے، لیکن ایسے بیانات سے ہر سطح پر گریز کیا جانا چاہیے جو معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دیں۔ایس ڈی پی آئی اتر پردیش کا پختہ یقین ہے کہ ہندوستان کا تنوع، اس کی گنگا-جمنی تہذیب اور مشترکہ ثقافتی ورثہ ملک کی سب سے بڑی طاقتوں میں شامل ہیں۔ ان اقدار اور اس عظیم ورثے کا تحفظ اور فروغ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔