تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
uttar pradesh

مرزا شارق کے کارناموں سے لکھنؤ اور لاہر پور کا نام ہواروشن: رضوان فاروقی

(پی این این)
لکھنؤ: بزم احساس ادب کے حساس دل شعراء نے حسب سابق بہاریہ مشاعرے کا اہتمام کیا ‘کاشانہ شارق، مشعلچی ٹولہ کھدرہ، شعراء کی واہ واہ سے گونج اٹھا۔ بارش کے سبب شعراء کی تعداد ومقدرے کم مگر اشعار خوب خوب سننے میں ائے۔ نظامت رضوان احمد فاروقی اور صدارت استادالشعراء مرزا شارق لاہر پوری نے کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر زبیر انصاری رہے ۔
اس موقع پر ڈاکٹر زبیر انصاری نے کہا’’ وقت اور تاریخ کے تعین سے جو لوگ مشاعروں کا اہتمام و انصرام کرتے ہیں وہ بہت اہم ہیں۔ ان کی خدمات ہر جگہ ہر محفل میں نمایاں رہنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں ان خادمان ادب کی دل سے قدر کرنا چاہئے۔
رضوان احمد فاروقی کے مطابق تعمیری ذہن رکھنے والے مشاق و زور گو شاعر ہیں مرزا شارق’ خدمت ادب کے جذبے سے سرشار ہیں‘ ۔انھوں نے لکھنؤ اور لاہر پور کے نام کو روشن رکھا ہے۔ حمدیہ دیوان کے حوالے سے وہ ممتاز و منفرد ہیں۔ مرزا شارق لاہر پوری نے کہا۔ جو پروگرام ہر ماہ ہوتے ہیں ان میں ترجیحی بنیاد پر شرکت کرنا چاہئے۔منتخب کلام درج ذیل ہے:
میرے بیٹے کوئی ساعت ہو خوشی کی غم کی
موت کے بعد کے عالم پہ ترا دھیان رہے
مرزا شارق لاہر پوری
یاد کرو تم پیار کی وہ رنگیں باتیں
میرا بازو اپنا تکیہ بھول گئے
عرفان لکھنوی
کچھ لوگ سر بچاکے یہاں خوش ہوئے بہت
کچھ لوگ سر کٹاکے وہاں سرخرو ہوئے
رضوان احمد فاروقی
محبت کی ڈگر پر چل کے دیکھا
مرا ہی نقش پا ہے اور میں ہوں
ڈاکٹر زبیر انصاری
غم ہزاروں ہوں پھر بھی اے اکرم
تجھ کو ہنسنا ہے مسکرانا ہے
افروز اکرم
تیری باتوں میں جھوٹ اتنا ہے
سچ کو یارو جگہ نہیں ملتی
نیر بسوانی
مذکورہ شعراء کے علاوہ ماجد نثار آشتی، رضوان بسوانی، محمد رفیق، محمد خلیق، محمد وثیق اور ابوبکر مشاعرے کا حصہ رہے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔