تازہ ترین
سیتامڑھی کےنانپور میں شراب مافیا پر پولیس کا بڑا وار، وِنود ٹریڈرس کے گودام سے 4,447.8 لیٹر غیر ملکی شراب ضبط،8 شاطرگرفتارارریہ:اسکولوں میں ’’محفوظ بچپن مہم‘‘ کے تحت بیداری پروگرام منعقدگیاجی: ایس آئی کے گھر سے 2 لاکھ نقد اور 12 لاکھ کے زیورات کی چوریتعلیمی بیداری اور معیار سے ہی ترقی کرے گامعاشرہ : منوری بیگم، دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں ہونہار طلباکے اعزاز ی پروگرام کا انعقادمدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت: پروفیسر خواجہ اکرام الدین, شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ پرآن لائن پروگرام کا انعقادمنوج تیواری نے جمنا میںلگائی ڈبکی ،کیجریوال کو بھی دعوتمرحوم نارنگ ساقی کی یاد میں آل انڈیا مشاعرہتیجسوی یادو نے مرحوم حاجی شفیق خاں کو پیش کیا خراجِ عقیدت، مہسول قبرستان میں قبر پر چادر چڑھائی، مدنی مسافر خانہ میں تصویر پر گل پوشی کے بعد سوگوار اہل خانہ سے کی ملاقات
Bihar

دربھنگہ میں ٹریفک جام سے عوام بے حال،مریضوں اور اسکولی بچوں کوسخت پریشانیوں کا سامنا، نظرعالم نے ضلع کے ڈی ایم، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کوبھیجا مکتوب

(پی این این)
دربھنگہ: شہر میں سڑکوں اور اوور بریج کی تعمیر کے باعث بڑھتی ہوئی ٹریفک جام کی مشکل کو لے کر جنتادل یونائیٹڈ، بہار کے رکن اور آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو الگ الگ مکتوب لکھ کر فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے مکتوب میں انہوں نے کہا ہے کہ شہر کی بیشتر اہم شاہراہوں پر روزانہ کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام رہتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر مریضوں، ایمبولینس، اسکولی بچوں، خواتین، بزرگوں اور عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر اسپتال اور میڈیکل علاقے کی طرف جانے والے راستوں پر مریضوں کو بروقت علاج اور لوگوں کو دوائیں لانے لے جانے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
نظرعالم نے کہا کہ ترقیاتی کام ضروری ہیں، لیکن اس کے ساتھ بہتر ٹریفک نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی مقامات اور اہم چوراہوں پر مناسب تعداد میں ٹریفک پولیس تعینات کی جائے اور ون وے نظام پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چالان کاٹنے کے وقت چوراہوں پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار نظر آتے ہیں، لیکن جب ایمبولینس ٹریفک جام میں پھنسی ہوتی ہے، اسکولی بچے گھنٹوں بھوک، پیاس اور گرمی میں پریشان رہتے ہیں، اور مریضوں سمیت عام لوگوں کو طویل وقت تک ٹریفک جام میں پھنسے رہنا پڑتا ہے، اس وقت کئی مقامات پر ٹریفک انتظامات مؤثر نظر نہیں آتے۔ اس سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
نظرعالم نے اپنے مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ جام سے متاثرہ علاقوں میں اضافی ٹریفک پولیس تعینات کی جائے، اسپتال جانے والے راستوں پر ایمبولینس کی بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے، اسکول کے اوقات میں خصوصی ٹریفک انتظامات کیے جائیں اور تعمیراتی ایجنسیوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان بہتر تال میل قائم کر کے ٹریفک نظام کو ہموار بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا مقصد عام لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ڈی ایم، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین عوامی مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ شہر کے لوگوں، مریضوں، اسکولی بچوں اور عام شہریوں کو روزانہ لگنے والے ٹریفک جام سے راحت مل سکے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔