تازہ ترین
تیجسوی یادو نے مرحوم حاجی شفیق خاں کو پیش کیا خراجِ عقیدت، مہسول قبرستان میں قبر پر چادر چڑھائی، مدنی مسافر خانہ میں تصویر پر گل پوشی کے بعد سوگوار اہل خانہ سے کی ملاقاتووٹ بچاؤ، ملک بچاؤریلی کے تحت یکم نومبر کوچلیں دہلی ، بلند کریںجمہوریت کی آواز : تابش پٹیلسارن میں اندوہناک سڑک حادثہ، بے قابو ٹرک کی ٹیمپو سے ٹکر،4 افراد ہلاک، 2 زخمی، گاڑی کاٹ کر نکالی گئی لاشیںویشالی میں محفوظ نقل وحمل کے تعلق سے کشتیوں کی جانچجمعیت علماء ہند نے ہر دور میں مسلمانوں کی رہنمائی کا انجام دیا ہے فریضہ: مفتی عفان منصورپورییوپی کے ڈی جی پی راجیو کرشن سخت، ریاست کے 9 اضلاع کے 10 تھانہ انچارجوں کے خلاف کارروائی کی ہدایتبجنور میں فلم’ پشپا‘ کی طرز پر شراب کی اسمگلنگموبائل فون جسمِ انسانی کو مفلوج کرسکتا ہے‘ اس کے استعمال میں احتیاط لازمی: مولانا خلیل احمد ندوی نظامی
دلی این سی آر

ٹاٹا پاور- ڈی ڈی ایل اور این سی آر ٹی سی کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط

نئی دہلی:: ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل نے مجوزہ دہلی-پانی پت-کرنال نمو بھارت (آر آر ٹی ایس) کوریڈورپرالیکٹریکل یوٹیلٹیزکی منتقلی میں تعاون کے لیے نیشنل کیپٹل ریجن ٹرانسپورٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این سی آر ٹی سی) کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔
آرآرٹی ایس کوریڈورکی لمبائی تقریباً 136.3 کلومیٹرہے اوراس پرمجموعی طورسے 21اسٹیشن ہیں۔ ان میں سے 6 اسٹیشن دہلی اور 15 ہریانہ میں واقع ہوں گے۔ اس کوریڈور کے شروع ہونے کے بعد قومی راجدھانی خطے کے باشندوں کو تیز رفتارٹرانسپورٹیشن نظام کافائدہ ملے گا۔ نمو بھارت ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 180 کلومیٹر فی گھنٹہ، جبکہ معمول کی اوسط رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اورہر 5 سے 10 منٹ کے وقفے سے ٹرین دستیاب ہو گی۔کوریڈور میں 124.82 کلومیٹرایلیویٹیڈاور 11.48 کلومیٹر زیر زمین ٹریک شامل ہیں۔
ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل کی جانب سے کرن گپتا( چیف کسٹمر ایکسپیرینس، کمرشل اینڈ کارپوریٹ کمیونیکیشنز)نیز این سی آر ٹی سی کی جانب سے کمپنی سکریٹری وجے کمار نے راہل کمارایس سی ایم،انوراگ کھوراناایچ اوڈی(جی اینڈآئی،این بی ایس اینڈالیکٹریفکیشن)سمیت دونوںاداروںکے سینئرافسران کی موجودگی میںمفاہمت نامے پر دستخط کیے۔
اس قومی اہمیت کے منصوبے کی نگرانی حکومت ہند کے پی ایم جی پورٹل کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل بجلی کے ای ایچ وی، ایچ ٹی اور ایل ٹی نیٹ ورکس کی منتقلی اور نئی جگہوں پر تنصیب کے لیے ضروری نگرانی اور منظوری فراہم کرے گا۔ اس کا مقصد تعمیراتی کام کو بلارکاوٹ جاری رکھنا اور حفاظت، قابلِ اعتماد خدمات اور قانونی ضوابط کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔
اس کوریڈور کے راستے میں 765، 400، 132 اور 66 کلو واٹ سمیت 38 ای ایچ وی ٹرانسمیشن لائنیںہیںجبکہ 33، 11 اور 415 واٹ پربھی کئی لائنیںہیں۔ان کے علاوہ دیگرکئی بجلی آلات جیسے ٹرانسفارمروغیرہ بھی شامل ہیں۔ان سہولیات کی دیکھ بھال بی ایس ای ایس، ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل، یو ایچ بی وی این ایل، ایچ وی پی این ایل، پاور گرڈ، بی بی ایم بی اور جے کے ٹی پی ایل سمیت کئی ایجنسیوںکے ذریعہ کیاجاتاہے اورمجوزہ کوریڈورپرتعمیری کام کے مدنظرانہیںمنتقل یابحال کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ معاہدہ قومی راجدھانی خطےہ(این سی آر)میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے کی سمت میںایک اہم قدم ہے۔ اس سے پائیدار شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، جدید سفری سہولیات کے فروغ اور بجلی کی تقسیم کے نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے اہم عوامی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔
اس اشتراک کے بارے میں ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل کی چیف کسٹمر ایکسپیرینس، کمرشل اینڈ کارپوریٹ کمیونیکیشنز کرن گپتا نے کہا کہ این سی آر ٹی سی کوریڈور بڑے پیمانے کا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے، جو علاقائی رابطوں کو نئی جہت دینے کے ساتھ اقتصادی ترقی کو بھی رفتار فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹاٹا پاور-ڈی ڈی ایل نیٹ ورک کی بروقت اور مو ¿ثر منتقلی کے ذریعے اس قومی اہمیت کے منصوبے میں تعاون کر رہا ہے۔ اس عمل کے دوران صارفین کو بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ کوششیں ملک کی تعمیر اور آنے والی نسلوں کو بااختیار بنانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔بجلی کی تنصیبات اور نیٹ ورکس کی منتقلی کا کام شروع ہونے کے بعد تقریباً ایک سال کے اندر مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں