(پی این این)
پٹنہ:بہار کے کئی انچلوں میں زمین مافیا اور محکمۂ محصولات کے افسران و ملازمین کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ سنڈیکیٹ سرکاری زمین کے جعلی اور فرضی کاغذات تیار کر کے پہلے ان کی رجسٹری کراتے ہیں۔
اس کے بعد محکمۂ محصولات کے انچل اہلکاروں کی مدد سے اس زمین کا داخل خارج بھی کرا لیتے ہیں۔ زمین مافیا اور افسران کا یہ گٹھ جوڑ کمزور اور بے سہارا لوگوں کی زمینوں پر بھی قبضہ کر رہا ہے۔ معاملے کی جانچ جاری ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں جلد ہی کوئی بڑی کارروائی کر سکتی ہیں۔
معلوم ہو کہ منظم زمین مافیا کے خلاف جاری جانچ کے دوران اقتصادی جرائم یونٹ (ای او یو) سمیت دیگر تفتیشی ایجنسیوں کو اس کا پتہ چلا ہے۔ تحقیقات کے دوران جموئی کے سکندرا، پٹنہ کے بختیارپور، خسروپور اور نوبت پور، مظفرپور ضلع کے مسہری سمیت ایک درجن انچلوں میں اس طرح کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ محکمہ کو کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ 18 انچلوں میں اس طرح کے گٹھ جوڑ کی اعلیٰ سطحی جانچ جاری ہے۔تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ زمین مافیا پہلے زمین کو متنازع بناتے ہیں۔ اس کے لیے زمین کا 80 سے 100 سال پرانا فرضی کِیوالہ یا متعلقہ دستاویز تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر زمین مافیا کے مختلف ارکان کے نام پر غیر قانونی طریقے سے رجسٹری کرا لی جاتی ہے۔ اس کے بعد ریونیو افسر کی من پسند رپورٹ حاصل کرکے داخل خارج کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ اس معاملے میں انچل افسر سے لے کر ریونیو افسر اور ریونیو اہلکاروں تک کے غیر قانونی کردار بھی سامنے آئے ہیں۔
اس دوران زمین کا اصل دعوے دار انچل افسر سے لے کر ڈی سی ایل آر اور ایڈیشنل کلکٹر تک شکایت درج کراتا ہے، لیکن طویل عرصے تک سماعت نہ ہونے کی وجہ سے زمین مافیا کا قبضہ برقرار رہتا ہے۔ اس سلسلے میں جاری تحقیقات کے دوران اقتصادی جرائم یونٹ (ای او یو) کی ٹیم کو ایسی کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
