Connect with us

uttar pradesh

سہارنپور کے کانوڑ سیوا کیمپ میں پہنچے عمران مسعود، ہندو- مسلم بھائی چارے کی پیش کی شاندار روایت

Published

on

(پی این این)
سہارنپور: سہارنپور میں مختلف مقامات پرکانوڑ سیوا کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ ساون کے مہینے میں ہریدوار سے گنگا کا پانی لے کر اپنی منزلوں کی طرف جانے والے شیو عقیدت مندوں کی خدمت کی جا سکے۔ یہ کیمپ عقیدت مندوں کے لیے کھانا، ٹھنڈا پانی، طبی دیکھ بھال، آرام اور دیگر ضروری سہولیات مہیا کرتے ہیں۔
ہفتہ کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کنور سیوا کیمپ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر شیو بھکتوں کی خدمت کی، انہیں تازگی اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔ کانوڑ سیوا کیمپ میں مقامی باشندوں، سماجی کارکنوں اور کانگریس کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔آنے والے کانوڑیوں کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیا گیا اور حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایم پی عمران مسعود نے شیو بھکتوں سے ملاقات کی، ان کے سفر کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔اس موقع پر ایم پی عمران مسعود نے کہا کہ سہارنپور کی سب سے بڑی پہچان اس کی گنگا جمنی ثقافت اور آپسی بھائی چارہ ہے۔ یہاں کے تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں اور مذہبی تقریبات میں جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنور یاترا کے دوران سروس کیمپوں کا دورہ کرنا، شیو بھکتوں کا خیرمقدم کرنا اور ان کی خدمت کرنا ایک دیرینہ روایت کا حصہ ہے جس پر سب مل کر عمل کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہریدوار سے گنگا کا پانی لے جانے والے ہزاروں عقیدت مند اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے لمبی دوری کا سفر کرتے ہیں۔ انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے چلچلاتی دھوپ، گرمی اور تھکاوٹ۔ ایسے میں معاشرے کے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی ہر ممکن مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ خدمت کا جذبہ کسی مذہب یا ذات سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسانیت اور سماجی ذمہ داری کی علامت ہے۔

uttar pradesh

دیوبند: بجلی کٹوتی سے ناراض گائوں والوں نے10 گھنٹے تک رکھا سڑک کو جام

Published

on

(پی این این)
دیوبند:غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی سے ناراض بھائیلہ گائوں کے باشندوں نے دیوبند ،نانوتہ روڑ پر احتجاج کرتے ہوئے 10؍ گھنٹے تک جام لگائے رکھا ۔جام لگنے کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اور راہگیروں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔افسران یقین دہانی کے بعد احتجاج کرنے والوں نے جام کھولا ۔
تفصیل کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 10؍ بجے سابق وزیر مملکت آنجہانی راجندر رانا کے بیٹے اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر کارتک رانا کی قیادت میں بڑی تعداد میں بھائیلہ گائوں کے باشندے سڑکوں پر اترآئے اور انہوں نے بجلی سپلائی کے نظام کو درست کئے جانے کے مطالبہ کو لے کر احتجاج کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی شروع کردی اور سڑک پر جام لگادیا ۔احتجاج کرنے والے گائوں کے باشندوں کا کہنا تھا کہ مسلسل ہونے والی غیر اعلانیہ بجلی کٹوٹی سے گائوں میں رہنے والے لوگوں کی روز مرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ شدید گرمی کے درمیان گھنٹوں تک بجلی غائب رہنے سے گائوں کے لوگوں میں پاور کارپوریشن اور حکومت کے خلاف سخت ناراضگی پیدا ہوگئی ہے ۔
جام لگائے جانے کی اطلاع ملتے ہی دیوبند کے سی او امت کمار اور کوتوالی انچارج کپل دیو پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے ان افسران نے جام لگانے والے اور احتجاج کرنے والے گائوں کے باشندوں کو سمجھا بجھاکر جام کھلوانے کی کوشش کی لیکن گائوں کے باشندے اپنے مطالبات پر بضد رہے ۔
دیر رات تک افسران اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان بات چیت چلتی رہی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ۔سنیچر کے روز صبح کے وقت بھی گائوں کے باشندے بڑی تعداد میں سڑکوں پر جام لگا کر بیٹھے رہے ۔تقریباً 7؍ بجے دیوبند کے سی او امت کمار دوبارہ موقع پر پہنچے اور جام لگانے والے بھائیلہ گائوں کے باشندوں سے انہوں نے بات چیت کی ۔اسی دوران سماجوادی پارٹی کے لیڈر کارتک رانا اور پولیس افسران کے بیچ کا فی تلخ کلامی اور نوک جھونک بھی ہوئی ۔
کارتک رانا نے کہا کہ عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے مسائل کو حل کیا جانا چاہئے ۔تقریباً 10؍ گھنٹوں تک چلنے والے اس ہائی وولٹیج ڈرامہ کے بعد صبح کو تقریباً9؍بجے افسران اور گائوں کے باشندوں کے درمیان جام کھولنے پر اتفاق ہوگیا ۔احتجاج کرنے والوں نے ایکس ،ای ،این انکت وششٹھ کو مطالبات پر مبنی ایک میمورنڈم بھی دیا اور ان کی جانب سے یقین دہانی کرائے جانے کے بعد جام کھول دیا گیا جس کے بعد سڑک پر آمد ورفت شروع ہوگئی ۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

امروہہ:قومی و ملی اتحاد کانفرنس میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کا پیغام

Published

on

(؍پی این این)
امروہہ:مسلم کمیٹی (رجسٹرڈ) امروہہ کے زیرِ اہتمام شہر کے خان ایم بی کمیونٹی ہال میں ایک عظیم الشان “قومی و ملی اتحاد کانفرنس” کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں تمام طبقات کے مابین باہمی اتحاد، رواداری اور سماجی بہتری کے لیے یکجہتی پر زور دیا گیا۔ پروگرام کی صدارت صدرِ کمیٹی اقبال احمد خان نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض کمیٹی کے ترجمان سالار غازی اور رومی شفاعت ایڈوکیٹ نے مشترکہ طور پر حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز مولانا سعد امروہوی کی تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد قاری مرزا انس امروہوی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔
کانفرنس میں بطورِ مہمانِ خصوصی امروہہ کے رکنِ اسمبلی و صدر پی اے سی (اتر پردیش) حاجی محبوب علی نے شرکت کی، جبکہ سابق ایم ایل سی و نوجوان رہنما پرویز علی بھی خصوصی طور پر موجود رہے۔ اپنے خطائب میں حاجی محبوب علی نے ملک و ملت کی ترقی کے لیے باہمی اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اس موقع پر اسٹیج پر سرپرست حاجی ناصر صدیقی، محمد آصف قریشی، سابق چیئرمین حاجی اقرار احمد انصاری، خورشید سیفی ایڈوکیٹ، ڈاکٹر جمشید کمال امروہوی، عادل عباسی، خورشید حیدر زیدی، ڈاکٹر چندن نقوی، ڈاکٹر نجم النبی اور علی امام رضوی ایڈوکیٹ،پروفیسر مہتاب علی سمیت متعدد جلیل القدر شخصیات نے آپسی اتحاد کے فروغ پر زور دیا۔
مختلف مقررین نے فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح اور یکجہتی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ محمد آصف قریشی نے اتحاد کو ترقی کی بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ نئ نسل کی تعلیمی بیداری اور سماجی مسائل کے حل کے لیے متحد ہونا لازمی ہے۔ ڈاکٹر جمشید کمال امروہوی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ نوخیز نسل کی اخلاقی تربیت، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داریوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انجمن رضاکارانِ حسینی کے جنرل سیکریٹری خورشید حیدر زیدی نے امروہہ کے تاریخی بھائی چارے اور مشترکہ ورثے کی حفاظت کو امن کی ضمانت قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر چندن نقوی نے تمام طبقات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر آ کر سماجی ہم آہنگی فروغ دینے کی اپیل کی۔
پروگرام کے اختتام پر صدرِ جلسہ اقبال احمد خان، کنوینر عارف ملک ایڈوکیٹ، رومی شفاعت ایڈوکیٹ اور ڈاکٹر نجم النبی نے تمام مہمانانِ گرامی اور حاضرین کا پرخلوص شکریہ ادا کیا۔ اپنے صدارتی کلمات میں اقبال احمد خان نے اعادہ کیا کہ قومی و ملی اتحاد کو استحکام بخشنا مسلم کمیٹی کی اولین ترجیح ہے اور امروہہ کی عوام نے ہمیشہ امن و محبت کی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کمیٹی مستقبل میں بھی اس طرح آپس میں جوڑنے والے پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

Continue Reading

uttar pradesh

رسول اللہؐ کے اہل بیت وصحابۂ کرامؓ عالم انسانیت کیلئے نجوم ہدایت، مسجد ایکمنارہ اکبری گیٹ لکھنؤ میں بارہ روزہ نبئ آخر الزّماںؐ کے آٹھویں جلسے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ: شہرلکھنؤ کی تاریخی یکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے ہونے والے بارہ روزہ نبئ آخر الزّماںؐ کا آٹھواں جلسہ استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صاحب صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ کی سر پر ستی وقاری محمد حزقیل امام مسجد ایکمنارہ کی نگرانی وسیّد محمّد اقبال کے زیر انتظام منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ چوک کے قاری محمّد حنظلہ وقاری محمد حسن کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔
جلسے کو خطاب کرتے ہوئے ادارۂ دارالمبلّغین پاٹانالہ چوک کےسینئر استاذ مولانا قاری محمد صدّیق امام و خطیب مسجد سبحانیہ پاٹانالہ نے کہا کہ حضرت محمّد مصطفٰیؐکی صحبت بہت بڑی چیز ہے اس امّت میں حضرات اہلبیت وصحابۂ کرامؓ کا رتبہ سب سے بڑا ھے ایک لمحہ کے لئے بھی جس کو رسول اللہؐ کی صحبت حاصل ہوگئ مابعد والوں میں بڑا سے بڑا بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا ۔
قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ حضرات اہلبیت وصحابۂ کرامؓ عالم انسانیت کے لئے نجوم ہدائت ہیں خصوصا خلفائے راشدینؓ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ سیّدنا فاروق اعظمؓ سیّدنا عثمان غنیؓ سیّدنا علیّ مرتضٰیؓ کا تذکرہ اور ان کے اوصاف وکمالات کا مطالعہ کر نے سے جو عظمت ورفعت رسولؐ خدا کی محبت جو دل میں پیدا ہوتی ہے وہ ہر گز کسی دوسرے طریقے سے نہیں ہو سکتی ان حضرات کی یاد میں ایمان کی قوّت وتازگی پیدا کرنے کی جو تاثیر ھے اس کو کسی اور چیز میں تلاش کر نا لا حاصل ھے۔
رسولؐ نے فرمایا کہ میرے اہلبیت وصحابۂؓ کی شان میں گستاخی مت کرو ان سے عقیدت اور محبت رکھو ان کے نقش قدم پر چلو یہ ایمان کی علامت ھے *** شعراء کرام جناب محمد سمیر محمّد بلال قاری محمد طہ محمّد کیف نے نعت ومدح صحابہؓ کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا جلسے میں محمّد معروف خاں گہنہ پیلس ذیشان جویلرس عیاض احمد صدّیقی ثنا جویلرس قاری محمّد نعمان ابوبکر وغیرہ موجود تھے جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق صاحب کی دعا پر ھوا ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network