(پی این این)
پٹنہ:ریاست میں مدارس کی تعلیمی صورتحال اور مدارس سے متعلق متعدد مسائل کے حل کے لیے آل بہار مدرسہ اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے کانفرنس ہال میں اتوار کو مدارس کنونشن کے انعقاد کے تعلق سے میٹنگ ہوئی ،جس میں ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے سیکڑوںارکان نے شرکت کی ۔
اس میٹنگ میںمدارس کے مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئےمدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے سابق پرنسپل مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی نے کہا کہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اورملحقہ مدارس کا قیام اسی مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منت ہیں ۔ لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس کے تعلیمی معیار میں گراوٹ آچکی ہے ۔ اس کی ایک اہم وجہ مدارس میں اساتذہ کی شدید کمی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مدارس سے متعلق ریاستی حکومت کی جانب سے ۱۹؍اپریل ۲۰۲۲کو جاری نوٹیفکیشن نمبر ۳۹۵؍ ۳۹۶؍۳۹۷؍کی وجہ سے مدارس میں اساتذہ کی تقرری کی راہ مسدود ہوگئی ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعہ مدارس کے اقلیتی درجہ اور اس کی خود مختاری پر حملہ کیاگیاہے،جو ایک منظم سازش ہے۔
انہوںنے اس نوٹیفکیشن کو انتہائی ناقص قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف اہل مدارس کو ہوش کے ناخن لے کر اس کی شدید مخالفت کرنی ہوگی اور حکومت کو یہ باور کراناہوگا ورنہ مدارس ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے۔ مدرسہ شمس الہدیٰ کے کنونشن کا یہ اہم ایجنڈا ہے ، جس کے تحت مدارس کی منتظمہ کمیٹیوں سے رابطہ کرکے بیداری پیداکرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ حکومت کو یہ باور کراناہوگا کہ مدارس میں اساتذہ کی تقرری کا طریقہ اسکولوں اور کالجوں سے الگ ہے ۔ اسکول کے قوانین مدارس پر تھوپنے کی وجہ سے مدارس کانقصان ہورہاہے اور دشواری پیداہورہی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھاناہوگا کہ مدارس کی تقرری مدارس کے اصول و ضوابط کے تحت کیے جاتے ہیں ۔ اس کے لیے حکومت پر دباؤ بناناہوگا تاکہ مدارس میں اساتذہ و دیگر عملے کی تقرری کی راہ جلد ہموار ہوسکے۔
مدرسہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل مولانا مشہود احمد قادری ندوی نے کہا کہ مدارس میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے درس و تدریس کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ اس کے لیے سیکنڈری ایجوکیشن ڈائریکٹر ذمہ دارہوتے ہیں۔ حکومت مدارس کےمسائل حل کرنا چاہتی ہے ، لیکن سرکاری حکام کے تبادلے کی وجہ سے مدارس کے مسائل جلد حل نہیں ہو پاتے ۔ اس کے لیے ہمیں حکومت پر دباؤ بنانا ہوگا۔اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے صدر عبدالقدوس نے مدارس اور مدرسہ بورڈ سے متعلق متعدد نکات کو آئندہ کارروائی کے لیے نشان زد کرتے ہوئے مدارس کے انتظامی امور ، تعلیمی معیار ،بورڈ کے نظام کو بہتر بنانے اور مدارس کودرپیش عملی مشکلات کے حل کرنے اور آئندہ کارروائی کا لائحہ عمل تیار کرنے پر زوردیا۔
محفوظ عالم نے کہا کہ مدارس کے تعلق سے میٹنگ تو بہت ہوتی ہے، لیکن اس کا فالو اپ نہیں ہوتا ،جس سے مدارس کے مسائل حل نہیں ہو پاتے ۔ اس کےلیے انہوں نے اہل مدارس کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ تنخواہ کے لیے تو سڑکوں پر نکلتے ہیں ،لیکن مدارس کے مسائل کے حل کے لیےکم نکلتے ہیں۔ اس کےعلاوہ استقبالیہ کمیٹی کی تشکیل کے لیے بھی تجویز پیش کی گئی ۔ میٹنگ سے خطاب کرنےوالوںمیں آرجے ڈی لیڈر سید محب الحسن ، مولانا ضیاء حسن ، مولانا آفتاب عالم ، مولانامیکائیل اور مولانا کلیم اختر کے نام شامل ہیں۔ میٹنگ کی صدارت مولانا ابوالکلام شمسی نےکی ،جبکہ نظامت نجم الحسن نے کی ۔
مدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منت
