Connect with us

Bihar

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ترقی کا سب سے بڑا وسیلہ،اے آئی سے بہار کے ارکانِ اسمبلی اورقانون ساز کونسلروں کی استعداد کار ہوگا میں اضافہ: سمراٹ چوہدری

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چوہدری نے جمعرات کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بہار کے ارکانِ اسمبلی اور قانون ساز کونسلرز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ مسٹرچوہدری نے آج بہار مقننہ کے ارکان کے لیے اے آئی کو حساس بنانے اور چیف منسٹر ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم کے نفاذ کے سلسلے میں منعقدہ تربیتی پروگرام میں شرکت کی۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے توسیعی ایوان میں منعقدہ پروگرام کا مسٹرچوہدری نے شمع روشن کر کے باضابطہ افتتاح کیا۔
پروگرام کے دوران انہوں نے چیف منسٹر ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت پروجیکٹ مانیٹرنگ سسٹم ویب پورٹل کا ریموٹ کے ذریعے افتتاح کیا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرچوہدری نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20-25 سال قبل کمپیوٹر کا استعمال محدود تھا، لیکن آج مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حکومت، انتظامیہ اور ترقی کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ تمام وزراء، ارکانِ اسمبلی اور قانون ساز کونسلر ان ٹیکنالوجیز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ عوام سے بہتر رابطہ قائم ہو سکے اور علاقے کی مناسب ترقی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیموں کے تخمینے (ایسٹیمیٹ) تیار کرنے میں بھی اے آئی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے ایک تخمینے کی مصنوعی ذہانت سے جانچ کرنے پر 5 سے 7 فیصد تک لاگت میں بچت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچائی گئی رقم کا استعمال دیگر ترقیاتی کاموں میں کیا جا سکتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں اگر ہم اے آئی کا استعمال نہیں کریں گے تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں سہیوگ پروگرام کے انعقاد اور ایک کروڑ مستحق افراد کو راشن کارڈ فراہم کرنے کے عمل میں ریاستی حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہار میں کسانوں کا ڈیجیٹل سروے کرایا جا رہا ہے اور 60 لاکھ کسانوں کو ڈیجیٹل آئی ڈی سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عوامی نمائندوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا استعمال کر کے اسکیموں کے مؤثر نفاذ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
اسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم دی جا رہی ہے، لیکن ڈیجیٹل دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مظفر پور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کمپیوٹر سائنس یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے۔مسٹر چوہدری نے کہا کہ تمام وزراء، ارکانِ اسمبلی اور قانون ساز کونسلرز کے ساتھ ساتھ ان کے معاونین کو بھی وقت وقت پر مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کے استعمال کی تربیت دی جانی چاہیے، تاکہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مسلسل باخبر رہ سکیں اور عوام کی بہتر خدمت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی تمام پنچائتوں میں موسمی مراکز فعال ہیں اور موسم کی پیشگوئی 70 سے 80 فیصد تک درست ثابت ہو رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی زراعت اور دیہی ترقی کے لیے انتہائی مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار جمہوریت کی ماں ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جمہوری نظام کو مزید طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔
پروگرام میں بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے وزیراعلیٰ کا پھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کر کے استقبال کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ بجیندر پرساد یادو، بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ، بہار اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نریندر نارائن یادو، بہار حکومت کے وزراء، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر این وجئے لکشمی، وزیراعلیٰ کے سکریٹری سنجے کمار سنگھ سمیت دیگر سینئر حکام اور بہار مقننہ کے ملازمین موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

کانگریس کارکنوں نے راجیش رام اور سشیل پاسی کا بن کیا استقبال

Published

on

چھپرہ :بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش رام اور اے آئی سی سی کے سکریٹری انچارج سشیل پاسی کا سارن ضلع کانگریس کمیٹی نے میتھولیا چوک کے قریب شاندار استقبال کیا۔وہ چھپرہ کے راستے پٹنہ سے سیوان جا رہے تھے۔ضلع صدر ڈاکٹر شنکر چودھری کی قیادت میں درجنوں لیڈروں اور کارکنوں نے دونوں رہنماؤں کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا۔
استقبال کے دوران کانگریس کارکنوں نے کانگریس پارٹی زندہ باد، راہل گاندھی زندہ باد، اور قومی صدر ملیکارجن کھرگے زندہ باد جیسے نعرے لگائے۔استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شنکر نے کہا کہ ریاستی کانگریس کی نئی قیادت نے تنظیم میں نئی توانائی اور ولولہ پیدا کیا ہے۔انہوں نے پارٹی کو بوتھ سطح پر مضبوط کرنے اور عوامی مسائل کو مضبوطی سے حل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس نے غریبوں،کسانوں، مزدوروں، طلباء، نوجوانوں،خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق اور وقار کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔کارکنوں کو جمہوری اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے ۔
اس موقع پر رام سوروپ رائے،سنیل سنگھ،عبدالقادر خان، کملیش کمار پاٹھک ،کنہیا کمار مشرا،ملک پرساد یادو،فیروز اقبال،ہریش یادو ، یاسین آزاد،تارکیشور رام،کمار وشال سنگھ ،اتل کمار،دھرمیندر کمار دھرم،گوتم پرساد،اجمل عالم،دلشیر،گولڈن خان اور نتیش کمار وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

دن دہاڑے اسلحہ کے زور پر کریانہ تاجر سے 2.10 لاکھ کی لوٹ

Published

on

موہن پور (گیا): گیا میں دن دہاڑے مسلح بدمعاشوں نے پولیس کی گشت اور حفاظتی انتظامات کو چیلنج کرتے ہوئے کریانہ تاجر سے 2 لاکھ 10 ہزار روپے لوٹ لئے۔ واردات موہن پور تھانہ علاقہ میں اِٹوا بازار اور گنیش چک کے درمیان پیش آئی۔ بریزا کار پر سوار چار پانچ بدمعاشوں نے پہلے تاجر کی پک اَپ گاڑی کا پیچھا کیا، پھر گنیش چک کے قریب اوورٹیک کر کے راستہ روک دیا۔ اس کے بعد اسلحہ کے زور پر تاجر اور ڈرائیور کو قابو میں کیا، مارپیٹ کی اور نقد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔
معلومات کے مطابق کریانہ تاجر جے رام کیسری دکان کے سامان کی خریداری کے لئے پک اَپ گاڑی سے گیا جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ڈرائیور شنکر پاسوان بھی تھا۔ اِٹوا بازار سے نکلتے ہی ایک بریزا کار نے ان کی گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا۔ کچھ دور تک پیچھا کرنے کے بعد گنیش چک کے قریب کار سوار بدمعاشوں نے پک اَپ کو اوورٹیک کیا اور گاڑی کے سامنے کار کھڑی کر کے راستہ روک دیا۔
گاڑی رکتے ہی چار پانچ بدمعاش بریزا سے اترے اور تاجر و ڈرائیور کو گھیر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بدمعاشوں میں سے کچھ کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے۔ اسلحہ کا خوف دکھا کر دونوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور ان کے پاس موجود 2 لاکھ 10 ہزار روپے نقد چھین لئے گئے۔ واردات کے بعد بدمعاش بریزا کار میں سوار ہوئے اور فرار ہوگئے۔
لوٹ کی اطلاع ملتے ہی موہن پور تھانہ انچارج اجیت کمار پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے تاجر اور ڈرائیور سے پوچھ گچھ کر بدمعاشوں کے حلیے، گاڑی اور فرار کی سمت کی معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپہ ماری شروع کر دی گئی۔ مختلف راستوں پر گاڑیوں کی چیکنگ بھی کرائی جا رہی ہے۔

واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بودھ گیا ایس ڈی پی او مدھو کماری بھی موقع پر پہنچیں۔ انہوں نے تاجر اور ڈرائیور سے واقعہ کی تفصیلات حاصل کیں اور پولیس افسران کو بدمعاشوں کی گرفتاری کے لئے ضروری ہدایات دیں۔ پولیس بریزا کار اور اس میں سوار بدمعاشوں کی شناخت میں مصروف ہے۔

موہن پور تھانہ انچارج اجیت کمار نے بتایا کہ تاجر سے لوٹ کی واردات ہوئی ہے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔ جلد ہی واردات کا انکشاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جس انداز میں بدمعاشوں نے پہلے تاجر کی گاڑی کا پیچھا کیا، پھر گنیش چک کے قریب اوورٹیک کر کے راستہ روکا اور اسلحہ کے زور پر نقد رقم لوٹ لی، اس سے پولیس کو ریکی کے بعد واردات کئے جانے کا شبہ ہے۔ تاجر کی نقل و حرکت اور اس کے پاس نقد رقم ہونے کی اطلاع بدمعاشوں تک کیسے پہنچی، پولیس اس پہلو کی بھی چھان بین کر رہی ہے۔

Continue Reading

Bihar

ٹرین کے اے سی کوچ سے نوجوان لڑکی 15.8 کلو گاگانجے کے ساتھ گرفتار

Published

on

(پی این این)
گیا جی: ٹرین میں سفر، اے سی-2 کوچ اور بیگ میں 15 کلو 800 گرام گانجا! گیا جنکشن پر پیر کی رات منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے معاملے نے ریلوے پولیس کو چونکا دیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گانجے کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ برآمد گانجے کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ بھونیشور تیجس راجدھانی ایکسپریس کے اے سی-2 ٹائر کوچ میں مشتبہ انداز میں سفر کر رہی لڑکی پر خفیہ اطلاع کے بعد آر پی ایف، سی آئی بی اور جی آر پی کی مشترکہ ٹیم کی نظر پڑی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ سے گانجے کی بھاری مقدار برآمد ہوتے ہی ٹرین میں ہلچل مچ گئی۔ پولیس نے گانجا ضبط کرکے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
آر پی ایف انسپکٹر بنارسی یادو کے مطابق گرفتار لڑکی جھاج پور سے نئی دہلی جا رہی تھی اور وہ گیا کی رہنے والی بتائی گئی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ 15.8 کلو گانجا کہاں سے آیا؟ کس نے دیا؟ دہلی میں کس کے حوالے ہونا تھا؟ اور اس پوری کھیپ کے پیچھے کون ہے؟ریلوے پولیس ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ گرفتار لڑکی سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس گرفتاری نے منشیات اسمگلنگ کے بدلتے انداز پر بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا اسمگلر اب عام کوچوں کے بجائے اے سی کوچ کو محفوظ راستہ سمجھنے لگے ہیں؟ کیا خواتین اور لڑکیوں کو پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے کوریئر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ گیا کی اس کارروائی نے ان سوالات کو مزید گہرا کردیا ہے۔حالیہ دنوں میں پٹنہ اور سمستی پور میں خواتین کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ سمستی پور میں اے سی فرسٹ کلاس سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک لڑکی اور اس کے بہنوئی کی گرفتاری، جبکہ پٹنہ جنکشن پر ایک طالبہ کے شراب کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد اب گیا میں لڑکی کے ذریعے گانجے کی اتنی بڑی کھیپ پکڑے جانے سے خواتین کو ’کوریئر‘ بنانے کے ممکنہ رجحان پر تفتیشی ایجنسیوں کی نظر ٹک گئی ہے۔
15.8 کلو گانجا برآمد ہونا محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سپلائی چین کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ ریلوے پولیس اب یہ جاننے میں مصروف ہے کہ اس کھیپ کا اصل سپلائر کون تھا، اسے کس نے لڑکی کے حوالے کیا اور دہلی میں اسے کس کے حوالے کیا جانا تھا۔گیا جنکشن پر سات لاکھ روپے کی گانجے کی کھیپ کے ساتھ لڑکی کی گرفتاری نے ریلوے میں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے راستوں، اے سی کوچ کے ممکنہ استعمال اور خواتین کو کوریئر بنائے جانے کے خدشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network