تازہ ترین
تیجسوی یادو نے مرحوم حاجی شفیق خاں کو پیش کیا خراجِ عقیدت، مہسول قبرستان میں قبر پر چادر چڑھائی، مدنی مسافر خانہ میں تصویر پر گل پوشی کے بعد سوگوار اہل خانہ سے کی ملاقاتووٹ بچاؤ، ملک بچاؤریلی کے تحت یکم نومبر کوچلیں دہلی ، بلند کریںجمہوریت کی آواز : تابش پٹیلسارن میں اندوہناک سڑک حادثہ، بے قابو ٹرک کی ٹیمپو سے ٹکر،4 افراد ہلاک، 2 زخمی، گاڑی کاٹ کر نکالی گئی لاشیںویشالی میں محفوظ نقل وحمل کے تعلق سے کشتیوں کی جانچجمعیت علماء ہند نے ہر دور میں مسلمانوں کی رہنمائی کا انجام دیا ہے فریضہ: مفتی عفان منصورپورییوپی کے ڈی جی پی راجیو کرشن سخت، ریاست کے 9 اضلاع کے 10 تھانہ انچارجوں کے خلاف کارروائی کی ہدایتبجنور میں فلم’ پشپا‘ کی طرز پر شراب کی اسمگلنگموبائل فون جسمِ انسانی کو مفلوج کرسکتا ہے‘ اس کے استعمال میں احتیاط لازمی: مولانا خلیل احمد ندوی نظامی
دلی این سی آر

وزیر اعلیٰ نے گھر بیٹھے شراب بُک کرنے کی پالیسی لاکر خواتین کو کروا چوتھ کا دیاتحفہ: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی:بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت نے دیوالی سے قبل دہلی کے لوگوں کو گھر بیٹھے اپنی پسند کی شراب بُک کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی عام آدمی پارٹی نے سخت مخالفت کی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی ایسی پالیسی لے کر آئی ہے جس کا نعرہ ہے، ہر ہر ریکھا، گھر گھر ٹھیکہ۔
اس پالیسی کے تحت لوگ گھر بیٹھے شراب بُک کر سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یہ پالیسی لاکر خواتین کو کروا چوتھ کا تحفہ دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو شراب پینے والوں اور شراب کے کاروباریوں کی تو فکر ہے، لیکن اسپتالوں میں دوائیں، بچوں کے لیے کتابیں اور مریضوں کو وقت پر ایمبولینس فراہم کرنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے ریکھا گپتا حکومت کو 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے یہ پالیسی واپس نہیں لی تو عام آدمی پارٹی بڑی تحریک چلائے گی۔
بدھ کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی حکومت کا حال یہ ہے کہ ہر ہر ریکھا، گھر گھر ٹھیکہ۔ دہلی کے اسپتالوں میں کوئی بے بس مریض آتا ہے، پانچ گھنٹے تک ڈائلیسس کراتا ہے اور اس کے بعد دوائیں حاصل کرنے کے لیے مزید پانچ گھنٹے قطار میں کھڑا رہتا ہے۔ ریکھا گپتا کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مریضوں کو قطار میں کیوں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ انہیں فکر ہے کہ شراب پینے والوں کو قطار میں کیوں کھڑا ہونا پڑے؟ ان کے نزدیک تو شراب پینے والوں کے پاس بہت ضروری کام ہیں۔ شراب پی کر گھر میں بیوی کو پیٹنا ہے اور پڑوسیوں سے لڑائی کرنی ہے۔ ریکھا گپتا کو شراب پینے والوں کے وقت کی بہت فکر ہے، اسی لیے وہ کہہ رہی ہیں کہ کوئی شراب پینے والا قطار میں نہ لگے، بلکہ گھر بیٹھے شراب کا آرڈر کرے۔
ریکھا گپتا حکومت ان کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ کیجریوال حکومت کی جانب سے خواتین کو دی گئی مفت بس سفر کی سہولت بھی بی جے پی سے برداشت نہیں ہوئی۔ اس سہولت کو بند کرکے خواتین سے کہا گیا کہ وہ پنک کارڈ بنوائیں۔ خواتین دو دو دن سے قطاروں میں کھڑی ہیں، لیکن حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دہلی میں ایک تہائی لوگوں کے ووٹ کاٹ دیے گئے ہیں اور وہ بے چارے ایس آئی آر کے سبب قطاروں میں کھڑے ہیں، لیکن حکومت کو ان کی بھی کوئی فکر نہیں ہے۔
ایس سی، ایس ٹی سرٹیفکیٹ بنوانا ہو یا آمدنی کا سرٹیفکیٹ، لوگ ایس ڈی ایم کے دفاتر میں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، لیکن ریکھا گپتا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ اگر کوئی شراب پینے والا قطار میں کھڑا ہو تو اس کے لیے ہر طرح کا انتظام ہونا چاہیے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ خاص طور پر خواتین کے معاملے میں تو پہلے دن سے ہی ریکھا گپتا کی خصوصی عنایت رہی ہے۔ انہوں نے سوچا کہ ہماری بہنیں کروا چوتھ کا تہوار منائیں اور شراب بُک نہ ہو سکے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی لیے کروا چوتھ سے ٹھیک ایک دن پہلے یہ اعلان کردیا گیا کہ خواتین روزہ نما ورت رکھیں اور شوہر شراب بُک کریں۔ کروا چوتھ کے موقع پر یہ ریکھا گپتا کی جانب سے دہلی کی تمام خواتین کے لیے ایک واضح تحفہ ہے کہ وہ گھر بیٹھے شراب بُک کریں۔ سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ ہم نے ریکھا گپتا کو خبردار کیا ہے کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر یہ اسکیم بند نہیں کی گئی تو ہم وزیر منجندر سنگھ سرسا کا استعفیٰ لے کر رہیں گے۔ ہم انہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں اور استعفیٰ لے کر ہی دم لیں گے۔ ہم اتنی بڑی تحریک چلانے جا رہے ہیں کہ حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔ ہم ریکھا گپتا حکومت کو 24 گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں۔ اگر ریکھا گپتا نے یہ پالیسی واپس نہیں لی تو دہلی میں اتنی بڑی تحریک چلائی جائے گی کہ پولیس دیکھتی رہ جائے گی۔ ہم انہیں حکومت نہیں چلانے دیں گے۔ ہم واضح طور پر خبردار کر رہے ہیں کہ صرف 24 گھنٹے کا وقت ہے۔ ریکھا گپتا اس اسکیم کو واپس لیں اور دہلی کی خواتین سے معافی مانگیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ کوئی بھی گروگرام یا نوئیڈا جاکر دیکھ لے کہ وہاں شراب کے کتنے بڑے بڑے ٹھیکے ہیں، جیسے کوئی ہوائی اڈہ ہو، اور وہ رات 10 بجے بند بھی نہیں ہوتے۔ رات ایک یا دو بجے تک شراب کی دکانیں کھلی رہتی ہیں۔ دہلی سے متصل بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں ہریانہ اور اتر پردیش ہیں۔ گروگرام اور فریدآباد میں جگہ جگہ شراب کے ٹھیکے نظر آئیں گے۔ پانچ کلومیٹر تک چلنے پر شاید ایک بھی اسکول نہ ملے، لیکن شراب کے سات آٹھ ٹھیکے ضرور مل جائیں گے۔ سوربھ بھاردواج کے مطابق بی جے پی نے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ سمیت عام آدمی پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں کے خلاف ایکسائز پالیسی کے نام پر جھوٹا مقدمہ بنایا۔ جیسے ہی یہ معاملہ عدالت میں پہنچا، عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ تو فردِ جرم عائد کرنے کے لائق بھی نہیں ہے۔ عدالت نے بی جے پی کی چارج شیٹ کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حقیقت یہی ہے کہ ہر ہر ریکھا، گھر گھر ٹھیکہ۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ دہلی میں ریکھا گپتا حکومت کی خصوصی خدمت اب گھر گھر شراب پہنچانے کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ گھر بیٹھے شراب منگوانے کے لیے لکر ایپ شروع کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کی شراب پالیسی کے تحت ایک ایک وارڈ میں شراب کی 10 سے 15 دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ڈی ڈی اے کی بعض مارکیٹوں اور مالز میں بھی 25-25 دکانیں موجود تھیں۔ منیش سسودیا نے کہا کہ ہماری حکومت نے اس نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک وارڈ میں زیادہ سے زیادہ تین دکانوں کی حد مقرر کی تھی، لیکن بی جے پی نے یہ افواہ پھیلائی کہ گلی گلی شراب کی دکانیں کھولی جارہی ہیں۔ بعد میں عدالت میں بی جے پی کے تمام جھوٹ بے نقاب ہوگئے۔ اب یہی لوگ گلی گلی نہیں، بلکہ گھر گھر شراب پہنچانے کی پالیسی لے کر آگئے ہیں۔ بچوں کو اسکول چاہیے تو وہ دستیاب نہیں، اسپتالوں میں دوائیں چاہیے تو وہ نہیں ملتیں، لیکن گھر گھر شراب ضرور مل جائے گی۔ وہیں، میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے کہا کہ ملک کی راجدھانی دہلی میں بی جے پی کی چار انجن والی حکومت ایک انوکھی اسکیم لے کر آئی ہے۔ ایک طرف مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ملک کو نشے سے پاک بنانے کے لیے بڑے بڑے بیانات دیتے ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی حکومت دہلی میں گھر بیٹھے شراب منگوانے کی سہولت فراہم کرنے جارہی ہے۔ آخر بی جے پی کا یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ کیا نوجوانوں کو نشے سے بچانا ہے یا شراب کی دستیابی کو مزید آسان بنانا ہے؟

متعلقہ خبریں