تازہ ترین
چھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاکیوپی میںچیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایس پی کا احتجاج،غازی آباد،میرٹھ،رائے بریلی، باغپت اور مظفر نگرمیں سڑکوں پر اترےسماجوادی پارٹی کے کارکنان ،نکالاپیدل مارچ،ای سی آئی کا پتلا نذر آتشپارٹی کی توقعات پوری کرنے کی کروں گاکوشش ،صوبہ کا ر گزار صد منتخب ہونے کے بعد عمران مسعود کی میڈیا سے گفتگوجمعیۃ علماء کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ، مردم شماری اور ہندو- مسلم اتحاد کی حکمت عملی طےرام لیلا بھگوان شری رام کی اقدار کی زندہ روایت :ریکھا
Bihar

افسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے کئی انچلوں میں زمین مافیا اور محکمۂ محصولات کے افسران و ملازمین کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ سنڈیکیٹ سرکاری زمین کے جعلی اور فرضی کاغذات تیار کر کے پہلے ان کی رجسٹری کراتے ہیں۔
اس کے بعد محکمۂ محصولات کے انچل اہلکاروں کی مدد سے اس زمین کا داخل خارج بھی کرا لیتے ہیں۔ زمین مافیا اور افسران کا یہ گٹھ جوڑ کمزور اور بے سہارا لوگوں کی زمینوں پر بھی قبضہ کر رہا ہے۔ معاملے کی جانچ جاری ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں جلد ہی کوئی بڑی کارروائی کر سکتی ہیں۔
معلوم ہو کہ منظم زمین مافیا کے خلاف جاری جانچ کے دوران اقتصادی جرائم یونٹ (ای او یو) سمیت دیگر تفتیشی ایجنسیوں کو اس کا پتہ چلا ہے۔ تحقیقات کے دوران جموئی کے سکندرا، پٹنہ کے بختیارپور، خسروپور اور نوبت پور، مظفرپور ضلع کے مسہری سمیت ایک درجن انچلوں میں اس طرح کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ محکمہ کو کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ 18 انچلوں میں اس طرح کے گٹھ جوڑ کی اعلیٰ سطحی جانچ جاری ہے۔تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ زمین مافیا پہلے زمین کو متنازع بناتے ہیں۔ اس کے لیے زمین کا 80 سے 100 سال پرانا فرضی کِیوالہ یا متعلقہ دستاویز تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر زمین مافیا کے مختلف ارکان کے نام پر غیر قانونی طریقے سے رجسٹری کرا لی جاتی ہے۔ اس کے بعد ریونیو افسر کی من پسند رپورٹ حاصل کرکے داخل خارج کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ اس معاملے میں انچل افسر سے لے کر ریونیو افسر اور ریونیو اہلکاروں تک کے غیر قانونی کردار بھی سامنے آئے ہیں۔
اس دوران زمین کا اصل دعوے دار انچل افسر سے لے کر ڈی سی ایل آر اور ایڈیشنل کلکٹر تک شکایت درج کراتا ہے، لیکن طویل عرصے تک سماعت نہ ہونے کی وجہ سے زمین مافیا کا قبضہ برقرار رہتا ہے۔ اس سلسلے میں جاری تحقیقات کے دوران اقتصادی جرائم یونٹ (ای او یو) کی ٹیم کو ایسی کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں